realhassan3 1 Posted June 1, 2024 Posted June 1, 2024 انصاف سے محروم نہ کوئی بھی رہے گا جیسا جو کرےگا تو وہ ویسا ہی بھرے گا کاغذ کی جو ہے ناؤ یوں کب تک وہ چلے گی اربابٍ ستم کا تو نشاں پل میں مٹے گا ہر شب کے گزرنے پر سحر ہو کر رہے گی جو دکھ ہی ملا ہے تو کبھی سکھ بھی ملے گا شیطان کے ہر مکر سے ہے خود کو بچانا جو نیک بنے گا تو وہ ہی عیش کرے گا ہر شاخ پہ ہے الو تو ہو فکر چمن کی غفلت جو رہے گی تو چمن بھی نہ بچے گا یہ دھوپ کبھی چھاؤں یہی اثر ہے جیون پختہ جو یقیں ہو تو چمن کیوں نہ کِھلے گا Sad Poetry in Urdu for life 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.