Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

all iz well

Member
  • Content Count

    8
  • Joined

  • Last visited

  • Points

    23 [ Donate ]

Community Reputation

11 Neutral

About all iz well

  • Rank
    Popcorn Time
  • Birthday 07/19/1987

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    Riyadh ksa

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. all iz well

    all iz well

  2. all iz well

    اک چھوٹی سی نیکی

    بھوک کی شدت سے برا حال تھا گاڑی کسی ہوٹل پر کھڑی کرنے کا وقت نہ ملا کیونکہ گرمی انتہاء کی تھی اور گاڑی کا ائیر کنڈیشن چل رہا تھا کار سے نہ اترنے کی غرض سے سوچا کہ کھانا اب گھر جاکر ہی کھاوں گا....... میرا دبئی میں ایک چھوٹا سا بزنس تھا لیکن ان دنوں کام بالکل نہیں تھا اس لیے گاہکوں کو جاکر ملنا پڑ رہا تھا....... کام نہ ہونے کی وجہ سے پیسوں کی کمی ہوگئی تھی جیب میں صرف دو سو درہم رہ گئے تھے. اسی سوچ میں گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر رہا تھا....... کہ ایک بنگالی لڑکا پسینے سے شرابور گندے سے کپڑے پہنے ہوئے میری کار کی طرف بڑھا میں نے شیشہ نیچے کیا تو کہنے لگا........ " السلام علیکم ! بھائی کیا حال ھے میں مسلمان ہوں اور شکل سے آپ بھی مجھے مسلمان لگتے ہیں مجھے آپ سے ایک گزارش کرنی ہے. " میں نے پوچھا کیا بات ھے. وہ ایک دم رونے لگا اور بولامیں فقیر نہیں ہوں لیکن دو دن سے بھوکھا ہوں. میری والدہ بیمار ہیں میرے پاس کوئی نوکری بھی نہیں.....کیا آپ مجھے 50 درہم دے سکتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے...... اور میں اپنی ماں کو کچھ پیسے جمع کرکے بنگلہ دیش بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ میری ماں دوا لے سکے...... 50 درہم میرے لئے زیادہ نہ تھے. لیکن میں نے سوچا کہیں یہ جھوٹ تو نہیں بول رہا لیکن اسکی آنکھوں میں آنسو اور اسکی باتوں سے سچ ظاہر ہو رہا تھا.... میرے پاس ایک ہی 200 درہم کا نوٹ تھا جو میں نے اس کو دیا کہ جاو سامنے دکان سے کھلے پیسے لے آو......... وہ 200 درہم لے کر چلا گیا کافی دیر تک جب وہ نہ آیا تو مجھے اس کی بات جھوٹ لگنے لگی خیر میں گاڑی میں اے سی لگا کر بیٹھا رہا. خود کو کوس رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ میرے پاس خود پیسے نہیں تھے اب یہ 200 بھی جاتا رہا. لیکن میرا خیال اس وقت غلط ثابت ہوا جب میں نے اسے دور سے اپنی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا. اس کی حالت پہلے سے اور بری ہوگئی تھی سانس پھولا ہوا، بھوک پیاس اور گرمی کی شدت نے اسکو بے حال کر دیا تھا...... واپس آتے ہی اس نے کہا معافی چاہتا ہوں کہیں سے کھلے پیسے نہیں مل رہے تھے بہت دور سے لایا ہوں....... یہ لیں 200.... میں نے پیسے پکڑتے ہوئے اس کو پوچھا تم کتنے بہن بھائی ہو کہنے لگا میں 6 بہنوں کا اکیلا بھائی ہوں والد وفات پاچکے ہیں اور ماں بیمار ھے ماں کی دوائی کےلئے ہی آپ سے پیسے مانگے......... میں گاڑی سے باہر آیا اسکو 50 درہم دیے اور وہ شکریہ ادا کرنے لگا....... اس کی آنکھیں نم ہوگئیں. اس کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں. بھائی آپ سے پہلے میں نے اور بھی لوگوں سے پیسے مانگے لیکن کسی نے مدد نہ کی. آپ پہلے پاکستانی ہو جس نے میری مدد کی آپ کا بہت بہت شکریہ .... آج پتہ چلا ہے کہ پاکستانی لوگ بڑے دل والے ہیں... میں پاکستان کو سلام کرتا ہوں............ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میری آنکھیں بھی بھر آئیں........ میرے پاس وہی 150 درہم باقی بچے تھے میں نے خدا پر توکل کرتے ہوئے کہ اللہ تعالی میرے لئے اور انتظام کردے گا. باقی 150 درہم بھی اسکے ہاتھ میں تھما دیے تب وہ میری طرف حیرت زدہ کھلی آنکھوں سے دیکھنے لگا وہ روتا جاتا تھا اور دعائیں دیتا جاتا خدا آپ کو اور دے خدا آپ کو اور دے... تب مجھے وہ حقیقی خوشی ملی جو بیان سے باہر ھے. اس دن معلوم ہوا کہ کسی کی مدد کرنے سے کیسا سکون نصیب ہوتا ھے.....بظاہر میری جیب تو خالی تھی لیکن دل خوشی اور شکر کے جذبnات سے لبریز تھا. اس کے بعد میں اپنے کمرے میں کھانے کےلئے ابھی بیٹھا ہی تھا ایک نوالہ بھی ابھی نہیں کھایا تھا........ کہ ایک کمپنی سے فون آیا اور مجھے 40 ہزار درہم کا کام مل گیا...........شاید خدا کو میری نیکی پسند آگئی تھی اسی لئے تو 200درہم کو 200 گنا بڑھا کر 40 ہزار کر دیا تھا. ...... بے شک خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا.
  3. all iz well

    عید قربان

    ’ﺑﯿﭩﺎ! ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﺟﻤﺎﻝ ﻣﻮﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺍٓﺋﻮ۔‘‘ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ... ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻋﻤﺮ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭩﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ... ﻣﯿﮟﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ ’’ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ... ﺍٓﺝ ﺗﻮ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﮨﮯ... ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ... ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟﮔﻮﺷﺖ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ... ﮨﻢ ﻧﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﺖ ﺩﮮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ... ﭘﮭﺮﺍٓﭖ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺳﺎﻟﻦ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﯿﺞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔’’ ‘‘ﺑﯿﭩﮯ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﻼ ﮨﮯ... ﮐﻮﺋﯽ ﺍٓﮔﮯ ﻧﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ... ﺍﻭﻝ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺩﮮ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ... ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﺩﮮ ﮔﺎﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﭘﮑﺎﺋﮯ ﮔﺎ... ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱﺳﺎﻟﻦ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﺖ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔’’ ‘‘ﺟﯽﺍﭼﮭﺎ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ... ﻻﺋﯿﮯ... ﺩﮮ ﺍٓﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔‘‘ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺍٓﯾﺎ...ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻟﻮﮨﺎﺭﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺳﺎﻣﻨﮯﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﻤﺎﻝ ﻣﻮﭼﯽ ﺟﻮﺗﯿﺎﮞ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ... ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ،ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﯽﮐﻮﭨﮭﺮﯼ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭼﻮﻟﮭﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﻧﮉﯼﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻈﺮ ﺍٓﯾﺎ... ﮨﺎﻧﮉﯼ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍٓﮒ ﺟﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﻧﮉﯼﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﮏ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ... ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ... ﺍﺱﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻏﺼّﮧ ﺍﺗﺎﺭ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻼﻭﺟﮧﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﮭﯿﺠﺎ... ﯾﮧ ﺗﻮ ﮔﻮﺷﺖﭘﮑﺎﺭ ﮨﺎ ﮨﮯ’’ ...ﺍٓﺋﻮ ﺑﯿﭩﺎ‘‘! ﺟﻤﺎ ﻝ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﮩﺎ’’ :ﮐﯿﺎ ﭘﮑﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻤﺎﻝ ﭼﭽﺎ۔‘‘ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮﺍﺳﮯ ﺟﻤﺎﻝ ﭼﭽﺎ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ’’ ...ﺑﺲ ﺑﯿﭩﺎ... ﭘﮑﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎﮨﮯ،ﻣﺴﻮﺭ ﮐﯽ ﺩﺍﻝ ﭘﮑﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔‘‘ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﺎﺟﮭﭩﮑﺎ ﻟﮕﺎ... ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﮩﺎ’’ :ﺟﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ...ﺩﺍﻝﭘﮑﺎﺭ ﮨﮯ ﮨﯿﮟ... ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺗﻮ ﻋﯿﺪ ﮐﺎﺩﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﺖ ﮨﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ، ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﮭﻮﻥ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔‘‘ ’’ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺍٓﮔﯿﺎ ﺑﯿﭩﺎ، ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺷﺖﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ، ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﻮﺑﺎﺯﺍ ﺭ ﺳﮯ ﺩﺍﻝ ﻟﮯ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔‘‘ ’’ﺍﻭﮦ... ﺍﻭﮦ... ﯾﮧ ﻟﯿﮟ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ ﻧﮯ ﭘﮑﺎ ﭘﮑﺎﯾﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺍٓﭖ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔‘‘ ’’ﻭﺍﮦ ﺑﯿﭩﺎ ﻭﺍﮦ... ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎﮨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ ﻧﮯ... ﭼﻠﻮﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎ ﮨﯽ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ... ﻭﺭﻧﮧﯾﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﺭﮨﺘﯽ ﮐﮧ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﺳﮑﺎ.ﺍﭼﮭﺎ ﺟﻤﺎﻝ ﭼﭽﺎ... ﻣﯿﮟ ﭼﻼ، ﭘﯿﺎﻟﯽ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖﻟﮯ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ۔’’ ‘‘ﮨﻮﮞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ۔‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺍٓﮐﺮﺍﺑّﺎﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺴﻮﺭ ﮐﯽ ﺩﺍﻝ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺑّﺎﺟﺎﻥﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻣّﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺍﻥﮨﻮﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺳﮑﯿﮟ... ﺍﻣّﯽ ﺟﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﮩﺎ’’ :ﺗﺐﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔’’ ‘‘ﮨﺎﮞ ﺑﮭﺌﯽ... ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺑﺮﺗﻦﻣﯿﮞﮕﻮﺷﺖ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺍٓﺋﻮ... ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺏ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﮯ۔’’ ‘‘ﺟﯽ ﺍﭼﮭﺎ۔‘‘ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﺎﺭﮦﺟﻤﺎﻝ ﭼﭽﺎ ﮐﯽ ﮐﻮ ﭨﮭﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ۔’’ ‘‘ﺟﻤﺎﻝﭼﭽﺎ... ﺍﻣّﯽ ﺟﺎﻥ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎﮨﮯ۔ ’’ ‘‘ﻭﺍﮦ ﺑﮭﺌﯽ ﻭﺍﮦ... ﻣﺰﮦ ﺍٓﮔﯿﺎ... ﭼﻠﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﯿﺪﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ۔ ﯾﮧ ﺍٓﺝ ﺳﮯ 58ﯾﺎ59ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻣﯿﺮﮮﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭼﭙﮑﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺫﮨﻦ ﺳﮯﻣﺤﻮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭﭘﺮ ﻋﯿﺪ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﮯﻣﻮﻗﻌﮯ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺍ ﺱ ﮐﺎ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻝﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ... ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ، ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﮐﮯ ﺣﺼّﮯ ﻟﮕﺎﺭ ﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﺮﯾﻦ ﭼﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍ ﺩ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﻟﮓ ﮐﺮ ﺭﮨﺎﮨﻮﺗﺎﮨﻮﮞ... ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﻤﺎ ﺋﯽ ﺗﮭﯽ...ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺒﻖ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ...ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ... ﺟﯽ ﻧﮩﯿﮟ... ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻮﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ... ﺍﻧﮩﻮﮞﻨﮯ ﺗﻮﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﮯ ﻃﻮﺭﭘﺮ ﺟﻤﺎﻝ ﻣﻮﭼﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺑﮭﺠﻮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏﺳﺒﻖ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ... ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﻖ، ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧﺑﮭﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﺒﻖ، ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺶﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻧﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯽ، ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺮﭺﮐﮭﺮﭺ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﯽ... ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ...ﺍﻭﺭ ﺍٓﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎﮨﻮﮞ... ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺩﯾﻨﮯﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ... ﻭﺭﻧﮧ ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟﻓﺮﯾﺠﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﯽ ﻏﺼﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺎﮨﮯ... ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ... ﻓﻼﮞ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮﮔﻮﺷﺖ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ... ﻓﻼﮞ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ... ﺍﺗﻨﺎﮔﻮﺷﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ... ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺳﮍﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮮﺩﻭ... ﻭﮦ ﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ، ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺴﯽ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﺍٓﺟﺎﺋﮯﮔﺎ... ﺍﺏ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻓﺮﯾﺠﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮌﻧﭽﮭﻮﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ... ﮨﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﯿﭧ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﭘﻨﺎ ﻓﺮﯾﺞ ﺑﮭﺮﺗﮯﮨﯿﮟ... ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﯾﺎ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺑﭻﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ... ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﯿﺪ ِ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭﺻﺮﻑ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﻖ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ... ﮨﻢ ﻧﮯﺍٓﺝ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﺎ... ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺯﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ... ﺍﻭﺭﺍٓﯾﻨﺪﮦ ﺍٓﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍٓﭖ ﺳﺐ ﺍﯾﮏﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺴﯽﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺑﮭﺠﻮﺍ ﻧﺎ ﺷﺮﻭ ﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ...ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯﻧﺘﺎﺋﺞ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻠﮯ...ﺑﺮﮮﺗﻮ ...ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﮨﮯ
  4. all iz well

    آڑو کا باغ

    Fonts small reh gaye cell se on ho to pata nhi chal rha ??
  5. all iz well

    poetry Mai kuch nahi kahta

    Thankx jani bakiyo ka koi ata pata nhi ab to bs kon kafi arsa ho chatroom me gaye howey...missing alot those moments
  6. all iz well

    آڑو کا باغ

    کاش پاکستان کے سارے ناکام عاشق ایسی مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے تو آج ہمارا ملک افریقہ سے زیادہ گھنے جنگلات کا حامل ہوتا ۔۔۔۔۔۔ مستقل مزاج بڑا بھائی بہت سال بعد سعودیہ سے وطن واپس پہنچا۔ دیکھا کہ چھوٹا بھائی جو فوج سے چھٹی آیا ہوا تھا پودا لگارہاہے۔ ابے یہ کیا کر رہے ہو,اس نے پوچھا۔؟ بھائی جان یاد نہیں سعودیہ جاتے ہوئے آپ نے کیا کہا تھا۔.جب آپ نے مجھے درخت پر کسی لڑکی کا نام لکھتے ہوئے پکڑ لیا تھا؟ کہ جب آئندہ کبھی محبت ناکام ہوجائے تو درخت پر کسی کا نام مت لکھنا بلکہ اس کے نام کا درخت اگانا۔ بڑا بھائی ذور سے ہنسا اور بولا پھر کتنے درخت لگا چکے ہو۔؟ کپتان صاحب نے دکھی مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور بولے ُوہ سامنے آڑو کا باغ آپ کے بھائی نے اگایا ہے ?????????
  7. all iz well

    poetry Jo na mil sake wohi bewafa

    Me to reply krna bhi bhol gaya forum pr vicky tokka lg gaya id or pasword ka Hows u bro
  8. all iz well

    poetry Mai kuch nahi kahta

    Vickey bhool kese skty hy itni pyari yadoo ko... wese tokka mara to password sahi lg gaya
  9. all iz well

    poetry Jo na mil sake wohi bewafa

    Bht khoob
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×