Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'wohi'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 4 results

  1. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  2. Wohi Hisaab e Tamana Hai Ab Bhi Aa Jao - Joan Elia وہی حساب تمنا ہے اب بھی آ جاؤ وہی ہے سر وہی سودا ہے ، اب بھی آ جاؤ جسے گئے ہوے خود سے ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے, اب بھی آ جاؤ وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانست میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے, اب بھی آ جاؤ میں خود نہیں ہوں کوئی اور ہے میرے اندر جو تم کو اب بھی ترستا ہے, اب بھی آجاؤ میں یاں سے جانے ہی والا ہوں اب ، مگر اب تک وہی ہے گھر وہی حجرہ ہے ، اب بھی آ جاؤ وہی کشاکش احساس ہے با ہر لمحہ وہی ہے دل وہی دنیا ہے ،اب بھی آ جاؤ تمہیں تھا ناز بہت جس کی نام داری پر وہ سارے شہر میں رُسوا ہے اب بھی آ جاؤ یہاں سے ساتھ ہی خوابوں کے شہر جائیں گے وہی جُنوں، وہی صحرا ہے، اب بھی آ جاؤ مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے، اب بھی آ جاؤ یہ طور !جان جو ہے میری بد شرابی کا مجھے بھلا نہیں لگتا ہے، اب بھی آ جاؤ کسی سے کوئی بھی شکوا نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوا ہے، اب بھی آ جاؤ وہ دل کہ اب ہے لُہو تُھوکنا ہُنر جس کا وہ کم سے کم ابھی زندہ ہے ، اب بھی آ جاؤ نہ جانے کیا ہے کہ اب تک مرا خود اپنے سے وہی جو تھا وہی رشتہ ہے، اب بھی آ جاؤ وجود ایک تماشا تھا ہم جو دیکھتے تھے وہ اب بھی ایک تماشا ہے، اب بھی آجاؤ ابھی صدئے جرس کا نہیں ہوا آغاز غبار ابھی نہیں اُٹّھا ہے، اب بھی آ جاؤ ہے میرے دل کی گزارش کہ مجھ کو مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آ جاؤ کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آ جاؤ میں لڑکھڑاتا ہوا موت کی طرف ہوں رواں بس آخری ہے جو لمحہ ہے، اب بھی آ جاؤ وہ جون کون ہے جانے جو کچھ نہیں سنتا ہے جانے کون جو کہتا ہے، اب بھی آ جاؤ باباِ جون
  3. Zarnish Ali

    suna hai zameen par wohi loog

    ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﻔﺮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﻮ ﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ! ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮑﻮﺕ ِ ﺷﺐ ِ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ِ ﺟﺎﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻣﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  4. Zarnish Ali

    poetry har wohi dard sa jaga hai....

    ﮬﺮ ﻭﮬﯽ ﺩﺭﺩ ﺳﺎ ﺟﺎﮔﺎ ﮬﮯ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺁﮦ ﺳﯽ ﻧﮑﻠﯽ ﮬﮯ ﻣﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯽ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺍﺷﮏ ﺳﮯ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﮬﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﺳﯽ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺁﺋﯽ ﮬﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻨﻈﺮ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ، ﭘﮭﺮ ﺷﺎﻡ ﮈﮬﻠﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮬﻮ . ” ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
×