👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Recommended Posts

Posted

لاکھوں فلک کی آنکھیں سب مند گئیں ادھر سے
 نکلی نہ ناامیدی کیونکر مری نظر سے

 برسے ہے عشق یاں تو دیوار اور در سے
 روتا گیا ہے ہر ایک جوں ابر میرے گہر سے

 جو لوگ چلتے پھرتے یاں چھوڑ کر گئے تھے
 دیکھا نہ ان کو اب کے آئے جو ہم سفر سے

 قاصد کسو نے مارا خط راہ میں سے پایا
 جب سے سنا ہے ہم نے وحشت ہے اس خبر سے

 سوبار ہم تو تم بن گھر چھوڑ چھوڑ نکلے
 تم ایک بار یاں تک آئے نہ اپنے گھر سے

 چھاتی کہ جلنے کی ہے شاید کہ آگ سلگے
 اٹھنے لگا دھواں اب میرے دل و جگر سے

 نکلا سو سب چلا ہے نومید ہی چلا ہے
 اپنا نہالِ خواہش برگ و گل و ثمر سے

 جھڑ باندھنے کا ہم بھی دینگے دکھا تماشا
 ٹک ابر قبلہ آ کر آگے ہماری بر سے

 سو نامہ بر کبوتر کر ذبح اُن نے کھائے
 خط چاک اڑے پھرے ہیں اس کی گلی میں پر سے

 آخر گرسنہ چشمِ نظارہ ہو گئے ہم
 ٹک دیکھنے کو اسکی برسوں مہینوں ترسے

 اپنا وصول مطلب اور ہی کسو سے ہو گا
 منزل پہونچ رہیں گے ہم ایسی رہ گزر سے

 سردے دے مارتے ہیں ہجراں میں میر صاحب
 یارب چھڑا تو ان کو چاہت کے دردِ سر سے

 

 

amor-black-and-white-eyes-love-olhos-Fav

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts


×
×
  • Create New...