Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'urdu'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 545 results

  1. Hareem Naz

    Raah e zindagani

    میں راہِ زندگانی پر قدم جب بھی بڑھاتا ہوں کہیں کانٹوں سے بچنا ہے کہیں دل کو کچلنا ہے کہیں اپنوں کی بے رخیاں کہیں غیروں کے طعنے ہیں میں تھک کر بیٹھ جاتا ہوں نگاہ اوپر اٹھاتا ہوں خدایا رستہ مشکل ہے میں ہمت کم ہی پاتا ہوں کہیں پھر پاس سے دل کے صدا اک خوب آتی ہے کہ راہیں جنّتوں کی کب بھلا آسان ہوتی ہیں ،،؟ کہیں صحرا کی تپتی ریت کہیں طائف کے پتھر ہیں کہیں اپنے ہی تلواریں لیے اس جاں کے در پے ہیں اگرچہ ہے بہت مشکل مگر اس راہ سے پہلے بھی کتنے لوگ گزرے ہیں انہی قدموں پہ چلنا ہے کہ پھر اک حسین منزل تمہاری منتظر ہو گی بس یہ یاد رکھنا تم منازل جب حسیں ہوں تو راہیں دشوار ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔
  2. بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں! آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں اللہ ! اِسے پار لگائے تو لگائے کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں یُوں ملتے ہیں، جیسے نہ کوئی جان نہ پہچان دانستہ نصیرؔ آج وہ انجان بہت ہیں
  3. Hareem Naz

    Shikwa jwb e shikwa

    شکوہ جوابِ شکوہ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس وحشتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ جان لیوا دہشتیں ہیں عشق میں دیکھا جو میں نے جھانک کر حیرت کدوں میں بارہا دیکھی نہیں ہیں باخدا جو حیرتیں ہیں عشق میں ان کی حزینِ داستاں سن کر بڑا ہی دکھ ہوا ساری کی ساری لٹ گئیں جو راحتیں ہیں عشق میں وعدہ وفا کی آڑ میں کرتے رہے بیوپار جو ہیں تخمِ ناہنجار لوٹیں عصمتیں ہیں عشق میں بے چینیوں کا طبل بجتا ہی رہا دل میں مرے یہ جھوٹ ہے کہتے ہیں جو کہ راحتیں ہیں عشق میں مقتل میں جا کے روٹھ بیٹھے ہیں مرے ارمانِ دل پالا تھا ہم کو شوق سے کہ چاہتیں ہیں عشق میں ان کی جفاوؑں کا صنم جب بھی ہوا ہے تذکرہ دلبر گماں ہوتا رہا بس نفرتیں ہیں عشق میں جوابِ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس راحتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ یار کی بس چاہتیں ہیں عشق میں حیرت کدوں میں جھانک کر دیکھا تو ہے تُو نے صنم حیران ہے جن سے جہاں وہ حاجتیں ہیں عشق میں کہتے نہیں اس کو حزیں یہ دلبری شیوہ نہیں دلدار پر کردو فدا جو راحتیں ہیں عشق میں بیوپار جو کرتے رہے جسموں پہ وہ مرتے رہے نفسِ طلب کی باخدا کب حاجتیں ہیں عشق میں دلدار کو دلدار سے فرصت کبھی ملتی نہیں اک پل قضا ہوتا نہیں وہ ساعتیں ہیں عشق میں پالا ہے جن کو شوق سے میرے جنونِ عشق نے ارمانِ دل وہ آج سارے قربتیں ہیں عشق میں جب بھی وصالِ یار کا دلبر گماں ہوتا رہا کامل یقیں ہوتا رہا کہ صحبتیں ہیں عشق میں
  4. Hareem Naz

    intakhab e Man

    نفع کی صورت ہؤا ، جتنا بھی خمیازہ ہؤا ، غم سہا جاتا ہے کیسے، ہم کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ زندگی درویش کی مانند ہی میں نے کاٹ دی جب سے مجھ پہ بند اُس کے گھر کا دروازہ ہؤا ۔۔۔ موسمٍ گل! تیرا آنا بھی سزا سے کم نہیں ، وقت نے جو بھر دیا تھا ، زخم پھر تازہ ہؤا ۔۔۔ فکر کا سیاح میرے جیتے جی لوٹا نہیں ، جو مرے احساس میں باقی تھا شیرازہ ہؤا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے دُعا مقبول میری ہو گئ! آج اپنی حیثیت کا مجھ کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ مصلحت کوشی تجھے منزل تلک لے جائے گی! روح کی گہرائیوں میں ایسا آوازہ ہؤا ۔۔۔ تیرے چہرے کی اُداسی وہ چھپا سکتا ہے اب ، آجکل ایجاد پارس ایسا بھی غازہ ہؤا ۔۔۔!
  5. تم ابرِ گریزاں ہو میں صحرا کی مانند ہوں دو بوند جو برسو گے بے کار میں برسو گے ہے خشک بہت مٹی ہر سمت بگولے ہیں صحرا کے بگولوں سے اٹھتے ہوئے شعلے ہیں تم کھل کہ اگر برسو تو صحرا میں گلستاں ہو پر تم سے کہیں کیسے تم ابرِ گریزاں ہو جل تھل جو اگر کر دو تن من میں نمی بھر دو ہے خشک بہت مٹی پوری جو کمی کر دو پھر تم کو بتائیں گے تم میری محبت ہو لیکن تم تو ابرِ گریزاں ہو اور میں صحرا کی مانند ہوں تم ابرِ گریزاں ہو تم ابرِ گریزاں ہو
  6. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  7. Hareem Naz

    Tera Ehsas chuno

    میں لفظ چُنوں .. دلکش چُنوں پھر ان سے تیرا احساس بُنوں تجھے لکھوں میں دھڑکن اس دل کی یا تجھ کو ابر کی رم جھم لکھوں ستاروں کی عجب جھلمل کبھی پلکوں کی تجھے شبنم لکھوں .. کبھی کہہ دوں تجھے میں جاں اپنی کبھی تجھ کو میں اپنا محرم لکھوں کبھی لکھ دوں تجھے ہر درد اپنا کبھی تجھ کو زخم کا مرہم لکھوں تو زیست کی ہے امید میری میں تجھ کو خوشی کی نوید لکھوں لفظوں پہ نگاہ جو ڈالوں کبھی ہر لفظ کو بیاں سے عاجز لکھوں! میں تجھ کو تکوں.. تکتی جاؤں میں تجھ کو میری تمہید لکھوں! تو گفت ہو میرے اس دل کی.. میں تجھ کو فقط شنید لکھوں....
  8. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  9. "لفظوں کے تھکے لوگ" ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے درد دل میں چھپا کے رکھتے ہیں آنکھ ویراں ہے اس طرح ان کی جیسے کچھ بھی نہیں رہا اس میں نہ کوئی اشک نہ کوئی سپنا نہ کوئی غیر نہ کوئی اپنا پپڑیاں ہونٹ پر جمی ایسی جیسے صدیوں کی پیاس کا ڈیرہ جیسے کہنے کو کچھ نہیں باقی درد سہنے کو کچھ نہیں باقی اجنبیت ہے ایسی نظروں میں کچھ بھی پہچانتے نہیں جیسے کون ہے جس سے پیار تھا ان کو کون ہے جس سے کچھ عداوت تھی کون ہے جس سے کچھ نہیں تھا مگر ایک بے نام سی رفاقت تھی سوکھی دھرتی کو ابر سے جیسے ایسی انجان سی محبت تھی رنگ بھرتے تھے سادہ کاغذ پر اپنے خوابوں کو لفظ دیتے تھے اپنی دھڑکن کی بات لکھتے تھے دل کی باتوں کو لفظ دیتے تھے اس کے ہونٹوں سے خامشی چن کو اس کی آنکھوں کو لفظ دیتے تھے چاندنی کی زباں سمجھتے تھے چاند راتوں کو لفظ دیتے تھے ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے اپنے جذبوں سے تھک گئے جیسے اپنے خوابوں سے تھک گئے جیسے دل کی باتوں سے تھک گئے جیسے اس کی آنکھوں سے تھک گئے جیسے چاند راتوں سے تھک گئے جیسے ایسے خاموشیوں میں رہتے ہیں اپنے لفظوں سے تھک گئے جیسے
  10. کیا حال سنائیں دُنیا کا کیا بات بتائیں لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں اک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں پرچھائی بھی انکی پاتے نہیں کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا کچھ لوگ مثال ابر رواں کچھ اونچے درختوں کا سایہ کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں کچھ لوگ اندھیروں کی کالک چہرے پر اچھالا کرتے ہیں کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں دو گام چلے اور رستے الگ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ کیا حال سنائیں اپنا تمہیں کیا بات بتائیں جیون کی اک آنکھ ہماری ہستی ہے اک آنکھ میں رت ہے ساون کی ہم کس کی کہانی کا حصہ ہم کس کی دعا میں شامل ہیں ہے کون جو رستہ تکتا ہے ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں ہم کھوئے گئے کن راہوں میں اس بات کو صاحب جانے دیں کچھ درد سنبھالے سینے میں کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے اک عمر گنوائی ہے اپنی، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے دل خرچ کیا ہے لوگوں پر جان کھوئی ہے غم پایا ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے
  11. جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے لذت غم سے آشنا ہو کر اپنے محبوب سے جدا ہو کر دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا تیرے لب پہ نام ہو گا پیار کا شمع دیکھ کر جلے گا دل تیرا جب کوئی ستارہ ٹمٹمائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا زندگی کے درد کو سہو گے تم دل کا چین ڈھونڈتے رہو گے تم زخم دل جب تمہیں ستائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا جب کوئی پیار سے بولائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا
  12. تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا ؟ تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں "وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا" یہ ترے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے تُو بدن چاٹ کے الفت سے مکر جائے گا میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا اے مرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا قیس کو قیس نما اور مجھے قیس کہا میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا
  13. وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے 'کن فیکوں' علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
  14. تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر
  15. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  16. Urooj Butt

    دشوار

    کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی
  17. Urooj Butt

    محبت کا یقیں

    ‏تجھ کا آتا ہی نہیں میری محبت کا یقیں کب سے یہ ہاتھ تیری سمت بڑھا رکھا ہے دل کی گھاٹی میں دبے پاؤں اتر جاتی ہیں تیری آنکھوں نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے
  18. Urooj Butt

    محبت راستہ ہوتی

    محبت راستہ ہوتی تو اس پہ عمر بهر چلتے کہیں تهک کے جو رک جاتے تو تیری آرزو کرتے تمہیں لا کر خیالوں میں تمهی سے گفتگو کرتے تمهی کو سوچتے پہروں تمهاری جستجو کرتے اگر تم زخم بهی دیتے تو ہم اس کو رفو کرتے کوئی شکوہ گلہ ہو تا تو وہ بھی رو برو کرتے محبت راستہ ہوتی تو اس پر عمر بهر چلتے
  19. ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں دنیا اتنی بُری نہیں نہ ملال کر میرے ساتھ آ ، جو گزر گیا سو گزر گیا
  20. waqas dar

    poetry Kabhi Mayoos Mut Huna

    ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ،ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ،ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﯿﻨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﺘﺎ ،ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻧﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ ،ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺧﺪﺍ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﻇﺮ ﺑﮭﯽ ،ﺧﺪﺍ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ ،ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ،ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ،ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ،ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﮔﺮ ،ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮨﻮﺍ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮ ،ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﭼﮑّﯽ ،ﺫﺭﺍ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻣﮕﺮ ﭼﮑّﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،ﺑﮩﺖ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﺴﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺘﺮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ،ﻧﯿﺖ ﺗﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﻠﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،ﻋﻤﻞ ﻧﺎﭘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ،ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺩﮮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺩﺭﯾﺪﮦ ﺩﺍﻣﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ،ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ،ﺍﮔﺮ ﮐﺶ ﮐﻮﻝ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮ ،ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﻮﺏؑ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ،ﺯﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﺑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﮐﮩﯿﮟ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ،ﺍﮔﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ،ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺠﺮ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ ،ﮐﺪﻭ ﮐﯽ ﺑﯿﻞ ﺍﮔﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺟﻮ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ،ﻋﻼﺝِ ﻧﺎ ﺗﻮﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﭨﯿﺴﻮﮞ ﮐﻮ ،ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺩُﮐﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﺗﻤﻨﺎ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﻋﺎﺻﻢؔ ﮐﺒﮭﯽ ،ﺑﺠﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺁﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ،ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮐﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺟﺐ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﮔﺮ ،ﭼﮭﻠﮏ ﮐﮯ ﺟﻮﺵ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،ﻗﮩﺮ ﮈﮬﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﻮﺭﺝ ،ﯾﮑﺎ ﯾﮏ ﮐﺎﻧﭗ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،ﮨﻮﺍ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ،ﮔﮭﭩﺎ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺗﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺗﺮﺳﺘﮯ ﺭﯾﮓ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ،ﺍﺑﺮ ﺑﮩﮧ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﻧﻈﺮ ﻭﮦ ﺍﭨﮫ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ،ﮐﺮﻡ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻤﮑﺘﺎ ﺩﻥ ،ﺍﻣﺮ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
  21. بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو ۔۔۔۔سلام ہو گا ناں ؟؟ کبھی کبھار ہی لیکن ۔۔پکارتے ہیں تجھے ہمارا چاہنے والوں میں نام ۔۔۔ہو گا ناں ؟؟ افتخار شاہد
  22. سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں دل کو برباد روح کو ناشاد خُود کو آباد سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر بار کامل جفا ہمیشہ بے خطا کبھی نہ وفا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں نئے عُذر تراشنا نئے بہانے بنانا جھوٹی قسمیں کھانا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں محبت میں مُنافقت مُنافقت میں رفاقت جُھوٹ میں صداقت سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں یار بدل لینا پیار بدل لینا اطوار بدل لینا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر اِک سے فریب ہونا سراپأِ فریب رہنا دیدہ زیب سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں بے و فائیاں کیسے کرتے ہیں کج ادائیاں کیسے کرتے ہیں نئی آشنائیاں سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
  23. Urooj Butt

    میں کہتی تھی

    ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺤﺮﺍ ﺳُﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺑِﻠﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺾ ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﮕﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﺎﺭ ﺳﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﭼُﮭﻮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍِﺱ ﺣﺼﺎﺭِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﻢ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻟﻤﺤﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺭﻗﻢ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ، ﺑُﮭﻼ ﺩﻭ ﺟﻮ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﺎﮞ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ، ﺑُﺖ ﮐﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺑﺖ ﺷﮑﻦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻢ ﺧﺎﮎ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺭﺱ ﻧﮧ ﺗُﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐُﮩﺮ ﮐﺐ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺁﺧﺮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻠﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺳﺘﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺠﺎﺭﮦ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺍُﺳﮯ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭧ ﮐﺮ ﮨﺎﺭﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟِﺒﺎﺩﮮ ﺯﺭﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺧﺰﺍﮞ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﺌﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩِﯾﮯ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﺘﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ ﺭﮐﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﮯ ﺳﺐ ﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﯽ ﮐﯿﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳُﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﮍ ﺟﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﺫﺍﺕ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺯِﻧﺪﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺎ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺍﮐﺜﺮ ہی ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗُﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯَﺩ ﭘﮧ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯿﺴﯽ؟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻣﺪﮬﻢ ﮨیں ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻭﻗﻒ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔُﻢ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍُﻧﮕﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﮔِﻦ ﻟﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺷِﺪّﺕ ﺳﮯ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻨﺎﺅ ﺣﺎﻝ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﮐﺎ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﮧ ﺭﻭﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺷﺎﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﯼ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﺍُﺱ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺑﺖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺣَﺪ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﻋﺸﻖ ﺟﯿﺴﮯ ﺭُﻭﺡ ﮐﺎ ﺳﺮﻃﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ؟ !ﮐﮩﺎ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﻘﺶِ ﭘﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺫﺭّﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣُﺴﻦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﮎ ﮐﻨﻮﻝ ﺭﺥ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺣﺮ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﻞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﭨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺫّﯾﺖ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗُﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﺍﺏ ﺩﺍﺅ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﺱ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺎﺭ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﺐ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭼﭗ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﻑ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﺩَﺭ ﻭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﺎ ﻟﮩﻮ ﺟﮭﻠﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ، ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﻋﺚ ﯾﮧ ﺭَﺗﺠﮕﮯ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺷﺐ ﮐﻮ ﺭﻭﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮐﺘﻨﺎ؟ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﭘﻞ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍِﮎ ﺩُﻋﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩُﻋﺎ ﮐﺎ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﮐﮩﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ، ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮔﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﺪّﺕ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﮐﺎﺗِﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﮨَﻮﺍ ﮐﻮ ﮐﺐ ﺑﻼﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﻣﯿﺪ ﮐﯽ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﺎﮦِ ﻣﻦ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺗﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﺒﮭﯽ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻭﮨﯽ ﻗِﺼّﮧ ﺗﻮ ﺩﻭﮨﺮﺍﺅ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣُﻮﻧﺪ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﮐﺲ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﮧ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻢ ﺯﺩﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺭﻡ ﺟِﮭﻢ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟَﻞ ﺗﺮﻧﮓ ﺩﻝ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﯿﺎ؟ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺲ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﮩﺎ ﺟُﮭﮑﺘﯽ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ، ﺍُﭨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺒﯿﻦ ﻭ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﭼﮑﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭ ﺍﭘﻨﺎ، ﺟﺒﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﻭﮞ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﯾﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺴﺮﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﯾﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺯﺧﻢ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻏﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻮ ﮔﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻧَﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﮞ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﻧَﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮩﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﻮﮞ ﮐﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟُﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﺑﻦ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍِﺗﻨﺎ ﮐﮩﻮ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﻧﭩﻮ ﮔﮯ؟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﺐ ﺑﻮﻻ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﮭﺮ ﺑُﻼﺗﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﻓِﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮑﮫ ﺑﮭﺮﻭﮞ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﮐُﻮﻧﺞ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘَﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺮﻭﮞ؟ ﮐﮩﺎ ﺑﮯ ﺁﺏ ﻣﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺳﺎ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﭘﮩﻦ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧَﺲ ﻧَﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﻮ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﮯ ﮐﮩﺎ ﺍِﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﺗﺮﯾﺎﻕ ﮨﮯ ﺑﺲ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮨﻮﮔﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﻃﮯ ﮨﮯ ﺗُﮩﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳَﺮﺍﺑﯽ ﮨﻢ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﯽ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺗﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭘﯿﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﭘُﮑﺎﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺅﮔﯽ ﺳُﻨﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺣﻠﻘﮧﺀ ﯾﺎﺭﺍﮞ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﻣﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺁﺯﻣﺎﺅﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﮏ، ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺅﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐِﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ
  24. Urooj Butt

    کچھ بول پیا

    ذات کا گنجل کھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ اس رات کی کالی چادر کو یہ چاند ستارے اوڑھ چکے۔۔۔ کچھ جان سے پیارے یار سجن دل توڑ چکے، مکھ موڑ چکے۔۔۔ خود آپ بھٹکتی راہوں میں یہ تن تنہا مت رول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ وہ عشوہ و غمزہ دیکھ لیا اب رات کٹے گی خوابوں میں۔۔۔ میں نام ترے جیون جیون تم اب تک دور سرابوں میں۔۔۔ جو راکھ ہوئی ان خوابوں میں یہ ہستی ہے انمول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ تو جب تک اپنے پاس رہا گرداب کا گھیرا راس رہا۔۔۔ پر تول چکا، سب بول چکا اب من پنچھی بے آس رہا۔۔۔ جذبات نہیں معصیت کے یوں زہر نہ ان میں گھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ دربار لگا ہے زخموں کا دردوں کی نمائش جاری ہے۔۔۔ رِستا ہے لہو ان پھولوں سے خاروں کی ستائش جاری ہے۔۔۔ ہر زخم مہکنے لگ جائے اک بول تو ایسا بول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔
  25. دل ﻣﻀﻄﺮ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺗﮍﭘﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﺮﮎِ ﺁﺭﺯﻭ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺎ ﺑﮭﯽ ، ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﺘﻢ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ❤ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ
×