Jump to content
News Ticker
  • Welcome to Fundayforum.com
  • Please Register Your ID For More Access.

Search the Community

Showing results for tags 'ahmed faraz'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 27 results

  1. Urooj Butt

    بھلے دنوں کی بات ہے

    بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہےنہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہونہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخنکبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بنسنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہےشجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہےنہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوںنہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہیجب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
  2. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  3. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز )
  4. پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
  5. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  6. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  7. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate Shikwa e Zulmat e Shab Sey Tou Behter Tha Apney Hissay Ki Koi Shamma Jalatay Jatay Kitna Asaan Tha Teray Hijr Mein Marna Janaa Phir Bhee Ik Umr Lagi Jaan Se Jatay Jatay Jashn e Maqtal Hi Na Barpa Hua Warna Hum Pa’ Bajoulaan Hi Sahi, Nachte Gaate Jatay Us Ki Woh Jane Usey Pass e Wafa Tha Keh Na Tha Tum Apni Taraf Se To Faraz Nibhate Jate. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate...
  8. Zarnish Ali

    poetry جو چل سکو تو....

    ﺟﻮ ﭼﻞ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ____ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺷﻌﻠﮕﯽ ﮨﻮ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺗﮭﺎ ____ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮐﺎ ﺟﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻣﺎﮞ ____ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ____ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ ____ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺠﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺭﺧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ____ ﻣﺤﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖِ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ____ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ____ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ____ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
  9. Momina Haseeb

    poetry Mein ab bikhar jaun tu behtar ha

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
  10. سراپا اشک ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
  11. Suna hai log usay aankh bhar kay daikhtay hain, So us kay sheher main kuch din theher kay daikhtay hain, Suna hai rabt hai usko kharab haaloun say, so apnay aap ko barbaad kar kay daikhtay hain, Suna hai dard ki gahak hai chashm-e-naaz uski, so ham bhi us ki gali say guzar kay daikhtay hain, suna hai us ko bhi hai sher o shayari say shaghaf, so ham bhi mojzay apnay hunar kar dekhtay hain, suna hai bolay to batoun say phool jhartay hain, yeh bat hai t chalo bat kar kay daikhtay hain, Suna hai rat usay chand takta rehta hai, sitaray baam e falat se utar kay daikhtay hain, suna hai din ko usay titliyan stati hain, suna hai rat ko jugno theher kay daikhtay hain, suna hai hashr hain us ki ghazaal si ankhain, suna hai us ko hiran dhasht bhar kay daikhtay hain, suna hai us ki syah chashmagi qayamat hai, so usko surmah faroosh aah bhar kay dekhtay hain, Suna hai us kay laboun say ghulab jaltay hain, so ham bahar pay ilzam dhar kay daikhtay hain, suna hai aaina tamsaal hai jabeen us ki, jo saada dil hain usay ban sanwar kay daikhtay hain, suna hai us k badan ki tareash aisi hai, k phool apni kabayen katar kay daikhtay hain, bas ik nigaah main lut’ta hai qaafila dil ka, so rah rawan e tamanna bhi dar k daikhtay hain, suna hai us kay shabistaan say mutasssil hai bakhisht, makeen udhar kay bhi jalway idhar kay dekhtay hain, kisay naseeb kay be pairhan usay daikhay, kabhi kabhi dar-o-deewar ghar kay dekhty hain, rukay to ghardishain uska taqaaf karti hain, chalay to usko zamanay theher k daikhtay hain, kahaniyan hi sahi, sab mubalghay hi sahi, agar yeh khwab hai tabeer hai tabeer kar kay daikhtay hain ab us kay sheher main thehrain kay kooch kar jayen, Faraz aao sitaray safar kay daikhtay hain,
  12. Hum tu yun khush th ky ik taara girebaan mai hy ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے - ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے - میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے - فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے - سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے - دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے - خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے
    Ahmad Fraz Poetry Waiting for love Sad Poetry
  13. قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانے مانگے زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ سدا آئنہ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔ !!....مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے احمد فرازؔ
  14. ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍُﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﮭﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭼﻠﻮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺑﻂ ﮬﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﺣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﮕﻨﻮ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﺵ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﮐﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺷﻐﻒ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺠﺰﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮬُﻨﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﮔﺎﮨﮓ ﮨﮯ ﭼﺸﻢِ ﻧﺎﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺣﺸﺮ ﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﮨﺮﻥ ﺩﺷﺖ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﭼﺸﻤﮕﯿﮟ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺳُﺮﻣﮧ ﻓﺮﻭﺵ ﺁﮦ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﺍُﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﮑﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺑﺎﻡِ ﻓﻠﮏ ﺳﮯ ﺍُﺗﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﺎﮐﻠﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﺎﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮩﺎﺭ ﭘﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﺒﺴﺘﺎﮞ ﺳﮯ ﻣُﺘﺼﻞ ﮨﮯ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﮑﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﻮﮮ ﺍِﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺗﻤﺜﺎﻝ ﮨﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺳﺎﺩﮦ ﺩﻝ ﮨﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺑﻦ ﺳﻨﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭼﺸﻢِ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﺷﺖِ ﺍِﻣﮑﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮓ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺭُﮐﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﺩﺷﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺲ ﺍِﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﻟُﭩﺘﺎ ﮨﮯ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﻮ ﺭﺍﮨﺮﻭﺍﻥِ ﺗﻤﻨّﺎ ﺑﮭﯽ ﮈﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﮐُﻮﭺ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻓﺮﺍﺯ ﺁﺅ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ (ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ)
  15. --- احمد فراز --- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے کتنا آسان تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اس پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
  16. اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں ہم اگر منزلیں نہ بن پائے منزلوں تک کا راستا ہو جائیں دیر سے سوچ میں ہیں پروانے راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں ( احمد فراز )
  17. اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
  18. Anabiya Haseeb

    poetry Phir Usi Raah Guzar Par Shayad

    Phir Usi Raah Guzar Par Shayad Hum Kabhi Mil SakeiN Magar, Shayad Jinke Hum Muntazar Rahe Unko Mil gaye Aur Humsafar Shayad Jaan Pahchaan Se Bhi Kya Hoga Phir Bhi Ae Dost, Ghaur Kar Shayad Ajnabeeyat ki Dhund Chhat Jaye Chamak Utthe Teri Nazar Shayad Zindagi Bhar Lahu Rulaayegi Yaad-e-Yaaran-e-Bekhabar Shayad Jo Bhi BichhRe Wo Kab Mile haiN ‘FARAZ’ Phir Bhi Tu Intezaar kar Shayad..!!!
  19. یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت وگرنہ ترکِ تعلق کی صورتیں تھیں بہت ملے تو ٹوٹ کے روئے نہ کھل کے باتیں کیں کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت بھلا دیئے ہیں تیرے غم نے دکھ زمانے کے خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا؟ امیرِ شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہاوگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت احمد فراز
  20. Zarnish Ali

    Shula Th Jal Bojha Hun

    ﺷﻌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻞ ﺑﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺟﻮ ﺯﮨﺮ ﭘﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ ﺳﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺧﺴﺮﻭﺍﻥِ ﺷﮩﺮ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﻮﮞ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﮐﺐ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯؔ
  21. Safa mughal

    ghazal Hum juda kisse huye

    دن کو مسمار ہوئے ، رات کو تعمیر ہوئے خواب ھی خواب فقط ، روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے ، پھر بھی ورق ساده رہا جانے کیا لفظ تھے ، جو ھم سے نا تحریر ھوئے یہ الگ دکھ ہے کے ، ہاں تیرے دکھوں سے آزاد یہ الگ قید ہے ہم ، کیوں نا زنجیر ہوئے دیده و دل میں تیرے ، عکس کی تشکیل سے ہم دھول سے پھول ہوئے ، رنگ سے تصویر ہوئے کچھ نهیں یاد گزشتہ شب کی محفل میں فراز هم جدا کس سے ہوئے ، کس سے بغل گیر ہوئے
  22. Zarnish Ali

    nazar ata haika tum ho

    ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮮ ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ ، ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﺳﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﮬﮯ ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮬﮯ ، ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﭘﻞ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺩﮬﻨﺪ ﮬﮯ ، ﺑﺎﺩﻝ ﮬﮯ ، ﺳﺎﯾﮧ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ؟؟ ﺍﺱ ﺩﯾﺪ ﮐﯽ ﺳﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ , ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮬﯿﮟ ﻟﺮﺯﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﮞ , ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﮯ , ﺩﻧﯿﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ؟؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮬﯿﮟ , ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ؟؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ , ﮐﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﮬﺮ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺿﻮﻉِ ﺳﺨﻦ ﺩﻝِ ﺯﺩﮔﺎﮞ ﮐﺎ ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮬﮯ , ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮬﮯ ، ﻟﯿﻠﯽٰ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﻼ ﮬُﻮﺍ , ﺻﺤﺮﺍ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮬُﻮﮞ ﺍﮎ ﻣﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮬُﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ , ﮐﮧ ﺩﻝِ ﺯﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮬﻢ ﺳﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺁﺑﺎﺩ ﮬﻢ ﺁﺷﻔﺘﮧ ﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﻣﻘﺘﻞ ﯾﮧ ﺭﺳﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮮ ﺟﺎﻥِ ﻓﺮﺍﺯ !! ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﮐﺴﮯ ﺗﮭﯽ ﮬﻢ ﮐﻮ ﻏﻢِ ﮬﺴﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ” ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
  23. اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے اس کی آنکھوں‌کو مرے زخم کی گہرائی دے تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو ان کو پتھر نہیں‌ دیتا ہے تو بینائی دے جس کی ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے وہ برہنہ ہیں‌ انہیں‌ خلعتِ رسوائی دے کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
  24. نہ جانے ظرف تھا کم یا انا زیادہ تھی کلاہ سر سے تو قد سے قبا زیادہ تھی رمیدگی تھی تو پھر ختم تھا گریز اس پر سپردگی تھی تو بے انتہا زیادہ تھی غرور اس کا بھی کچھ تھا جدائیوں کا سبب کچھ اپنے سر میں بھی شاید ہوا زیادہ تھی وفا کی بات الگ پر جسے جسے چاہا کسی میں حسن، کسی میں ادا زیادہ تھی فراز اس سے وفا مانگتا ہے جاں کے عوض جو سچ کہیں تو یہ قیمت ذرا زیادہ تھی احمد فراز
  25. ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
×