Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'بات'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 8 results

  1. یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
  2. بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو ۔۔۔۔سلام ہو گا ناں ؟؟ کبھی کبھار ہی لیکن ۔۔پکارتے ہیں تجھے ہمارا چاہنے والوں میں نام ۔۔۔ہو گا ناں ؟؟ افتخار شاہد
  3. Urooj Butt

    بھلے دنوں کی بات ہے

    بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہےنہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہونہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخنکبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بنسنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہےشجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہےنہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوںنہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہیجب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
  4. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  5. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  6. Zarnish Ali

    ضروري بات

    ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻨﯽ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻋﺪﮦ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼﻧﺎ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﯾﺮ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﯿﺮ ﻧﯿﺎﺯﯼ
  7. Anabiya Haseeb

    poetry چھوٹی سی بات

    چھوٹی سی بات کو دل پہ لگا کر، چلے گئے آپ کچھ تو کہا ہوتا، بنا کچھ کہے، چلے گئے آپ لڑتے تھے جھگڑتے تھے پر محبت تو تھی ایسے تنہا چھوڑ کے ہمیں، چلے گئے آپ روٹھنےمنانے کے جو موسم آتے تھے پل پل وہ پیار بھرے موسم چھوڑ کے، چلے گئے آپ کیا گناہ کیا، کیا خطا ہوئی؟ کچھ تو کہا ہوتا یوں تنہائيوں میں قید کرکے، کہاں چلے گئے آپ چھوڑ ہزاروں غم کے آنسو پلکوں میں ہماری یوں بنا کچھ کہے ہم سے، چلے گئے آپ
  8. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو ساحل سے کہ سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں رکھا تھا آئینہ دل میں چھپا کے تم کو وہ گھر چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں تم نے ہی آئینہ دل میرا بنایا تھا تم نے ہی توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں بالآخر زیست کے قابل بنا ہوں میں بڑی مشکل سے پتھر دل بنا ہوں میں وہ آئے ہیں سراپائے مجسم بن کر میں گھبرا کر مجسمہ دل بنا ہوں جہاں مقتول ہی ٹھہرے ہیں مجرم یہی کچھ سوچ کے قاتل بنا ہوں میں بڑا محتاط ہوں تیری محفل میں تیری جانب سے سو غافل بنا ہوں میں میں کھا کر ٹھوکریں تیری گلیوں کی بڑا مرشد بڑا کامل بنا ہوں میں کوئی سمجھے گا کیا مجھ کو خود اپنے لیے مشکل بنا ہوں میں یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
×