Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'urdu'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 485 results

  1. View File Dilchasp_Hikayat-e_Saadi-[fundayforum.com] Urdu PDF Book Hikayat-e-Sadi is a famous Urdu book about the stories of Sheikh Sadi. All these stories are collected and compiled by Ibn-e-Ali who has searched different books and pages and collected all Hikayat (Stories) of Hazrat Sheikh Sadi R.A. There are short Urdu stories (Hikayat) of Sheikh Sadi. Hazrat Sheikh Saadi also is known as Saadi Shirazi but best known by his pen name Saadi, His real name was Abu Mohammad Muslih Al-Din Abdullah Shirazi. He was born in the ancient Persia (the modern Iran) city of Shiraz. He was a great Sunni Muslim from the Sunni Majority Persia. Hazrat Sheikh Saadi R.A is best known for his life changing stories and quotes. Sheikh Saadi was also a famous Persian poet and literary man. He was also the author various books. Dilchasp Hikayat Saadi (Interesting stories of Saadi) is a comprehensive Urdu book about the short stories of Sheikh Saadi R.A. Hikayat-e-Saadi Urdu book is about the short and lesson-full Urdu stories. These Saadi's Hikayats are the moral stories of Saadi. Any person's life can be changed by reading Hazrat Sheikh Saadi's quotes and stories. Dilchasp Hikayat-e-Saadi Urdu book also has a brief biography of Sheikh Saadi in the Urdu language. Dilchasp Hikayat-e-Saadi by Ibn-e-Ali is here in Pdf. You can free download and read online this Urdu Book from the table below the following sample pages. Sample Pages of the Urdu Book "Dilchasp Hikayat-e-Saadi" By Sheikh Saadi Submitter waqas dar Submitted 06/06/2018 Category Islamic Writer/Author Ibn-e-Ali  
  2. Version 1.0.0

    2 downloads

    Hikayat-e-Sadi is a famous Urdu book about the stories of Sheikh Sadi. All these stories are collected and compiled by Ibn-e-Ali who has searched different books and pages and collected all Hikayat (Stories) of Hazrat Sheikh Sadi R.A. There are short Urdu stories (Hikayat) of Sheikh Sadi. Hazrat Sheikh Saadi also is known as Saadi Shirazi but best known by his pen name Saadi, His real name was Abu Mohammad Muslih Al-Din Abdullah Shirazi. He was born in the ancient Persia (the modern Iran) city of Shiraz. He was a great Sunni Muslim from the Sunni Majority Persia. Hazrat Sheikh Saadi R.A is best known for his life changing stories and quotes. Sheikh Saadi was also a famous Persian poet and literary man. He was also the author various books. Dilchasp Hikayat Saadi (Interesting stories of Saadi) is a comprehensive Urdu book about the short stories of Sheikh Saadi R.A. Hikayat-e-Saadi Urdu book is about the short and lesson-full Urdu stories. These Saadi's Hikayats are the moral stories of Saadi. Any person's life can be changed by reading Hazrat Sheikh Saadi's quotes and stories. Dilchasp Hikayat-e-Saadi Urdu book also has a brief biography of Sheikh Saadi in the Urdu language. Dilchasp Hikayat-e-Saadi by Ibn-e-Ali is here in Pdf. You can free download and read online this Urdu Book from the table below the following sample pages. Sample Pages of the Urdu Book "Dilchasp Hikayat-e-Saadi" By Sheikh Saadi
  3. اُنہیں بس ہم سے رغبت تھی تھے ہم بھی جانتے لیکن ہمیں ان کا بکھر جانا بکھر کے پھر سمٹ جانا ہمارے ہاتھ کو تھامے ہم سے پھر لپٹ جانا بہت مجبور کرتا تھا کہ اپنے دل کے تہہ خانے میں دفنائے ہوئے سب غم سبھی رنج و ستم ان کے نہ لکھ ڈالیں کتابوں پر کہ لکھ دینے سے یوں شکوے کوئی ان کو نہ کہہ ڈالے جو کہہ ڈالے کوئی احمق انہیں ظالم٬ ہمیں مظلوم تو ہم کیا معاف کر دیں گے؟ خود ہی کو بخش دیں گے ہم؟ ارے جاناں! ارے پاگل نہیں ہوتا کبھی ایسا محبت کے فسانےمیں جسے ہم سونپ دیں سب کچھ اسے ہم بخش دیتے ہیں سبھی خوشیاں زمانے کی اگرچہ جان بھی جائے خوشی سے سونپ آتے ہیں صنم کی اک جھلک پر ہم خود ہی کو وار دیتے ہیں جو وہ کہہ دیں کہ ہنسنا مت ہنسی قربان کر دیں ہم جو کہہ دیں وہ کہ رونا مت تو آنکھیں خشک ہو جائیں جو وہ کہہ دیں کہ میرے ہو تو کیسا ظلم ہو جاناں جن پہ پہلے مرتے ہوں خوشی سے پھر سے مر جائیں چلو سن لو کیوں رغبت تھی انہیں ہم سے بس اک دم سے ہم ان پہ مر مٹے تھے بس وہ ہم سے جی اٹھے تھے بس یونہی سب عشق بن بیٹھا ہمیں برباد کر بیٹھا انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی لو تم بھی جان بیٹھے ہو انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی ©S.S Writes
  4. سنو اے محرمِ ہستی سنو اے زیست کی حاصل مجھے کچھ دن ہوئے شدت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں دنیا میں خود کو جس قدر بھی گم کروں مجھ کو تمہارا دھیان رہتا ہے میرے معمول کے سب راستے اب بھی تمہاری سوچ سے ہو کر گزرتے ہیں تمہاری مسکراہٹ آج بھی اس زندگی میں روشنی کا استعارہ ہے تمہارے ہجر سے اب تک میرے دل کے درودیوار پر وحشت برستی ہے میرے اندر کی ویرانی مجھے ہر آن ڈستی ہے بہت سے ان کہے جذبے جو ہم محسوس کرتے تھے وہ مجھ سے بات کرتے ہیں میری تنہائیاں اب بھی تمہارے عکس کی پرچھائیوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں سنو اے محرمِ ہستی میں اپنے آپ سے کب تک لڑوں؟؟ کب تک میں خود سے جھوٹ بولوں میں تمہارے بعد زندہ ہوں، مکمل ہوں میں اپنے کھوکھلے پن کو چھپاؤں کس طرح خود سے؟؟ اٹھائے کب تلک رکھوں انا کا ماتمی پرچم؟؟ میں کب تک یہ کہوں سب سے؟؟ کہ میں اس ہجر میں خوش ہوں سنو اے زیست کی حاصل مجھے اقرار کرنا ہے، میں اپنے آپ سے لڑتے ہوئے اب تھک چکا ہوں کہ میں تو اس لڑائی میں کئی راتوں کی نیندیں اور کئی خوشیوں بھرے موسم فقط اک جھوٹ میں جینے کی خاطر ہار آیا ہوں سنو اے محرم ہستی تمہاری خواب سی آنکھوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے میں ان دیکھی یہ ڈوریں توڑنے کاسوچتا ہوں جب تو میری سانس رکتی ہے میں بزدل ہوں، تمہیں کھونے سے مجھ کو خوف آتا ہے تمہارے ہجر میں جینا تمہیں کھونے سے بہتر ہے سنو اے محرم ہستی مجھے تسلیم کرنے دو! میری اس زندگانی کا تمہی روشن حوالہ ہو میری تکمیل تم سے ہے ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ تمہیں کھونے کا سوچوں بھی تو میری سانس رکتی ہے سنو اے محرمِ ہستی ..سنو اے زیست کی حاصل
  5. بہت سُلجھی ہوئی لڑکی بہت سُلجھی ہوئی لڑکی جس نے عمر کا اک ناسمجھ عرصہ بہت محتاط ہو کر گزارا تھا ملی خود ایسے لڑکے سے کہ جس کے لفظ جادو تھے وہ کہتی زخم ہے تو لفظ مرحم تھے وہ کہتی غم ہے، تو لفظ ھمدم تھے اُنہی لفظوں کی مٹھی میں تھمائے اپنی اُنگلی کو، نئی اک راہ پہ چل دی، وہی سُلجھی ہوئی لڑکی گلابی تتلیاں مٹھّی میں جیسے قید لگتی تھیں ہر اک خواب جیسے پیرہن اُوڑھے نکلتا تھا شبیں آباد لگتی تھیں وہ کہتا تھا کہ سُندر ہو، تو وہ چاہتی کہ میں کچھ اور بھی سُندر نظر آؤں یہ لڑکا اپنے دل کے کواڑ کھولے اور میں اندر نظر آؤں وہ کہتا کہ یہ آنکھیں تو وہ آنکھیں ہیں جن پہ جنگ ہو جائے اور وہ سُلجھی ہوئی لڑکی یہ سُن کے یوں نکھرتی تھی کہ جیسے شام میں شامل ، شفق کا رنگ ہو جائے بڑے دلکش سے پیرائے میں ہوتی گفتگو کو کس طرح روکیں یہ بس ایک اُلجھن تھی مگر اُلجھن بھی کیسی " خوشگوار اُلجھن " کہ جس میں مبتلا دونوں ہی یکسر شاد لگتے تھے دلوں کے حال "وہ" جانے بظاہر تو بہت آباد لگتے تھے یہی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے عمر گھٹ کے پھر سے سولہ سال ہو جائے ذرا سی دیر کو منقطع ہو رابطہ اُن سے بُرا سا حال ہو جائے اور پھر جیسے، ہر ایک اچھی کہانی میں کوئی منظر بدلتا ہے یہاں بھی روز و شب بدلے ذرا سی بات پہ رنجش ذرا سی بات پہ جھگڑے یہ مجھ سے تم بات کرتی ہو، تو کیوں کھو سی جاتی ہو۔۔۔۔ " خاموشی اوڑھ لیتی ہو، یہ تم کیوں سو سی جاتی ہو " تمہیں کچھ پاس ہے میرا" ؟ "کوئی احساس ہے میرا"؟ وفا سے دور لگتی ہو مجھے تم چاہتی کب ہو فقط مجبور لگتی ہو اگر تم سے نبھا لوں گا تو تم ناشاد کر دو گی رہو گی ساتھ میرے، مجھے برباد کر دو گی چلو اب جی لیا کافی، ابھی واپس پلٹ جاؤ مجھے آواز مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے واپس نہیں آنا ۔۔۔۔۔۔ میں گر کوئی فیصلہ کر لوں، تو پھر اُس کو نبھاتا ہوں۔۔۔۔ میں خود تعمیر کرتا ہوں، سو میں خود ہی گراتا ہوں تو یہ تو سوچنا بھی مت کہ گر آنسو بہاؤ گی تو اپنے فیصلے میں میں کوئی ترمیم کر دوں گا "ہاں !گر پھر بھی نہ سمجھیں تم تو ایسی ضرب دوں گا کہ تمہیں تقسیم کر دوں گا مگر تقسیم تو تب تک بخوبی ہو چکی تھی جہاں وہ تھی، وہاں اُلجھی ہوئی سی اجنبی لڑکی، کئی حصّوں میں بٹ کے بھی کھڑی تھی یقین سے بے یقینی تک کا رستہ سوچتی تھی ستم جتنے بھی لڑکی نے اُٹھائے' اُن' کی مرضی ہیں رہے واضح ، کہ کہانی کے سبھی کردار فرضی ہیں
  6. ‏کبھی مصروف لمحوں میں اچانک دل جو دھڑکے تو کبھی بےچین سے ہوکر ہر اک سانس تڑپے تو کوئی آتش سی تن من میں اچانک جل کے بھڑکے تو اے جانِ زندگی تب اتنا سمجھ لینا یہمحبت کا اشارہ ہے تمہیں ہم نے پکارا ہے
  7. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  8. کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے۔
  9. Urooj Butt

    Share Your Favorite poetry Here

    میری محبت کی نہ سہی شاعری کی تو داد دے روز میں تیرا ذکر کرتی ہوں بغیر تیرا نام لیے .
  10. ﻣﯿﺮﯼﻣﺤﺒﺖﺑﮩﺖﻋﺠﯿﺐﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺠﺮ نہیں ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽﺩﯾﺪﮐﺎﺍﺭﻣﺎﮞﻧﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮩﯽ ﺍﻥ ﮐﮩﯽ ﮐﺎ ﮔﻤﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﮔﻨﺎ ﻧﮧ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺟﻠﻮﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﺋﮯ ﮐﮭﻮﺋﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﻧﮧﺑﯿﮑﺮﺍﮞﺳﻤﻨﺪﺭﮨﮯﺁﻧﮑﮭﻮﮞﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﮯ ﺟﮭﻤﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ " ﺗﻮ " ﺟﺐ ﻧﻈﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ تیریﺍﮎﻧﻈﺮ ﻣﺠﮫﭘﮧﺍﭨﮭﮯﯾﺎﻧﮧﺍﭨﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪﮪ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭘﮧ ﮐﮭﭩﮏ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼﮨﻨﺴﯽﻣﯿﮟﮨﻨﺲﺩﯾﻨﺎ تیریﺗﮍﭖﭘﮧﺗﮍﭖﺟﺎﻧﺎ ❤❤ﻣﯿﺮﯼﻣﺤﺒﺖﺑﺲﺍﯾﺴﯽﮨﮯ❤❤
  11. تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر
  12. ﺑﺘﺎﻭ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﻨﺎﻭﺀﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﺏ ﺳﻮﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺳﺎ ﺭﻭﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﮒ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﮒ ﮐﻮ ﺑُﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋُﻤﺮ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺭﻭﮒ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑُﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﮒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻠﻮ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺑﺘﺎﻭ ﺍﺏ۔۔ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﺷﻨﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮔُﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺰﺍ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺑﺘﺎﻭﺀ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ
  13. تم اک گورکھ دهنده ہو کھیل کیا تم نے اَزَل سے یہ رَچا رکھا ہے رُوح کو جسم کے پِنجرے کا بنا کر قیدی اُس پہ پھر موت کا پہرا بھی بٹھا رکھا ہے دے کے تدبیر کے پنچھی کو اُڑانیں تم نے دامِ تقدیر بھی ہر سَمْت بچھا رکھا ہے کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تم نے ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے لامکانی کا بہرحال ہے دعویٰ بھی تمہیں نَحْنُ اَقْرَبْ کا بھی پیغام سنا رکھا ہے یہ بُرائی، وہ بھلائی، یہ جہنّم، وہ بہشت اِس اُلْٹ پھیر میں فرماؤ تو کیا رکھا ہے؟ جُرم آدم نے کِیا اور سزا بیٹوں کو ! عدل و انصاف کا مِعیار بھی کیا رکھا ہے دے کے انسان کو دنیا میں خلافت اپنی اک تماشا سا زمانے میں بنا رکھا ہے اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو سب کی نظروں سے مگر خود کو چُھپا رکھا ہے تم اک گورکھ دھندا ہو نِت نئے نقش بناتے ہو، مٹا دیتے ہو جانے کس جُرمِ تمنّا کی سزا دیتے ہو کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کَنی کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں مِلا دیتے ہو زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو خواہشِ دید جو کر بیٹھے سرِ طُور کوئی طُور ہی برقِ تجلّی سے جلا دیتے ہو نارِ نمرُود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلِیل خود ہی پھر نار کو گُلزار بنا دیتے ہو چاہِ کنعان میں پھینکو کبھی ماہِ کنعاں نُور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو بیچو یُوسُف کو کبھی مِصْر کے بازاروں میں آخرِ کار شَہِ مِصْر بنا دیتے ہو جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی بیٹھ کر دل میں اَنا الْحَق کی صدا دیتے ہو خود ہی لگواتے ہو پھر کُفْر کے فتوے اُس پر خود ہی منصُور کو سُولی پہ چڑھا دیتے ہو اپنی ہستی بھی وہ اِک روز گنوا بیٹھتا ہے اپنے دَرْشَن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو کوئی رانجھا جو کبھی کَھوج میں نکلے تیری تم اسے جھنگ کے بیلے میں رُلا دیتے ہو جستجو لے کے تمہاری جو چلے قَیس کوئی اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو جَوْت سَسّی کے اگر مَن مِیں تمہاری جاگے تم اسے تپتے ہوئے تَھل میں جلا دیتے ہو سوہنی گر تم کو مہینوال تصوُّر کر لے اس کو بِپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو خود جو چاہو تو سرِ عرش بُلا کر محبوب ایک ہی رات میں مِعراج کرا دیتے ہو تم اک گورکھ دھندا ہو آپ ہی اپنا پردہ ہو تم اک گورکھ دھندا ہو جو کہتا ہوں، مانا، تمہیں لگتا ہے بُرا سا پھر بھی ہے مجھے تم سے بہرحال گِلہ سا چُپ چاپ رہے دیکھتے تم عرشِ بریں پر تپتے ہوئے کَربَل میں مؐحمد کا نوا سا کِس طرح پلاتا تھا لہو اپنا وفا کو خود تین دنوں سے وہ اگرچہ تھا پیاسا دُشمن تو بہر طور تھے دُشمن مگر افسوس تم نے بھی فراہم نہ کِیا پانی ذرا سا ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وِراثَت مظلوم کے حصّے میں تسلّی نہ دلاسا کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سَر پر ہے آج اُسی شخص کے ہاتھوں میں ہی کاسہ یہ کیا ہے اگر پُوچُھوں تو کہتے ہو جواباً اِس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا تم اک گورکھ دھندا ہو حیرت کی اک دنیا ہو تم اک گورکھ دھندا ہو ہر ایک جا پہ ہو لیکن پَتا نہیں معلوم تمہارا نام سُنا ہے، نِشاں نہیں معلوم تم اک گورکھ دھندا ہو دل سے اَرمان جو نکل جائے تو جُگنُو ہو جائے اور آنکھوں میں سِمَٹ آئے تو آنسو ہو جائے جاپ یا ہُو کا جو بے ہُو کرے ہُو میں کھو کر اُس کو سُلطانیاں مِل جائیں، وہ باہُو ہو جائے بال بِیکا نہ کسی کا ہو چُھری نیچے حَلْقِ اَصغَر میں کبھی تِیر ترازُو ہو جائے تم اک گورکھ دھندا ہو کس قدر بے نیاز ہو تم بھی داستانِ دراز ہو تم بھی مرکزِ جستجوِ عالمِ رنگ و بُو دَم بہ دَم جلوَہ گر تُو ہی تُو چار سُو ہُو کے ماحول مِیں، کچھ نہیں اِلّا ہُو تم بہت دِلرُبا، تم بہت خُوبرُو عرش کی عظمتیں، فَرش کی آبرو تم ہو کونین کا حاصلِ آرزو آنکھ نے کر لیا آنسوؤں سے وُضو اب تو کر دو عطا دید کا اِک سَبُو آؤ پَردے سے تم آنکھ کے روبرو چند لمحے مِلن، دو گھڑی گفتگو نازؔ جَپتا پِھرے جا بجا کُو بہ کُو ... وَحْدَہٗ، وَحْدَہٗ، لَا شَریک لَهٗ
  14. Urooj Butt

    بچھڑنے والے

    بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کتنی شامیں اداس آنکھوں میں کاٹنی ہیں___؟؟؟ کہ کتنی صبحیں اکیلے پن میں گزارنی ہیں___؟؟؟ بتا کے جاؤ کہ کتنے سورج عذاب رستوں کو دیکھنا ہے___؟؟؟ کہ کتنے مہتاب سرد راتوں کی وسعتوں سے نکالنے ہیں ؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ چاند راتوں میں وقت کیسے گزارنا ہے___؟؟؟ خاموش لمحوں میں تجھ کو کتنا پکارنا ہے_؟؟؟ بتا کے جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کتنے لمحے شمار کرنے ہیں ہجرتوں کے___؟؟؟ کہ کتنے موسم اک ایک کر کے جدائیوں میں گزارنے ہیں ؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ پنچھیوں نے اکیلے پن کا سبب جو پوچھا تو کیا کہوں گا____؟؟؟ کسی نے رستے میں روک کر جو مجھ سے پوچھا کہ پچھلے موسم میں ساےٴ ساےٴ جو اجنبی تھا ۔ ۔ ۔ !!۔ کہاں گیا ہے____ ؟؟ ؟ تو کیا کہوں گا____؟؟؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کس سے تیرا گلہ کروں گا___؟؟؟ بچھڑ کے تجھ سے حبیب . . کس سے ملا کروں گا___؟؟؟ بتا کے جاؤ کہ آنکھ برسی تو کون موتی چنا کرے گا؟ اداس لمحوں میں دل کی دھڑکن سنا کرے گا___؟؟؟؟ بتا کے جاؤ کہ موسموں کو پیام دینے ہیں____؟؟؟ یا نہیں___؟؟؟ فلک کو ، تاروں کو ، جگنوؤں کو سلام دینے ہیں___؟؟؟ یا نہیں___؟؟؟؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کس پہ ہے اعتبار کرنا___؟؟؟ تو کس کی باتوں پہ بےنیازی کے سلسلے اختیار کرنا ؟ بتا کے جاؤ کہ اب رویوں کی چال کیا ہو___؟؟؟ جواب کیا ہو____ ؟ سوال کیا ہو____؟ عروج کیا ہو___؟ زوال کیا ہو____؟ نگاہ ، رخسار ، زلف ، چہرہ . . نڈھال کیا ہو___ ؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ میری حالت پہ چاندنی کھلکھلا پڑی تو میں کیا کروں گا____ ؟؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ میری صورت پہ تیرگی مسکرا پڑی تو میں کیا کروں گا____ ؟؟ بتا کے جاؤ کہ تم کو کتنا پکارنا ہے____؟؟؟ بچھڑ کے تجھ سے یہ وقت کیسے گزارنا ہے___؟ اجاڑنا ہے___؟ نکھارنا ہے____ ؟ بدن کو کتنا سوارنا ہے____ ؟ چلے جو ہو تو___ بتا کے جاؤ___ !! _____کہ لَوٹنا بھی ہے____ ؟؟ یا
  15. آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بُجھ گیا دل ــ چراغ جلتے ہی کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تُو ـ ـ کہ پھر نہ دیکھا تُجھے مِٹ گیا خواب ــ آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکسِ دیوار کے بدلتے ہی خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں چڑھ گیا زہر ــ گل مسلتے ہی
  16. چــــــــــــلو اک دن رکھتے ہیں لـــــــــــڑنے کا جھگڑنے کا ماننے کا روٹھ جانے کا بــــــاقی کے دنوں میں تــــــــــــــــــــــــم چــــــــــــلو وعدہ کرو مجھ سے نا روٹھو گے نا جاو گے نا چھوڑو گے آزماو گے چــــــــــــلو وعدہ کرو مجھ سے مــــــحبت تــــــــــــــــــــم نبھاو گـــــــــــــــــے
  17. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  18. Hareem Naz

    Dil k zindaan

    تمہیں اپنے دل کے زندان میں مقید کر کے😍 تاوان میں تم سے عمر بھر کا ساتھ مانگوں گا....😉 #بابو ❤
  19. *امتحان جامعہ کا وہ زمانہ یاد ہے* *رات بھرجگ کرکتابوں، کو ملانایاد ہے* *مسجدو دارالإقامہ اور مزار پاک میں* *ہر جگہ ہر پل وہاں رٹا لگانا یاد ہے* *بےخودی ,وارفتگی اور فکر دائم کے سبب* *مضمحل ہوکر کہیں بھی، لیٹ جانا یاد ہے* *بال, ناخن اور کپڑوں کا نہیں رہتا خیال* *ناشتہ, کھانا بھی اکثر، بھول جانا یاد ہے* *منطقی اور فلسفی پر پیچ بحثوں کے سبب* *تار ذہنی بھی کسی کا، چھوٹ جانا یاد ہے* *جبل شامخ کی طرح لگتا ہمیں جن کا نصاب* *ان کتابوں کا فقط ، پرچہ ملانا یاد ہے* *امتحاں میں جب کبھی ٹکرا گیا کوئی سوال* *اضطراری کیف میں خوشیاں منانا یادہے* *لائٹ دینے میں اگر تاخیر کردیتا شمیم* *مشتعل ہوکر ہمارا ، ہٹہٹانا یادہے* *ہم پڑھیں گے ابتدا سے اب نہ چھوڑ یں گے سبق* *امتحاں کے بعد وعدہ، بھول جانا یاد ہے* *ہے دعا نعمان کی یہ پاس ہوجائیں سبھی* *اے خدا ہم کو بھی اپنا وہ زمانہ یاد ہے*
  20. ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah
  21. دس ایس ہجر دی "حد" مینوں تُو فیر ملیں گا "کد" مینوں؟؟؟ مُک جان حیاتی دے "دُکھڑے'' آ "کول" میرے یا "سد' ،مینو
  22. " غالب " نظر کے سامنے حسن و جمال تھا " محسن " وہ بشر خود میں سراپا کمال تھا ہم نے " فراز " ایسا کوئی دیکھا نہیں تھا ایسا لگا " وصی " کہ وہ گڈری میں لعل تھا اب " میر " کیا بیان کریں اس کی نزاکت ہم " فیض " اسے چھو نہ سکے یہ ملال تھا اس کو " قمر " جو دیکھا تو حیران رہ گئے اے " داغ " تیری غزل تھا وہ بیمثال تھا " اقبال " تیری شاعری ہے جیسے باکمال وہ بھی " جگر " کے لفظوں کا پر کیف جال تھا بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تھا وہ " قتیل " یعنی " رضا " یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تھا
  23. 🌹 کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا
  24. Urooj Butt

    poetry میری مرضی

    جس سے چاہوں ہاتھ ملاؤں میری مرضی پھر آنکھوں سے دھوکا کھاؤں میری مرضی میرے لفظ ہیں، تم کو کیا تکلیف ہے ان سے جو بھی لکھ لوں، جس کو سناؤں، میری مرضی اس کا ہجر منانا ہی جب واجب ٹھہرا روؤں پیٹوں، ناچوں گاؤں، میری مرضی تیرے شہر میں اپنی بھی پہچان ہے کافی کچھ دن ٹھہروں، آؤں جاؤں، میری مرضی تیری باتیں لوگ سمجھتے ہیں تو سمجھیں جیسے بھی میں شعر سناؤں، میری مرضی کون سا تم بھی ساتھ چلے، جس راہ پڑا میں لوٹ آؤں یا آگے جاؤں، میری مرضی تم نے اس کا کیا چھوڑا، جو پوچھ رہے ہو اب میں جیسے دل بہلاؤں، میری مرضی روح میں کوئی ماتم برپا ہے، سو ہے نوحہ پڑھ لوں، ساز بجاؤں، میری مرضی
  25. مقابل ہوں جو وہ میرے تو سب کچھ وار جاتے ہیں ہم اپنی ذات کی خوشیاں اُنہی سے جوڑ جاتے ہیں وہ ہم کو جیت جاتے ہیں, ہم اُن پے ہار جاتے ہیں وہ اپنی اِک نگاہ بخشیں تو ہم کو مار جاتے ہیں ©S.S Writes
×