Jump to content
  • entries
    159
  • comments
    345
  • views
    75,654

kun se la tk ka safar


 

کُن سے لَا تک کا سفر

کچھ لوگ کنویں کی طرح ہو تے ہیں جن میں سے ہر کوئی استطاعت بھر پانی نکالتا ہے سیراب ہوتا چلا جاتا ہے۔اور پھر وہ دن بھی آتے ہیں کہ کنواں خود پیاسا ہوجا تا ہے مگر پھر بھی مشکیں بھر بھر بانٹتا ہے۔صحرا نوردوں کو پیا سوں کو آوازیں لگاتا ہے آؤ اور پیاس بجھاؤ۔
مگر اس کنویں کا سیراب ہونا لوگوں کے ہاتھوں نہیں اللّٰہ کے ہاتھوں ہوتا ہے۔کبھی باراں رحمت برسا کر تو کبھی زمین کے بند دروازے کھول کر اسے سیراب کر دیا جاتا ہے۔
جو بس دینا جانتے ہیں ،بانٹنا جا نتے ہیں انکو سیراب کر نے والی ذات اوپر والی ہوتی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ پیاس کیا ہو تی ہے، پیاسا رہنا کیسا لگتا ہے ۔۔
اسی لیے تو وہ بے غر ض ہو جاتے ہیں۔اپنی پرواہ کیے بغیراوروں کی پیاس مٹاتے چلے جاتے ہیں ۔لوگ انکے کنارے سستاتے ہیں ڈول بھر بھر پانی نکالتے ہیں اور اسے تنہا چھوڑے چلے جاتے ہیں۔
کنواں بے غرض رہتا ہے۔پھر ایک موسم ایسا بھی آتا ہے وہ سوکھ جاتا ہے پیاس کی شدت سے اور پیاس کی وہ شدت اسے بانٹنا سکھاتی ہے۔
ہر غم ہر خوشی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد کو ئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ زندگی پرت در پرت نئے باب کھولتی جاتی ہے نئی آزمائش ،نیا کچوکہ ،نیا درد ،نیا سبق ۔
ہم مصیبت میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو بدنصیب تصور کرتے ہیں مگر اصل خوش نصیب ہی وہی ہوتے ہیں جنہیں نفی کے پانی سے سینچا جا تا ہے ،ٹھکرائے جاتے ہیں رلائے جاتے ہیں۔مصیبت در مصیبت ۔یہی وہ لوگ ہیں جو آسمان کے سب سے روشن ستارے ہوتے ہیں ۔
مگر کیا کمال کی بات ہے آسمان پہ سب سے زیادہ چمکتا ستارہ دیکھنے والوں کو سب سے زیادہ بھاتا ہے۔مگر اس ستارے کے درد سے کوئی واقف نہیں ہوتا جتنی اس میں آگ ہوتی ہے جتنا اسے جلایا جاتا ہے وہ اتنا ہی روشن اتنا ہی شاندار۔بھٹکنے والوں کو منزل دکھانے والا ہوتا ہے۔
دردملتا رہتا ہے اسے درد دیا جاتا رہتا ہے جب تک اندر کی آگ بھڑک نہ اٹھے۔ جب تک وہ اصل حقیقت جان نہ لے :-)
اور اصل حقیقت جاننے کے بعد جو بے نیازی آتی ہے وہ دائمی ہوتی ہے۔انسان سمجھ لیتا ہے وہ جان لیتا ہے مٹی کے یہ پتلے جن کو وہ من میں بٹھا کر پوجتا ہے۔اسے کچھ دے نہیں سکتے۔وہ زبردستی کسی کے دل میں اپنی قدر دانی اپنی محبت پیدا نہیں کر سکتا۔وہ دیکھ لیتا ہے کہ جب رگوں میں سما جانے والے درد کی تضحیک ہوتی ہے تو کیسا لگتا ہے۔کون ہے رب العزت کے سوا؟کون ہے خیر خواہ کون ہے اپنا جو سسکتے ہوئے دل کی سسکیاں بھی سنتا ہے ؟کون جانتا ہے اس ذات کے سوا جان پہ بیتنے والے عذاب کو؟وہ انتظار کر تا رہتا ہے کرتا رہتا ہے پر اسکی ذات پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔اور پھر اسکے دل میں سوراخ بننے لگتے ہیں جن سے وہ تمام چیزیں بہنے لگتی ہیں جن کی وہ پرستش کرتا رہا۔سب غیر مٹنے لگتا ہے لا الہ الااللّٰہ کی صدا گونجنے لگتی ہے 
" کیا تم یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان والے کہنے لگے کہ اللّٰہ کی مدد کب آئے گی ؟سن رکھو کہ اللّٰہ کی مدد قریب ہی ہے "
(البقرہ:214)
وہ سیکھتا ہے کہ جب دھکے ملتے ہیں تو کیسا لگتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے پیاسوں کی پیاس پھر یا تو وہ کنواں بن جا تا ہے یا سب سے روشن چمکدار ستارہ رستہ دکھانے والا
بے نیاز بے غرض ۔
اگر آپ تکلیف کی بھٹی میں مسلسل جلائے جارہے ہیں تو اطمینان رکھیں وہ نیلی چھتری والا بہترین پلانر ہے۔
جو انسان غم کی چکی میں پس کر بنتا ہے وہ سکھ کی چادر اوڑھ کر کبھی نہیں بن سکتا۔کہ کوئلے کو ہیرا بننے کےلیے ٹنوں بوجھ تلے دبنا پڑتا ہے۔
" جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارےقبول کرتا ہوں ۔اس لیے لوگوں کو بھی چاہیئے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی انکی بھلائی کا باعث ہے "
(البقرہ:186)
منقول
--------------

 

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.