Jump to content

Recommended Posts

  • 1 month later...
Posted

میں ساحل ہوں امجدؔ اور وہ دریا جیسا ہے 
کتنی دُوری ہے دونوں میں، قربت کتنی ہے!

امجد اسلام امجد

ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں، فرصت کتنی ہے 
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے! 

سُورج گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیے 
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ’’مہلت کتنی ہے!،،

بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں 
شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے! 

لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں، کیسے بات کھلے؟ 
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے! 

سپنے بیچنے آ تو گئے ہو، لیکن دیکھ تو لو 
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے! 

دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں 
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے! 

ایک ادھورا وعدہ اُس کا، ایک شکستہ دل، 
لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے! 

میں ساحل ہوں امجدؔ اور وہ دریا جیسا ہے 
کتنی دُوری ہے دونوں میں، قربت کتنی ہے!

 

17523236_1294764687239376_8797336459497001854_n.jpg

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.