Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

ROHAAN

🌊 RISING MEMBER
  • Posts

    143
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    22

ROHAAN last won the day on September 24 2019

ROHAAN had the most liked content!

1 Follower

About ROHAAN

Contact Methods

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Interests
    FRIENDSHIP
  • Location
    Karachi

Recent Profile Visitors

6,401 profile views

ROHAAN's Achievements

Community Regular

Community Regular (8/14)

  • Reacting Well Rare
  • Week One Done
  • One Month Later
  • One Year In
  • Conversation Starter Rare

Recent Badges

75

Reputation

  1. ROHAAN

    دل

    آسانی سے ہم کہاں ہاتھ آتے ہیں دل لگا کے ہمیں ڈھونڈتا کون ہے
  2. واااااہ بہت اعلیٰ
  3. کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ‏کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا ‏لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا ‏جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟ آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
  4. دکھ کہتا ہے ایک دن مجھ سے بڑا دکھ ہے مجھے میں نے پوچھا کس بات کا دکھ؟ کہتا ہے بس کچھ ہے میں نے پوچھا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟ کہتا ہے ہاں پھر پوچھا کوئی بیماری تو نہیں؟ کہتا ہے نہیں پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟ کہتا ہے ہاں سر پہ چھت ہے؟ کہتا ہے ہاں پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ جہاں قحط تھا بچوں کے جسم لباس سے عاری اور پیٹ اناج سے خالی سونے کو چھت نہیں نہ سردی کی لذت نہ گرمی کی ہیبت احساس جیسے باقی ہی نہ رہے ایک اور ایسی جگہ جہاں زندگی ایک جرم تھی روز لاشیں گرتیں عزتیں پامال ہوتیں ظلم اپنی انتہا پہ جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی شکر تھا کہ سلامت ہیں پھر میں نے پوچھا اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟ کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی آج سمجھ آئے ہیں
  5. جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو پھر ہٹاؤں گا ابھی میں آگ سے نظریں ہٹانے والا نہیں تجھے کسی نے غلط کہہ دیا میرے بارے نہیں میاں میں دِلوں کو دُکھانے والا نہیں ہے ایک رمز جو تجھ پر عیاں نہیں کرنی ہے ایک شعر جو تجھ کو سنانے والا نہیں فقیر قول نبھاتا ہے پریم کرتا ہے فقیر کوئی کرامت دِکھانے والا نہیں سن اے قبیلہء ِ کوفی دِلاں مُکرر سن علی کبھی بھی حزیمت اُٹھانے والا نہیں
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...