Jump to content

Recommended Posts

Posted

لاکھوں فلک کی آنکھیں سب مند گئیں ادھر سے
 نکلی نہ ناامیدی کیونکر مری نظر سے

 برسے ہے عشق یاں تو دیوار اور در سے
 روتا گیا ہے ہر ایک جوں ابر میرے گہر سے

 جو لوگ چلتے پھرتے یاں چھوڑ کر گئے تھے
 دیکھا نہ ان کو اب کے آئے جو ہم سفر سے

 قاصد کسو نے مارا خط راہ میں سے پایا
 جب سے سنا ہے ہم نے وحشت ہے اس خبر سے

 سوبار ہم تو تم بن گھر چھوڑ چھوڑ نکلے
 تم ایک بار یاں تک آئے نہ اپنے گھر سے

 چھاتی کہ جلنے کی ہے شاید کہ آگ سلگے
 اٹھنے لگا دھواں اب میرے دل و جگر سے

 نکلا سو سب چلا ہے نومید ہی چلا ہے
 اپنا نہالِ خواہش برگ و گل و ثمر سے

 جھڑ باندھنے کا ہم بھی دینگے دکھا تماشا
 ٹک ابر قبلہ آ کر آگے ہماری بر سے

 سو نامہ بر کبوتر کر ذبح اُن نے کھائے
 خط چاک اڑے پھرے ہیں اس کی گلی میں پر سے

 آخر گرسنہ چشمِ نظارہ ہو گئے ہم
 ٹک دیکھنے کو اسکی برسوں مہینوں ترسے

 اپنا وصول مطلب اور ہی کسو سے ہو گا
 منزل پہونچ رہیں گے ہم ایسی رہ گزر سے

 سردے دے مارتے ہیں ہجراں میں میر صاحب
 یارب چھڑا تو ان کو چاہت کے دردِ سر سے

 

 

amor-black-and-white-eyes-love-olhos-Fav

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.