Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'گئے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 7 results

  1. آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے جانے لگے ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں، آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں اک مصور سے بھی ہوگئی دوستی، اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی، کیا کہیں ہم سے کیا بدحواسی ہوئی کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی، بات جو تھی چھپانی، بتانے لگے عشق بے گھر کرے، عشق بے در کرے، عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی، آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے جاوید اختر
  2. تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے غالب تمہارے سارے طرفدار مر گئے جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں احساس کے نئے نئے اظہار مر گئے تشبیہہ وا ستعار ہ ور مزو کنایہ کیا پیکر تراش شعر کے فنکار مر گئے ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مر گئے تقدیسِ دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی شَاید غزل کے سَارے گناہ گار مر گئے شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے اُردو غزل میں جتنے تھے کفّار مر گئے اخبار ہو رہی ہے غزل کی زبان اب اپنے شہید آٹھ ،اُدھر چار مر گئے مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کر دیا گیتوں کے پختہ کار گلوکار مر گئے اسلوب تحت اتنا گرجدار ہو گیا مہدی حسن کے حاشیہ بردار مر گئے تنقیدی اصطلاحوں کے مشتاق شہ سوار گھوڑوں پہ دوڑے آئے تھے سردار مر گئے ناز و ادا سے مچھلیاں اب ہیں غزل سرا تہمد پکڑ کے صاحبِ دستار مر گئے یا رب طلسمِ ہو ش رہا ہے مُشَاعرہ جن کو نہیں بُلایا، وہ غم خوار مر گئے بشیر بدر
  3. خوش گذران شہر غم ، خوش گذراں گزر گئے زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے وادی غم کے خوش خرام ، خوش نفسان تلخ جام نغمہ زناں ، نوازناں ، نعرہ زناں گزر گئے سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کہ وہ گروہ صر صر بے اماں کے ساتھ ، دست فشاں گزر گئے زہر بہ جام ریختہ، زخم بہ کام بیختہ عشرتیان رزق غم ، نوش چکاں گزر گئے اس در نیم وا سے ہم حلقہ بہ حلقہ صف بہ صف سینہ زناں گزر گئے ، جامہ وراں گزر گئے ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا! ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے اس کی وفاکے باوجود اس کو نہ پا کے بد گماں کتنے یقیں بچھڑ گئے ، کتنے گماں گزر گئے مجمع مہ وشاں سے ہم زخم طلب کے باوجود اپنی کلاہ کج کیے ، عشوہ کناں گزر گئے خود نگران دل زدہ ، دل زدگان خود نگر! کوچہ ءِ التفات سے خود نگراں گزر گئے اب یہی طے ہوا کہ ہم تجھ سے قریب تر نہیں آج ترے تکلفات دل پہ گراں گزر گئے رات تھی میرے سامنے فرد حساب ماہ و سال دن ، مری سرخوشی کے دن، جانے کہاں گزر گئے کیا وہ بساط الٹ گئی، ہاں وہ بساط الٹ گئی کیا وہ جواں گزر گئے ؟ ہاں وہ جواں گزر گئے جون ایلیا
  4. آہن کی سُرخ تال پہ ہم رقص کر گئے تقدیر تیری چال پہ ہم رقص کر گئے پنچھی بنے تو رفعتِ افلاک پر اُڑے اہل زمیں کے حال پہ ہم رقص کر گئے کانٹوں سے احتجاج کیا ہے کچھ اس طرح گلشن کی ڈال ڈال پہ ہم رقص کر گئے واعظ ! فریبِ شوق نے ہم کو لُبھا لیا فردوس کے خیال پہ ہم رقص کر گئے ہر اعتبارِ حُسنِ نظر سے گُزر گئے ہر حلقہ ہائے جال پہ ہم رقص کر گئے مانگا بھی کیا تو قطرہء چشمِ تصرفات ساغر تیرے سوال پہ ہم رقص کر گئے
  5. یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر
  6. مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟ اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
  7. تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ اک غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے اے یاد یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں اے درد ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہو گئے روتے ہوئے اک جزیرہ جاں کو فراز تم دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے
×