khuwaishain
سازشیں لاکھ بھی کر لے یہ زمانہ چاہے
اب جو لکھی ہیں وہ سانسیں تو ہمیں آئیں گی
ملیں گے یوں تو سبھی بن کے یہاں دوست ہمیں
پر مرے حق میں ہوائیں نہ انہیں بھائیں گی
ہمیں چاہیں گے یہ ہر دم ہی کسی مشکل میں
سو مری خوشیاں سبھی ان پہ ستم ڈھائیں گی
مرا پلکیں بھی جھپکنا ہے نظر میں یوں تو
ان کی سوچیں نہ مری سوچ تلک جائیں گی
مرے ہر درد کو اپنی یہ دعا سمجھے ہیں
خواہشیں رنگ کہاں ان کی مگر لائیں گی

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.