ایک شیر کا بچہ گُم ہو گیا اور بھیڑوں میں پلنے لگ گیا۔ وہ شیر تھا لیکن بھیڑوں میں رہ گیا اور بھیڑوں جیسی حرکتیں کرنے لگ گیا۔
ایک دن ایک بزرگ شیر نے دیکھا کہ ہے تو یہ شیر لیکن بھیڑوں میں رہ رہا ہے۔
اس نے بچے کو پکڑا اور کہا کہ تُو شیر ہے۔بچے نے کہا کہ میں تو بھیڑ ہوں۔شیر نے کہا کہ تُو اور ہے اور یہ لوگ اور ہیں کیونکہ تیری جنس اور ہے۔اس بچے نے کہا کہ مجھے کیا پتہ کہ میری جنس اور ہے، اور یہ مجھے کس طرح پتہ چلے گا۔
اس بزرگ شیر نے کہا کہ میں تمہیں تمہاری جنس دکھاتا ہوں۔اس نے ایک بھیڑ کو جھپٹا مارا اورکھا گیا، اور بچے کو کہا کہ میرا یہ عمل دیکھا ہے؟ اُس نے کہا کہ جی دیکھا ہے۔پھر وہ اس کو ایک تالاب پر لے گیا اور کہا کہ تالاب کے پانی میں دیکھو کہ میری شکل یہ ہے اور تیری شکل بھی میرے جیسی ہے۔
جب اس بچے نے اپنی شکل پانی کے آئینے میں دیکھی تو اسے پتہ چلا کہ وہ بھی شیر ہے۔تو اُس نے کہا کہ چل اب تُو بھی بھیڑ کو پکڑ اور کھا جا !!!
ایک بار آئینے میں پہنچنے کی دیر ہے اور آگے کھیل رُوح کا اپنا ہے۔بس آپ کی آئینے تک رسائی ہوتی ہےاور رُوح کو آئینے تک دریافت کرنا ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔ واصف علی واصف....
- Read more...
- 2 comments
- 1,303 views