Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'tera'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 4 results

  1. Hareem Naz

    Tera Ehsas chuno

    میں لفظ چُنوں .. دلکش چُنوں پھر ان سے تیرا احساس بُنوں تجھے لکھوں میں دھڑکن اس دل کی یا تجھ کو ابر کی رم جھم لکھوں ستاروں کی عجب جھلمل کبھی پلکوں کی تجھے شبنم لکھوں .. کبھی کہہ دوں تجھے میں جاں اپنی کبھی تجھ کو میں اپنا محرم لکھوں کبھی لکھ دوں تجھے ہر درد اپنا کبھی تجھ کو زخم کا مرہم لکھوں تو زیست کی ہے امید میری میں تجھ کو خوشی کی نوید لکھوں لفظوں پہ نگاہ جو ڈالوں کبھی ہر لفظ کو بیاں سے عاجز لکھوں! میں تجھ کو تکوں.. تکتی جاؤں میں تجھ کو میری تمہید لکھوں! تو گفت ہو میرے اس دل کی.. میں تجھ کو فقط شنید لکھوں....
  2. Jiski Jhankaar mai Dil Ka AraamTh - Wo Tera Naam Th جسکی جھنکار میں دل کا آرام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تہمتیں مجھ پہ آتی رہی ہیں کئی، ایک سے اک نئی خوبصورت مگر جو اک الزام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ دوست جتنے تھے نا آشنا ہوگئے، پارسا ہوگئے، ساتھ میرے جو رسوا سرِ عام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی، وہ تیری آس تھی شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،مجھ پہ قسمت رہی ہمیشہ مہرباں، دے دیا سارا جہاں پر جو سب سے بڑا ایک انعام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھے اک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تیرے ہی دم سے ہے یہ قتیل آج بھی شاعری کاولی اس کی غزلوں میں کل بھی جو الہام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ قتیل شفائی
  3. :ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا ٭٭٭ گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔ ٭٭٭ اسی سال میں ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پرا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔ ٭٭٭ اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ ٭٭٭ اسی سال میں ہی میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔ صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛ آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس اسی کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا ٭٭٭ اس گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔ ٭٭٭ میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔ ٭٭٭ اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ٭٭٭ اسی سال ہی اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔ آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ : "واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔" ملاحظہ کیجیئے: بالکل وہی حواداث اور بالکل وہی احوال لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے۔۔۔۔ بالکل اسی طرح اگر، جو کچھ ہو گزرا ہے، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے جو اس کے برعکس ہوتا تو، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے۔ اگر ہم بظاہرکچھ کھو بیٹھے اسے مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ بہتر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے"
  4. Anabiya Haseeb

    poetry Gham-e-aashiqi Tera shukriya,

    Kbi ruk gye Kbi chal diye Kbi chalty chalty bhatak gye : Yunhi umr sari guzaar di Yunhi zindgi k sitam sahey : Kbi neend me Kbi hosh me Tu jahan mila Tuje dekh kr : Na nazar mili Na zuban hili Yunhi sar jhuka k guzar gye : Kbi zulf pr Kbi chashm pr Kbi tere haseen wujood pr : Jo pasand thy Meri kitab me Wo shair sary bikhar gye : Mje yad hy Kbi aik thy Mgr aj hm hain juda juda : Wo juda hue To sanwr gye Hum juda hue To bikhar gye : Kbi arsh pr Kbi farsh pr Kbi unky dar Kbi dar badar : Gham-e-aashiqi Tera shukriya Hm kahan kahan sy guzar gye...
×