Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

ROHAAN

Member
  • Content Count

    81
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    21
  • Points

    771 [ Donate ]

Everything posted by ROHAAN

  1. کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ‏کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا ‏لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا ‏جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟ آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
  2. رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں قریب ہیں۔ اس کی برکتیں اور رحمتیں بے شمار ہیں۔ یہ مہینہ آخرت کمانے،باطن سنوارنے،اورزندگی بنانے کا ہے۔ اس لیے اس کی پہلے سے تیاری کی ضرورت ہے۔ اس ماہ(رمضان المبارک) میں جتنے کام عام طور پر پیش آتے ہیں، ان میں سے جتنے کام رمضان المبارک سے پہلے ہو سکیں،پہلے ہی کر لیے جائیں۔ او رجو کام رمضان المبارک میں کرنے ہوں، ان کے کرنے میں بھی کم سے کم وقت لگایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت رمضان المبارک میں ذکر وعبادت اور دعا وتلاوت کے لیے فارغ کرسکیں۔ بلا ضرورت لوگوں سے ملاقات کرنا ترک کردیں،تاکہ فضولیات میں قیمتی مہینہ یا اس کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔ اس ماہ میں گناہوں سے بچنے کی خوب کوشش کریں، آنکھ، کان، ناک، دل زبان اور ہاتھ پیروں کو گناہوں سے بچائیں۔ T.V دیکھنے، گانا سْننے سے بچیں، خواتین بے پردگی کے گناہ سے بطور خاص اپنی حفاظت کریں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، گالم گلوچ، اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب برتیں۔تراویح پورے ماہ پابندی سے ادا کریں۔کیوں کہ عموماََلوگ دس یا پندرہ روزہ تراویح پڑھ کر سمجھ کر لیتے ہیں کہ اب ان پر آگے تراویح نہیں۔ان کا فرض پورا ہوگیا۔یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ایک دفعہ تراویح میں قرآن کی سماعت کرلینے سے فرض پورا ہوگیا۔نہیں! مکمل قرآن تروایح میں سننا الگ سنت ہے،اور پورا ماہ پابندی سے تراویح پڑھنا الگ سنت۔ اسی طرح اللہ پاک سے گڑ گڑا کر اپنے والدین، اہل وعیال اور تمام مسلمان مردوں وعورتوں کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے خاص طو رپر اس کی رضا اور جنت مانگیں۔اللہ کی ناراضگی اور دوزخ کی آگ سے پناہ مانگیں۔ رمضان المبارک ایسا مقدس مہینہ ہے کہ اس میں ہر فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر کردیا جاتا ہے، اور ہر نفل عبادت کاثواب فرض کے برابر۔ یہ صبر وغم خواری کرنے کا مہینہ ہے۔ روزہ افطار کرانا ۔لوگوں کی خوشیوں میں شامل حال ہو کر ان کی ہمت بندھانا۔مساکین و یتامیٰ کی کفالت کرنا۔ اس ماہ کا ہر عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ پہلا عشرہ سراسر رحمت ہے۔ دوسرا عشرہ دِن ورات مغفرت کا عشرہ ہے۔ اور آخری عشرہ دوزخ سے آزادی کے لیے ہے۔اس مہینے میں تمام آسمانی کتابوں اور صحائف کا نزول ہوا ۔خاص طور پر قرآن مجید کا نزول تو خود ہی قرآن نے ہمیں بتایا ہے ۔تفسیر مظہری میں ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے نازل ہوئے۔ جو تعداد میں دس تھے۔ پھر سات سو سال بعد چھ رمضان کو حضرت موسی علیہ السلام پر توریت کا نزول ہوا۔ پھر پانچ سو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام پر13 رمضان کو زبور کا نزول ہوا۔ زبور سے بارہ سو سال بعد 18 رمضان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل کا نزول ہوا۔ پھر انجیل کے بعد پورے چھ سو سال بعد24 رمضان کو لوح محفوظ سے دنیاوی آسمان پر پورے قرآن کا نزول ہوا اور اسی ماہ کی اسی تاریخ کو خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کا نزول شروع ہوا۔ (تفسیر مظہری ج2 ص:181۔ روح المعانی ج2، ص:61) دوسری خصوصیت یہ ہے کہ نوافل کا درجہ فرائض کے برابر اور ایک فرض کا درجہ 70 فرائض کے برابر اسی ماہ میں ہو جاتا ہے۔ ( الترغیب والترہیب ج2، ص:217) تیسری خصوصیت یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں سرکش شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں ۔او رجہنم کے دروازے بند کرکے جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب ، ج2، ص:220، مصر) چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزیں اس اْمت کو ایسی دی ہیں جو پہلے کسی بھی امت کو نہیں دیں۔ وہ پانچ چیزیں یہ ہیں۔1روزہ دار کے منھ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔2 افطار کے وقت مچھلیاں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔3روزہ داروں کے لیے ہر روز جنت آراستہ کی جاتی ہے۔4رمضان میں سرکش شیاطین بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ روزہ دار رمضان میں ان برائیوں تک نہ جاسکیں جہاں عام دنوں میں جاتے ہیں۔5رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ ( الترغیب والترہیب ج2، ص214، شرکت مصطفی البابی الحلبی مصر) اس لیے اس ماہ مبارک کی دل وجان سے قدر کریں اور مذکورہ تمام فضائل حاصل کرنے کی فکر کریں۔ ورنہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا جو کچھ حاصل کرنا ہے جلدی کر لیں ورنہ آخرت میں پچھتانے سے کچھ نہ ہو گا۔اس مہینے کی بہت ساری ایسی خصوصیات ہیں جو صرف اسی کے ساتھ خاص ہیں، کسی دوسرے مہینے کو وہ خصوصیات حاصل نہیں۔
  3. ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ، ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻨﮑﺸﻒ ھﻮ ﮔﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭھﯽ ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ، ﺗﻌﻠّﻖ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ ھﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ھﻮﺗﮯ ھﯿﮟ ، ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻟﮑﮭﺎ ھﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ، ﻋﺠﯿﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﭩﻨﺎ ھﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ، ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ھﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﻧﮧ ﺧﻮﺵ ﺍﺗﻨﺎ ، ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﮯ ھﻤﺎﺭﯼ ﺁنکھ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ھﺰﺍﺭﻭﮞ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﮭﮑﮯ ھﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎ ﭼﻠﮯ آئے ، ھﻤﺎﺭﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
  4. ROHAAN

    Ehsas e gham

    ❤بہت خـــــــــوب ۔۔۔ بہت عـمـــــــــــدہ❤
  5. 76ea8190eb2ebc2fe3c8d3155ba0e06a.gif

    ‏رشـتــے نبھانــے کیلئــے وعــدوں اور قـسمــوں کی ضرورتــــ نہـیــں.
    صرف دو خوبـصورتــــ دلــوں کـی ضرورتــــ هــوتـی ہـــے
    "ایکـــ اعـتمــاد والا

    "دوســرا احـســـاس والا

  6. ROHAAN

    poetry Share Your Favorite poetry Here

    اڑنے لگے .. وجود کے ریزے ہوا کے ساتھ میں اس قدر خلوص سے بکھری نا تھی کبھی
  7. بازوؤں کی چھـتری تھی بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میں بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
  8. آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
  9. جو وقت ہم دوسروں پر تنقید کرتے گزارتے ہیں وہی وقت اگر ہم اپنی اصلاح میں صرف کریں تو زیادہ بہتر ہے
    کیونکہ کسی کو بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں مگر خود کو بدلنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔
  10. ❤ پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ ❤
  11.  

    تسلی کے دو بول اپنائیت سے بھرپُور ایک مُسکراہٹ مُحبت بھرا لمس اور دِل کو سکُون دینے والا ایک جُملہ دُنیا کی ساری دولت اور دلکشی سے بڑھ کر ہوتا ہے

    animal-671235.jpg

  12. ﺍﺳﮑﯽ ﯾﮧ ﮈﯾﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺷﯿﻮ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﯾﮧ ﮈﯾﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺷﯿﻮ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ " ، ﻋﻤﺮ ﮐﮧ ﺍﻣﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﮬﭽﮑﺎ ﺳﺎ ﻟﮕﺎ۔ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﻮﺟﮫ ﺁﻥ ﮔﺮﺍ، " ﮐﯿﺎ؟؟؟ ﯾﮧ ﺳﻌﺪﯾﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔۔؟؟ " ، ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﻨﺎ۔۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ، ﻣﺤﺒﺖ ﺳﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﻮ۔۔ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﺑﯿﺎﮞ ﺗﮭﺎ۔ " ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻧﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺎﻥ ﻟﻮ۔ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﺁﺟﮑﻞ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺩﻭ ﭨﮑﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ۔ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﮯ، ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ، ﺟﻮﺍﻥ، ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮨﮯ، ﺧﻮﺩ ﻭﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔۔ ﺍﺏ ﺿﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﯿﭩﺎ " ، ﺳﺎﺭﮦ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ، ﺍﺏ ﻣﺎﮞ۔۔ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺣﻠﻖ ﮔﮭُﭩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ۔ " ﺍﻣﯽ ﺟﺎﻥ ۔۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺝ ﺍﮔﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ " ، ﺩﻝ ﻏﻢ ﺳﮯ ﭼُﻮﺭ ﭼُﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ * * * * * " ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺩﻝ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﯾﻤﺎﻥ۔۔ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﻟﻠﮧ۔۔ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﻝ ﭘﺴﻨﺪ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ۔۔ " ، ﻋﻤﺮ ﺳُﻨﺴﺎﻥ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺝ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺏ ﻧﮯ۔ ﺁﺝ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺩﯾﻦ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﻤﺮ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻋﻮﮮ ﮐﮭﻮﮐﮭﻠﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺯﮨﻦ ﺳﮯ ﭘﺮﺍﻧﯽ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺟﺐ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻌﺪﯾﮧ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺐ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺎﮞ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﭘﺮ ﭼﮭﯿﮍ ﭼﮭﺎﮌ، ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺰﺍﻕ۔۔۔ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺍﺗﺮ ﺁﺋﯽ۔۔ " ﺍﯾﮏ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔۔ " ، ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻗﻄﺮﮮ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ۔ " ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ، ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ۔۔ " ، ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﺍﺫﺍﻥ ﮔﻮﻧﺠﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ " ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ۔۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ۔۔ ﺍﻑ !! ﺑﮯﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔۔ " ،ﻋﻤﺮ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﮩﮧ ﺍﭨﮭﺎ۔ " ﺁﺝ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺪﺭ ﻟﮍﻧﯽ ﮨﮯ۔۔ ﺍﯾﮏ ﺍُﺣﺪ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ۔۔ ﮨﺮ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ ﺗُﺠﮫ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ۔۔ ﺍﺱ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﭼﮭُﺮﯼ ﭼﻼ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔۔ " ، ﺩُﮐﮫ ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺭﻧﺪ ﮔﺌﯽ * ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ ﮐﮧ ﺍﺩﺍﺋﮯ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻤﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎ ﺩﯾﻨﺎ * ‏( ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ۔۔ ‏) " ﺁﺋﯿﮟ ﻧﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﮟ ﭘﻠﯿﺰ۔۔ " ، ﺁﻣﻨﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺗﮭﯽ۔ " ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺁﻣﻨﮧ، ﺁﺝ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ " ، ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ " ۔۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﺅﮞ ﮔﯽ۔۔ " ، ﺁﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﮬﯿﻤﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ۔ " ﮐﯿﺎ۔۔؟ ﺍﺭﮮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ۔۔؟؟ " ، ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﺎﻡ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭُﺥ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ۔ " ۔۔ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮓ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔۔۔ " ، ﺁﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩُﮐﮭﯽ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ " ﮨﺎﮨﺎﮨﺎ۔۔ " ، ﻋﻤﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻨﺴﯽ ﻧﮧ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺎ۔ " ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ ﻣﯿﮉﻡ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ، ﺁﺝ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺍﺭ ﻟﯿﮯ؟؟ " ﺁﻣﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯼ۔ " ﻟﮕﺎﺅﮞ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ؟ " " ﺟﯽ ﺟﻨﺎﺏ، ﻣﻠﮑۂِ ﻋﺎﻟﮧ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ، ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ؟ " ، ﻋﻤﺮ ﺷﺮﺍﺭﺗﺎً ﺍﺱ ﺳﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﺍﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭﺟﺮ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺭﮐﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﻣﻨﮧ ﺷﺮﻣﺎﺗﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭽﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯼ۔ ﺳﻌﺪﯾﮧ ﮐﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺑِﯿﺖ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﺳُﻨﺖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﻨﺖ ﮐﻮ ﭼُﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎﺩﺍﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺗﺮﯾﻦ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﭘﻨﻮﮞ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﮏ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﻟﮓ۔۔ * ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔۔ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺫﻟﯿﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺪ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ۔۔ * ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺍﮐﯿﻼ ﮨﯽ ﺳﻨﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﺪﻻ۔ ﮨﺎﮞ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﻭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻤﺖ ﺑﻨﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔ ﺳﭻ ﮨﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺻﺒﺮ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻘﺎﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﺮ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍُﭨﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻟﯿﻮﻝ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﮩﻼ ﻗﺪﻡ ﺧﻮﺩ ﺍُﭨﮭﺎﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺛﺒﻮﺕ ﺩﯾﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ۔۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮈﺭﭘﻮﮎ ﺳﮯ ﮈﺭﭘﻮﮎ ﺗﺮﯾﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﺟﻤﺎ ﺩﮮ ، ﺍﺳﻄﺮﺡ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺨﺖ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﭼﻠﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯿﮟ، ﺍﺱ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯿﮟ۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺩﮐﮫ ، ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻭﻣﯿﺎﮞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﮯ ﮔﮭُﭗ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﻣﻨﮧ ﺟﯿﺴﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ، ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ، ﺷﺮﻡ ﻭ ﺣﯿﺎ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺩﮦ ﺩﺍﺭ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﻌﺪﯾﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﺳﯽ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻓِﯿﻠِﻨﮕﺰ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺭُﻭﭖ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮨﻮ، ﺁﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﻋﮑﺲ، ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ، ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ۔۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ، ﺳﻌﺪﯾﮧ، ﺍﺳﮯ ﭨﮭُﮑﺮﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﺴﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﭨﮭُﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻨﺖِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺟُﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﻌﺪﯾﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺝ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﺍﮌﮬﯽ، ﭘﺮﺩﮦ، ﭨﺨﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﺋﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺁﻣﯿﺰ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﻕ ﺍُﮌﺍﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﮯ ﺑِﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﮐﺲ ﮐﺲ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺗﺒﺎﮦ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭِﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﮧ ﭼﻞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﻧﺸﮧ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍُﭼﺎﭦ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
  13. ROHAAN

    poetry Share Your Favorite poetry Here

    تمہیں گلاب تو دے دوں مگر وہ کیا ہے ناں تمہارے سامنے پھولوں کی کیا حقیقت ہے
  14. ROHAAN

    poetry Share Your Favorite poetry Here

    مدت سے ایک چاک پر رقص میں ہے حیات وہ کوزہ گر ........ کچھ اس طرح تسخیر کر گیا
  15. موت کیا ہے سب سے پہلے میری موت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! !! اس لئے جب میں مرجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ" لاش کہاں" ہے؟ اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔! اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے "جنازہ لےآؤ "!!! میرانام نہیں لینگے ۔۔! اور جب میرے دفنانے کا وقت آجائےگا تو کہیں گے "میت کو قریب کرو" !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔! اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔ کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔ پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے : 1۔ جو لوگ تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔ 22۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔ 33۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کو ہوگا جو کہ ہفتہ، دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا ۔ اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کے پنوں میں رکھ دیں گے! !! لوگوں کے درمیان تیرا قصہ ختم ہو جاۓ گا اور تیرا حقیقی قصہ شروع ہو جاۓ گا۔ وہ ہے آخرت کا ۔ تجھ سے چھین گیا تیرا ۔۔۔ 1۔ جمال ۔۔۔ 2۔ مال ۔۔ 3۔ صحت ۔۔ 4۔ اولاد ۔۔ 5۔ جدا ہوگئےتجھ سے مکان و محلات۔ 6۔ بیوی ۔۔۔ 7۔ غرض ساری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ باقی نہ رہا تیرے ساتھ سوائے تیرے اعمال کے۔ اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوا ۔ اب سوال یہاں یہ ہیکہ : تو نے اپنی قبر اور آخرت کے لئے اب سے کیا تیاری کی ہے ؟ یہی حقیقت ہے جسکی طرف توجہ چاہئے ۔۔ اس کے لیے تجھے چاہئے کہ تو اہتمام کرے : 1۔ فرائض کا 2۔ نوافل کا 3۔پوشیدہ صدقہ اور صدقہ جاریہ کا۔۔۔۔۔ 4۔ نیک کاموں کا 5۔ رات کی نمازوں کا شاید کہ تو نجات پاسکے۔ اگر تو نے اس مقالہ سے لوگوں کی یاددہانی میں مدد کی جبکہ تو ابھی زندہ ہے تاکہ اس امتحان گاہ میں امتحان کا وقت ختم ہونے سے تجھے شرمندگی نہ ہو اور امتحان کا پرچہ بغیر تیری اجازت کے تیرے ہاتھوں سے چھین لیا جائے اور تو تیری اس یاددہانی کا اثر قیامت کے دن تیرے اعمال کے ترازو میں دیکھےگا (اور یاددہانی کرتے رہئے بیشک یاددہانی مومنوں کو نفع دیگا) میت صدقہ کو کیوں ترجیح دیتی ہے اگر وہ دنیا میں واپس لوٹا دی جائے۔۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ *"اے رب اگر مجھے تھوڑی دیر* *کے* *لئے واپس لوٹا دے تو* *میں صدقہ کروں اور نیکوں ** *میں شامل ہو جاؤں** *(سورة المنافقون )* یہ نہیں کہےگا کہ۔۔ عمرہ کروں گا نماز پڑھوں گا روزہ رکھوں گا علماء نے کہا کہ : میت صدقہ کی تمنا اس لئے کریگا کیوں کہ وہ مرنے کے بعد اس کا عظیم ثواب اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اس لئے صدقہ کثرت سے کیا کرو بیشک مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا
  16. ROHAAN

    موت کیا ہے

    ❤ پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ ❤
  17. اے خُدا معذرت مَیں جہاں تھا وہیں رہ گیا، معذرت اے زمیں معذرت ! اے خُدا معذرت کچھ بتاتے ھوئے، کچھ چُھپاتے ھوئے مَیں ھَنسا، معذرت ! رُو دیا، معذرت خُود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ھے اور خُود سے کی ھے تمھاری جگہ معذرت جو ھوا، جانے کیسے ھوا، کیا خبر ایک دن مَیں نے خود سے کہا، معذرت ھم سے گِریہ مکمل نہیں ھو سکا ھم نے دیوار پر لکھ دِیا، معذرت مَیں بہت دُور ھوں، شام نزدیک ھے شام کو دو صدا، شکریہ ! معذرت
  18. ROHAAN

    poetry اے خُدا معذرت

    ❤ پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ ❤
  19. ROHAAN

    یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں

    ❤ واااااہ بہت خـــــــــوب❤
  20. ROHAAN

    poetry دکھ

    دکھ کہتا ہے ایک دن مجھ سے بڑا دکھ ہے مجھے میں نے پوچھا کس بات کا دکھ؟ کہتا ہے بس کچھ ہے میں نے پوچھا کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟ کہتا ہے ہاں پھر پوچھا کوئی بیماری تو نہیں؟ کہتا ہے نہیں پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟ کہتا ہے ہاں سر پہ چھت ہے؟ کہتا ہے ہاں پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ جہاں قحط تھا بچوں کے جسم لباس سے عاری اور پیٹ اناج سے خالی سونے کو چھت نہیں نہ سردی کی لذت نہ گرمی کی ہیبت احساس جیسے باقی ہی نہ رہے ایک اور ایسی جگہ جہاں زندگی ایک جرم تھی روز لاشیں گرتیں عزتیں پامال ہوتیں ظلم اپنی انتہا پہ جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی شکر تھا کہ سلامت ہیں پھر میں نے پوچھا اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟ کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی آج سمجھ آئے ہیں
  21. ROHAAN

    poetry Share Your Favorite Punjabi Poetry

    میں تینوں فیر ملاں گی میں تینوں فیر ملاں گی کِتھے؟ کس طرح؟ پتا نہیں شاید تیرے تخیل دی چھنک بن کے تیرے کینوس تے اتراں گی یا ہورے تیرے کینوس دے اُتے اک رہسمئی لکیر بن کے خاموش تینوں تکدی رواں گی یا ہورے سورج دی لو بن کے تیرے رنگاں اچ گھُلاں گی یا رنگاں دیاں باہنواں اچ بیٹھ کے تیرے کینوس نو ولاں گی پتا نئیں کس طرح، کتھے پر تینوں ضرور ملاں گی یا ہورے اک چشمہ بنی ہوواں گی تے جیویں جھرنیاں دا پانی اڈ دا میں پانی دیاں بُونداں تیرے پنڈے تے مَلاں گی تے اک ٹھنڈک جئی بن کے تیری چھاتی دے نال لگاں گی میں ہور کج نئیں جاندی پر اینا جاندی آں کہ وقت جو وی کرے گا اے جنم میرے نال ٹُرے گا اے جسم مُکدا اے تے سب کج مُک جاندا پر چیتیاں دے تاگے کائناتی کنا دے ہوندے میں انہاں کنا نو چناں گی تاگیاں نو ولاں گی تے تینوں میں فیر ملاں گی امرتا پریتم
  22. ROHAAN

    لالا موسٰی

    لالا موسٰی ایک بوڑھی عورت بس میں سفر کر رہی تھی۔ اور ساتھ والے سیٹ پر بیٹھے نوجوان سے بار بار کہہ رھی تھیبیٹاجب لالا موسٰی آجائے تو مُجھے بتا دینا سفر لمبا تھا اِس لیئے بوڑھی عورت کی تھوڑی دیر بعد آنکھ لگ جاتی پھر ایک دم جاگ کر کہتی بیٹا لالا موسٰی آگیانوجوان کہتااَماں جب لالا موسٰی آئے گا تو میں آپ کو بتا دؤں گا۔ بوڑھی عورت یہ سُن کر مُطمئین ھوکر آنکھ بند کرکے سو جاتی۔ کچھ لَمحے بعد نوجوان کی بھی آنکھ لگ گئی اور لالا موسٰی گُزر گیا۔ لالا موسٰی سے آدھا گھنٹے کے سفر کے بعد نوجوان کی آنکھ کھُلی۔ تو راستہ دیکھ کر چونک گیا ،،،اور اپنا سر پکڑ لیا۔____ بوڑھی عورت اسی طرح سو رہی تھی۔”وہ چُپکے سے ڈرائیور کے پاس پہنچا اور کہا۔ یہ بوڑھی عورت لالا موسٰی اُترنا چاہتی تھی۔ لیکن اس کی آنکھ لگ گئی” ڈرائیور بھی یہ سُن کر پریشان ھوگیا___ اور گاڑی سائیڈ پے کھڑی کر دی۔ تاکہ حالات سے نمٹنے کا کوئی طریقہ سوچا جاسکے” بہت شوچ بچار کے بعد گاڑی واپس موڑنے کا فیصلہ ھوا۔ کیوں کہ بوڑھی عورت اتنی سفر پیدل نہیں کر سکتی تھی” بس میں موجود کچھ مُسافروں نے بس موڑنے کی مخالفت کی۔ لیکن حالات کے نذاکت کو دیکھ کر خاموش ھوگئے۔ خیر بوڑھی عورت کے سوتے ھوئے ہی گاڑی واپس موڑلی گئی اور آدھے گھنٹے میں بس لالا موسٰی پہنچ گئی”نوجوان نے پُرجوش انداز میں بوڑھی عورت کو جگایا اور بولا۔ ” اَماں… لالا موسٰی آگیا۔ بوڑھی عورت نے جاگ کر اپنے ساتھ پڑے ایک چھوٹے سی بیگ کھولنے لگی۔ اور اس میں سے دوائیوں کی شاپر نکال کر اُس میں ٹیبلٹ کے پلتے میں سے ایک گولی کھا کر بوتل سے پانی پینے کے بعد تمام دوائیاں واپس بیگ میں سنبھال کر سیٹ سے ٹیگ لگاکر سوگئی” نوجوان اور باقی لوگ حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ نوجوان نے بوڑھی عورت سے کہا۔ ” اَماں.. آپ نے اُترنا نہیں ہے۔؟؟؟ بوڑھی عورت بولی” بیٹا ڈاکٹر نے کہا تھا یہ ایک گولی لالا موسٰی پہنچ کر کھا لینا
  23. ROHAAN

    what are you thinking right now

    “More smiling, less worrying. More compassion, less judgment. More blessed, less stressed. More love, less hate.”
  24. 💀ﺟﻨﺎﺕ 👻 ﺍﻭﺭ ﭼﮍﯾﻞ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﮩﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﺗﮭﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ .ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﮦ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺟِﻦﻗﺎﺑﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ . ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻣﻼ ﺟﻮ ﻋﻤﻠﯿﺎﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ 40 ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺮﺏ ﻋﻤﻞ ﺑﺘﺎﯾﺎ .. ﻋﻤﻞ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﯿﺎ . ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﻋﻤﻞ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ . ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺭﺍﺅﻧﯽ ﺷﮑﻠﯿﮟ ﻧﻈﺮﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ , ﭼﻮﺗﮭﯽ 4 ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﻧﺴﻮﺍﻧﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ : ﻣُﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ، ﻣﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﮉﺭ ﻓﺮﯾﺞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻻﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﭼﻮنق ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻤﻞ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻻﺕ ﮨﻮﮞ، ﺣﺼﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ !.. ﺁﻭﺍﺯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁﺋﯽ .. ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﮔﯿﺎ .ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﮬﺎﺭﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﯽ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ..ﻣﯿﮟ ﺑﻼﺧﻮﻑ ﻭِﺭﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺗﮭﺎ .. ﻭﮦ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﯽ .. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭِﺭﺩ ﺗﯿﺰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .. ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻠﻦ ﺗﮭﺎ .. ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻤﺖ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ : " ﺟﺎ ﺑﮭﺎﮒ ﺟﺎ ﭼﮍﯾﻞ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﯽ .. ﺗُﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑﺘﯽ " ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﺼﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮔﮭﺲ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﭙﺎ ﺩﮬﭗ ﺩﮬﻨﺎ ﺩﮬﻦ ﺑﯿﻠﻦ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﭩﻨﮯ ﻟﮕﯽ .. ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﭼﺎﻝ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺯﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ .. ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﮍﯾﻞ ﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺼﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻨﺎﺕ ﭘﯿﭧ ﭘﮑﮍﮮ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ !.. ﺟﺐ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﮯﺗﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺴﯿﭧ ﮐﮯ ﺣﺼﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰ ﺟِﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : '' ﺳﺮﮐﺎﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﻮﮞ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻭ ﻓﯿﺮ ﺳﺎﮈﺍ ﺳﻮﭼﻨﺎ '
  25. ❤بہت خـــــــــوب ۔۔۔ بہت عـمـــــــــــدہ❤
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×