"درد کی لے دھیمی رکھ"
آج پھر رقصاں ہیں سلگتی یادیں
سر دشت جاں، کسی وحشت کی طرح
پھر ٹکرایا ہے فصیل_جاں سے
کسی گم گشتہ محبت کا جنوں
دونوں ہاتھوں میں اٹھاۓ ہوۓ
انا کا بے جان وجود
ایک ہارے ہوۓ لشکر کے سپاہی کی طرح
میں چپ چاپ کھڑا، دیکھ رہا ہوں
پھیلے ہوۓ ہر سمت تباہی کے مناظر
اے میرے دل_______!!
"درد کی لے دھیمی رکھ"
اے میرے دشمن_جاں______!!
مجھے جینے دے!
- Read more...
- 2 comments
- 1,801 views
