ilzam se pehly
لبوں پہ پُھول کِھلتے ہیں کسی کے نام سے پہلے
دِلوں کے دیپ جلتے ہیں چراغِ شام سے پہلے
کبھی منظر بدلنے پر بھی قِصّہ چل نہیں پاتا
کہانی ختم ہوتی ہے کبھی انجام سے پہلے
یہی تارے تمہاری آنکھ کی چلمن میں رہتے تھے
یہی سُورج نکلتا تھا تُمہارے بام سے، پہلے
دِلوں کی جگمگاتی بستیاں تاراج کرتے ہیں
یہی جو لوگ لگتے ہیں نہایت عام سے پہلے
ہوئی ہے شام جنگل میں پرندے لوٹتے ہونگے
اب اُن کو کِس طرح روکیں، نواحِ دام سے ، پہلے
یہ سارے رنگ مُردہ تھے تمہاری شکل بننے تک
یہ سارے حرف مہمل تھے تمہارے نام سے پہلے
ہُوا ہے وہ اگر مُنصف تو امجد احتیاطً ہم
سزا تسلیم کرتے ہیں کسی الزام سے پہلے
0

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.