Amjad Islam Amjad
14 topics in this forum
-
- 12 replies
- 3.8k views
ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺎﺭﺵ ﺳﮯ ﺩﮬﻠﮯ ﺻﺤﻦ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﺍﻣﺠﺪؔ ﺁﻧﮑﮫ ﺟﺐ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﮩﺮﺍ ﭼﻤﮑﺎ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ
Last reply by Zarnish Ali, -
-
- 0 replies
- 1.2k views
جو دن تھا ایک مصیبت تو رات بھاری تھی گزارنی تھی مگر زندگی، گزاری تھی سواد شوق میں ایسے بھی کچھ مقام آئے نہ مجھ کو اپنی خبر تھی نہ کچھ تمہاری تھی لرزتے ہاتھوں سے دیوار لپٹی جاتی تھی نہ پوچھ کس طرح تصویر وہ اتاری تھی جو پیار ہم نے کیا تھا وہ کاروبار نہ تھا نہ تم نے جیتی یہ بازی نہ میں نے ہاری تھی طواف کرتے تھے اس کا بہار کے منظر جو دل کی سیج پہ اتری عجب سواری تھی تمہارا آنا بھی اچھا نہیں لگا مجھ کو فسردگی سی عجب آج دل پہ طاری تھی کسی بھی ظلم پہ کوئی بھی کچھ نہ کہتا تھا نہ جانے کون سی جاں تھی جو اتنی پیاری تھی …
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.1k views
سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں کن فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ وہ سرائے ہے کہ جس می…
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 2.1k views
Dil Hai Be-Khabar, Zara Hosla دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ کوئی ایسا گھر بھی ھے شہر میں جہاں ھر مکین ھو مطمئن کوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ھے جسے خوفِ آمدِ شب نہیں یہ جو گردبادِ زمان ھے یہ ازل سے ھے کوئی اب نہیں دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ یہ جو خار ھیں تیرے پاؤں میں یہ جو زخم ھیں تیرے ھاتھ میں یہ جو خواب پھرتے ھیں دَر بہ دَر یہ جو بات اُلجھی ھے بات میں یہ جو لوگ بیٹھے ھیں جا بجا کسی اَن بَنے سے دیار میں سبھی ایک جیسے ھیں سر گراں غَمِ زندگی کے فشار میں یہ سراب ، یونہی سدا سے ھیں اِسی ریگزارِ حیات میں یہ جو رات ھے تیرے چار سُو نہیں صرف تیری ھی گھات میں دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
Yun Duniya Mai Huta Kab Hai یوں دنیامیں ہوتاکب ہے جوبچھڑےوہ ملتاکب ہے آئینہ کیادیکھ سکےگا وہ صورت میں اُتراکب ہے بھولےسےتم آتوگئےہو یہ توبتاؤ جاناکب ہے دیواروں پردرج ہےکیاکیا دیکھنےوالا،پڑھتاکب ہے رہبرجس پرلےکےچلاہے یہ منزل کارستہ کب ہے کیسےاس کی شکل بنےگی ہم نےاس کودیکھاکب ہے عرض نیازعشق پہ بولے "ہم نےتم سےپوچھاکب ہے" سن لیتاہےبات کبھی تو چاندتمہارےجیساکب ہے عقل نےکیاکیاسمجھایابھی عشق کسی کی سنتاکب ہے کام توکشتی ہی آئےگی دوست کسی کادریاکب ہے آجائےوہ لوٹ کےامجؔد ایسابخت ہماراکب ہے ۔ امجداسلام امجد
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.3k views
کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زرنگار سے خواب دے ترا کیا اصول ہے زندگی؟ مجھے کون اس کا حساب دے جو بچھا سکوں ترے واسطے، جو سجا سکیں ترے راستے مری دسترس میں ستارے رکھ، مری مٹھیوں کو گلاب دے یہ جو خواہشوں کا پرند ہے، اسے موسموں سے غرض نہیں یہ اڑے گا اپنی ہی موج میں، اسے آب دے کہ سراب دے تجھے چھو لیا تو بھڑک اٹھے مرے جسم و جاں میں چراغ سے اسی آگ میں مجھے راکھ کر، اسی شعلگی کو شباب دے کبھی یوں بھی ہو ترے رو برو، میں نظر ملا کے یہ کہہ سکوں "مری حسرتوں کو شمارکر، مری خواہشوں کا حساب دے تری اک نگاہ کے فیض سے، مری کشتِ حرف چمک اٹھے مرا لفظ لفظ ہو کہکشاں، مجھے ایک ایسی کتاب دے
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.1k views
ab tak na khul sakha اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! کس سے مکالمہ ہے ! پسِ گفتگو ہے کون! سایہ اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں؟ مرکز اگر ہوں میں تو مرے چار سو ہے کون! ہر شے کی ماہیت پہ جو کرتا ہے تو سوال تجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تو ہے کون! اشکوں میں جھلملاتا ہوا کس کا عکس ہے تاروں کی رہگزر میں یہ ماہ رو ہے کون! باہر کبھی تو جھانک کے کھڑکی سے دیکھتے، کس کو کو پکارتا ہوا یہ کُو بہ کُو ہے کون! آنکھوں میں رات آ گئی لیکن نہیں کُھلا میں کس کا مدعا ہوں؟ مری جستجو ہے کون! کس کی نگاہِ لُطف نے موسم بدل دئیے فصلِ خزاں کی راہ میں یہ مُشکبو ہے کون! بادل کی اوٹ سے کبھی تاروں کی آڑ سے چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہوا یہ حیلہ جُو …
Last reply by Zarnish Ali, -
- 3 replies
- 2.3k views
چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن پھر ہاتھ کو خیرات ملے بندِ قبا کی پھر لطفِ شب وصل کو دھراؤ کسی دن گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے اس طرح میری رات کو چمکاؤ کسی دن میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں سر رکھ کے میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.3k views
ﻟﺒﻮﮞ ﭘﮧ ﭘُﮭﻮﻝ ﮐِﮭﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﭗ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﺮﺍﻍِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻗِﺼّﮧ ﭼﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﭼﻠﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮩﯽ ﺳُﻮﺭﺝ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﻡ ﺳﮯ، ﭘﮩﻠﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺗﺎﺭﺍﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺷﺎﻡ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﺏ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﮐِﺲ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﮐﯿﮟ، ﻧﻮﺍﺡِ ﺩﺍﻡ ﺳﮯ ، ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ ﻣُﺮﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﮑﻞ ﺑﻨﻨﮯ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺣﺮﻑ ﻣﮩﻤﻞ ﺗﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨُﻮﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻣُﻨﺼﻒ ﺗﻮ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁً ﮨﻢ ﺳﺰﺍ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.2k views
ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ " ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺴﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺎﻡِ ﻓﺮﺍﻕ ﺗﮭﯽ ﻟﺐِ ﺑﮯ ﻧﻮﺍ ﮐﮯ ﺣﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﺮﻑِ ﺩُﻋﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻓﺸﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺍ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻓﻘﻂ ﺍﮎ ﭼﺸﻢِ ﺟﻤﺎﻝ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﺥ ﻭ ﮐُﻮ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺭﮦِ ﺑﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﺍُﺟﺎﻝ ﺩﯼ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﺭ ﺳُﻮ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ۔ " ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ
Last reply by Hareem Naz, -
- 0 replies
- 1.2k views
(تجھے یاد ہے اسی ریت پر) میں ہوں جس مکان کی چھت تلے مرا گھر نہیں ترا نام درج ہے جس جگہ ترا در نہیں تجھے یاد ہے کسی شام ہم نے بنایا تھا کہیں ایک چھوٹا سا ریت گھر اُسی ریت سے اُسی ریت پر (اُسی ریت پر جو تھی راہ میں کسی موج کے کبھی اپنے ہونے کے دھیان میں کبھی معجزوں کے گمان میں) ہمیں علم تھا ہمیں علم تھا کہ وہ ریت گھر جو تھے منتظر کسی موج کے انہیں ٹوٹ جانے سے روکنے کا خیال امرِ محال ہے اسی موج و ریگ کے کھیل سے ہی بحال ہے وہ تلازمہ وہی رابطہ، جسے ماننے کے فشار میں رہِ آگہی کے سراب بھی سبھی خواب بھی اسی ایک لمحۂ مختصر کے حصار میں ہے گھرا ہوا خطِ ریگ بھی کفِ آب بھی پہ یہ داستاں تو تھی ترجماں کسی کھیل کی اُسی کھیل کی جسے کھی…
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.3k views
تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہ سکا نہ تُو سُن سکا ، مِیری بات بیچ میں رہ گئی میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، میری بات بیچ میں رہ گئی تیرے شہر میں میرے ھم سفر، وہ دُکھوں کا جمِّ غفیر تھا مجھے راستہ نہیں مل سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی وہ جو خواب تھے میرے سامنے، جو سراب تھے میرے سامنے میں اُنہی میں ایسے اُلجھ گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی عجب ایک چُپ سی لگی مجھے، اسی ایک پَل کے حِصار میں ھُوا جس گھڑی تیرا سامنا، میری بات بیچ میں رہ گئی کہیں بے کنار تھی خواھشیں، کہیں بے شمار تھی اُلجھنیں کہیں آنسوؤں کا ھجوم تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی تھا جو شور میری صداؤں کا…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.2k views
تیری آہٹ سلگتی دوپہر کو ایک پل میں شام کرتی ہے اترتی ہے سوادِ ہجر میں کچھہ اسطرح جیسے صدائے آشنا کوئی گھنے،گہرے ، اندھیرے جنگلوں کی بے یقینی میں رُخِ منزل دکھاتی روشنی کا کام کرتی ہے ! امجد اسلام امجد
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.2k views
ﯾﮧ ﮔﺮﺩ ﺑﺎﺩِ ﺗﻤﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺭُﮐﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﯾﺪِ ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﺧﻼ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻧﮧ ﺁﭖ ﭼﻠﺘﮯ ، ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﯽ ﺗﮭﮑﯽ ﺳﯽ ﯾﮧ ﺷﺎﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻭﻧﮕﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺁﺝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﭩﮯ ﮔﯽ ﭘﮩﺎﮌ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺩﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﻣﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﻤﮩﯽ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺟﻮ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﭩﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭼﺎﭨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻣﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺭ ﮨﺎ ﺍﻣﺠﺪؔ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
