Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'hun'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 14 results

  1. اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بُوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں بڑھ گئی اس حد تلک بے اعتمادی تجھ کو تجھ سے بھی چھپانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں اس لیے کی ہے تڑپنے کی تمنا رقص کرنے کا بہانا چاہتا ہوں آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں جو بنا باعث مری ناکامیوں کا میں اُسی کے کام آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی پراندھیرا روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں پھول سے پیکر تو نکلے بے مروّت پتھروں کو آزمانا چاہتا ہوں رہ گئی تھی کچھ کمی رسوائیوں میں پھر قتیل اُس در پہ جانا چاہتا ہوں قتیل شفائی
  2. Mai Ishq Ki Shidat Sy Pereshan Bohat Hun میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں ! غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟ آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔' ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
  3. ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﻻﮐﻬﮧ ﺗﻮﺑﮧ ﻣﮕﺮ ﭘﻬﺮ ﺳﮯ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺩﺳﺘﮑﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﯾﻮﮞ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ،ﺁﻧﮑﻬﮧ ﭘﺮﻧﻢ ﻋﺠﺐ ﮨﯽ ﯾﮧ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﮕﺎﻣﮧ ﺳﺎ ﺑﺮﭘﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺭﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﻮ ﻟﻮﭨﻨﮯ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺭﻭﯼ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﻮﮞ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
  4. دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں ڈھنگ کی بات کہے کوئی ، تو بولوں میں بھی مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت ، جب سے الگ بیٹھا ہوں غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں جب سے وہ روٹھ گئے ، تب سے الگ بیٹھا ہوں c میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا سب میں شامل ہوں ، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
  5. waqas dar

    poetry Mai Ishq Kahlata Hun

    Mai Ishq Kahlata Hun میں عشق کہلاتا ہوں Poet: ابریش انمول عشق کیا ہے میں آواراپرندہ ہو پکارہ عشق کے نام سے جاتا ہو خوش بخت ہوتے ہے جنہیں آباد کرتا ہو امومن لوگوں کو برباد کرتا ہو ہمیشہ سفر میں ہی رہتا ہو منزل کو نہ کبھی پا سکو آئی پر جب اپنی آتا ہو نوابوں کو بھی غلام بناتا ہو ایسا ہی کچھ کمال رکھتا ہو ہنستے ہوۓ کو رولاتا ہو روتے ہوۓ کو ہنساتا ہو ویسے اتنا بھی برا نہیں ہو میں ہر کسی پر ظلم نہیں کرتا ہو جن کے ستارے نہیں ملتے بس ان کو ہی تڑپاتا ہو میں عشق کہلاتا ہو
  6. Anabiya Haseeb

    poetry Sun piya men kehti hun,,,

    ﺳﻦ ﭘﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﺐ ﮨﻮﮞﻣﯿﮟ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﭘﯿﺎ ﻣﻦ ﺗﻮ ﭘﮕﻼ ﭘﺎﭘﯽ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍﺭﻭﮒ ﭘﯿﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮﮨﮯ ﻣﻮﺭﺍ ﺟﯿﺎ ﺯﮨﺮﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮔﮭﻮﻝ ﭘﯿﺎ ﺳﻦ ﭘﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺩﻝ ﮐﯽﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺘﺎ ﺟﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﮐھ ﻣﺖ ﮐﮭﻮﻝ ﭘﯿﺎ ﺍﮐﮭﯿﺎﮞ ﺳﺎﻭﻥ ﺳﯽ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﮨﺠﺮﮐﮯ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﮐﮭﻮﻝ ﭘﯿﺎ ﺳﻦ ﭘﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺩﺭ ﺩﺭ ﻧﮧ ﯾﻮﮞ ﺭﻭﻝ ﭘﯿﺎ
  7. Zarnish Ali

    bhooli hui sada hun

    بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے گُم صُم کھڑی ہیں‌دونوں جہاں کی حقیقتیں میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے (ساغر صدیقی)
  8. نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
  9. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  10. CHAHRA PARHTA, ANKHAIN LIKHTA REHTA HUN چہرے پڑھتا، آنکھيں لکھتا رہتا ہوں ميں بھي کيسي باتيں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جيسے لگتے ہيں اور بانہوں کو شاخيں لکھتا رہتا ہوں مجھ کو خط لکھنے کے تيور بھول گئے آڑي ترچھي سطريں لکھتا رہتا ہوں تيرے ہجر ميں اور مجھے کيا کرنا ہے؟ تيرے نام کتابيں لکھتا رہتا ہوں تيري زلف کے سائے دھيان ميں رہتے ہيں ميں صبحوں کي شاميں لکھتا رہتا ہوں اپنے پيار کي پھول مہکتي راہوں ميں لوگوں کي ديواريں لکھتا رہتا ہوں تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا ہجر کي ساري باتيں لکھتا رہتا ہوں سوکھے پھول، کتابيں، زخم جدائی کے تيري سب سوغاتيں لکھتا رہتا ہوں اس کي بھيگي پلکيں ہستي رہتي ہيں محسن جب تک غزليں لکھتا رہتا ہوں
  11. Samandar Me Utarta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Teri Ankhon Ko Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tumhara Nam Parhne Ki Ijazat Chin Gai Jab Se Koi Bhi Lafz Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Huns Kar Jhail Leta Hun Judai Ki Sabhi Rasmen Galy Jab Us K Lagta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Na-Jany Ho Gaya Hun Is Qadar Hassas Me Kab Se Kisi Se Bat Karta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Wo Sab Guzry Hue Lamhaat Mujh Ko Yad Ate Hain Tumhare Khat Jo Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Sara Din Bohat Masroof Rehta Hun Magr Junhi Qadam Chokhat Pe Rakhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Har Aik Muflis K Mathy Par Alam Ki Dastany Hain Koi Chehra Bhi Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Bary Logon K Oonchy, Bad-Numa Or Sard Mehlon Ko Gareeb Ankhon Se Takta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tere Koochy Se Ab Mera Ta'aluq Wajabi Sa Hai Magr Jab Bhi Guzrta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Hazar Mosamon Ki Hukmarani Hai Mere Dil Pe WASI Me Jab Bhi Hansta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain...
  12. Main bhi khush hun koi uss se jaa ke keh dena, agar woh khush hai mujhe be’qaraar karte hue. Tumhen khabar hi nahin hai ki koi toot gaya, mohabbaton ko bahut paaedaar karte hue. Main muskurata hua aaine mein ubharunga, woh ro padegi achaanak singhaar karte hue. Mujhe khabar thi ki ab laut kar na aaunga, so tujh ko yaad kiya dil pe waar karte hue. Ye keh rahi thi samundar nahin ye aankhen hain, main inn mein doob gaya aitbaar karte hue. Bhanwar jo mujh mein pade hain woh main hi jaanta hun, tumhare hijr ke dariya ko paar karte hue. !
  13. waqas dar

    Mai tumhain talaq dena chahta hun

    میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی "میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔ ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔ "میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا "کیوں۔۔۔۔۔؟" میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ "تم مرد نہیں ہو۔۔۔" رات بھر ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس کو دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔ طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔ اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اسے کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔ بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔ اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔ اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔ اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس کے بولی "وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے" میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔ شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی "پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔ اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔ "پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی میں نے جواباً سر ہلایا اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔ اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔ چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔ لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔ اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ "پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔ میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔ آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اسے نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی "شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی" وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی "مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی "شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو" "نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا" نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا "میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے" میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔ میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔ کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن گیا یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔ .....اپنی رائے ضررو دیجئے گا منقول
  14. Zarnish Ali

    Shula Th Jal Bojha Hun

    ﺷﻌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻞ ﺑﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺟﻮ ﺯﮨﺮ ﭘﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ ﺳﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺧﺴﺮﻭﺍﻥِ ﺷﮩﺮ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﻮﮞ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﮐﺐ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯؔ
×