Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'nasir kazmi'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 5 results

  1. دکھ کی لہر نے چھیڑا ھوگا یاد نے کنکر پھینکا ھوگا آج تو میرا دل کہتا ھے تو اس وقت اکیلا ھوگا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط لکھتا ھوگا بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں تو اب تھک کے سویا ھوگا ریل کی گہری سیٹی سن کر رات کا جنگل گونجا ھوگا شہر کے خالی اسٹیشن پر کوئی مسافر اترا ھوگا آنگن میں پھر چڑیاں بولیں تو اب سو کر اٹھا ھوگا یادوں کی جلتی شبنم سے پھول سا مکھڑا دھویا ھوگا موتی جیسی شکل بنا کر آئینے کو تکتا ھوگا شام ہوئی اب تو بھی شاید اپنے گھر کو لوٹا ھوگا نیلی دھندلی خاموشی میں تاروں کی دھن سنتا ھوگا میرا ساتھی شام کا تارا تجھ سے آنکھ ملاتا ھوگا شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو میرا سلام تو بھیجا ھوگا پیاسی کرلاتی کونجوں نے میرا دکھ تو سنایا ھوگا میں تو آج بہت رویا ھوں تو بھی شاید رویا ھوگا ناصر تیرا میت پرانا تجھ کو یاد تو آتا ھوگا۔۔
  2. گئے دِنوں کا سراغ لے کر ، کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دِکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کر ستارہء شام بن کے آیا ، برنگِ خُوابِ سحر گیا وہ خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈُھونڈتی ہے ہر دٙم وُہ بُوئے گل تھا کہ نغمہء جاں ، مرے تو دل میں اُتر گیا وہ نہ اب وُہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اُداس برکھا یُونہی ذرا سی کسک ہے دِل میں ، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دٙورِ آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے ، جو دِن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار راستے ہیں اہلِ دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں ، اس میں گزر گیا میں ، ٹھہر گیا وہ شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دِنوں کو بُلا رہا ہوں جو قافلہ میرا ہمسفر تھا ، مثالِ گردِ سفر گیا وہ میرا تو خون ہو گیا ہے پانی سِتمگروں کی پلک نہ بھیگی جو نالہ اُٹھا تھا رات دِل سے ، نہ جانے کیوں بے اٙثر گیا وہ وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اُڑانے والا یہ آج کیا اُس کے جی میں آئی ، کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سُخن ہمارا سدا رہے اُس کا نام پیارا ، سُنا ہے کل رات مٙر گیا وہ وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تُو نے منزلوں کا تری گلی سے نہ جانے کیوں آج ، سٙر جُھکائے گزر گیا وہ وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر ، وہ تیرا ناصر تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا ، پھر نہ جانے کِدھر گیا وہ ***** ***** شاعر : ناصر کاظمی (دیوان)
  3. یہ رنگِ خوُ ں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے حنائے پائے خزاں ہےٙ بہار اگر ہےٙ بھی یہ پیش خیمئہِ بیدادِ تازہ ہو نہ کہیں بدل رہی ہے ہوا ساز گار اگر ہے بھی لہوُ کی شمعیں جلاوٴ قدم بڑھائے چلو سروں پہ سایئہ شب ہائے تارا اگر ہے بھی ابھی تو گرم ہے میخانہ جام کھنکاءو بلا سے سر پہ کسی کا ادھار اگر ہے بہی حیاتِ درد کو آلوُ دہ نشاط نہ کر یہ کاروبار کوئی کاروبار اگر ہے بھی یہ امتیاز ِ من و توُ خدا کے بندوں سے وہُ آدمی نہیں طاعت گزار اگر ہے بھی نہ پوُ چھ کیسے گزُ رتی ہے ذِ ندگی ناصرِ بس ایک جبر ہے یہ اختیار اگر ہے بھی ناصر_کاظمی کلام؛ کلیاتِ ناصر ۔۔۔12-3-1969 ریڑیو لاہور
  4. کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے یوں نہ گھبراۓ ہوۓ پھرتے تھے دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن اس قدر دور کہاں تھا پہلے ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ کیا خبر کون کہاں تھا پہلے ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے میں بھی آباد مکاں تھا پہلے اُڑ گۓ شاخ سے یہ کہہ کے طیور سرو ایک شوخ جواں تھا پہلے کیا سے کیا ہو گئ دنیا پیارے تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے ہم نے آباد کیا ملکِ سخن کیسا سنسان سماں تھا پہلے ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں درد مجبورِ فغاں تھا پہلے ہم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق شعلہ پتھّر میں نہاں تھا پہلے ہم نے روشن کیا معمورۂ غم ورنہ ہر سمت دھواں تھا پہلے ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار عطرِ گل صرفِ خزاں تھا پہلے غم نے پھر دل کو جگایا ناصر خانہ برباد کہاں تھا پہلے ناصر کاظمی
  5. Naye Kapre Badal Kar Jaun Kahan Or Baal Banaun Kis K Liye Wo Shakhs To Shehar Hi Chor Gaya Ab Khak Uraun Kis K Liye Jis Dhoup Ki Dil Ko Thandak Thi Wo Dhoup Usi K Sath Gai In Jalti Bujhti Galiyun Mein Ab Khak Uraun Kis K Liye Wo Shehar Mein Tha To Us K Liye Auron Se Milna Parta Tha Ab Aise-Waise Logon K Main Naz Uthaun Kis K Liye Ab Shehar Mein Is Ka Badal Hi Nahikoi Waisa Jan-E-Ghazal Hi Nahi Aiwan-E-Ghazal Mein Lafzon K Guldan Sajaun Kis K Liye Muddat Se Koi Aya Na Gaya Sunsan Pari Hai Ghar Ki Fiza In Khali Kamron Mein 'Nasir' Ab Shamma Jalaun Kis K Liye
×