Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Search the Community

Showing results for tags 'میرے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • WhatsApp Status
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 15 results

  1. اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا یا اس پہ مبنی کوئی تأثر کوئی اشارا تو میں تمہارا غرور پرور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا تو میں تمہارا تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہے لگاؤں بازی اگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا تمہارا عاشق تمہارا مخلص تمہارا ساتھی تمہارا اپنا رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا تو میں تمہارا تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں اگر مقدر کا کوئی ٹوٹا کبھی ستارا تو میں تمہارا یہ کس پہ تعویذ کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ تو میں تمہارا
  2. مقابل ہوں جو وہ میرے تو سب کچھ وار جاتے ہیں ہم اپنی ذات کی خوشیاں اُنہی سے جوڑ جاتے ہیں وہ ہم کو جیت جاتے ہیں, ہم اُن پے ہار جاتے ہیں وہ اپنی اِک نگاہ بخشیں تو ہم کو مار جاتے ہیں ©S.S Writes
  3. ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﺗﮏ ﺍﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺳﺪﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﻨﻮﻥ ﺗﮏ ﯾﮧ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﺑﺲ ﺍﻧﺎ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﻭە ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺑﺲ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺫﮐﺮ ﺗﮏ ﺍﮎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﻮ ﮬﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮏ ﻭە ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﺍﮎ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺼﯿﺐ ﺗﮏ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺑﺲ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
  4. ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﻭﺻﯽؔ ﻣَﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺧﻂ ﮐﻮ ﮐﻠﯿﺠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﺻﯽ شاہ۔۔ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺍِﮎ ﺩِﯾﭗ ﺟﻼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﮟ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺧﻔﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺟﺴﮯ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍِﮎ ﺩﻥ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﭼﯿﻦ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﭨﮯ ﮔﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﺍِﮎ ﺍﺳﯽ ﺁﺱ ﭘﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐُﮭﻼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ
  5. تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی! آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی" رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا! آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد رنگِ اُمید کھِلے گا کہ بکھر جائے گا! وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا! جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا! "پروین شاکر"
  6. ﺑﮍﯼ ﻧﺎﺯﮎ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭﮞ ﺟﯿﻨﺎ؟ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ؟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ، ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮩﻨﺎ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺳﮩﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﻢِ ﺍﻋﻈﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻧﮏ ﺩﻭﮞ ﺗﻢ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﻮﮦ ﻟﯿﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﺑﮍﯼ ﻧﺎﺯﮎ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ، ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺳﮩﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﻧﮩﯿﮟ۔۔! ﯾﮧ ﮨﻮﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ، ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﺮﻧﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔ ﯾﮧ ﮨﯽ ﺭﺳﻢِ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﮨﯽ ﺷﺮﻁِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮨﮯ، ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﻨﺎ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
  7. عجب حالات تھے میرے عجب دن رات تھے میرے مگر میں مطمئن تھا اس لئے تم ساتھ تھے میرے مرے زر کے طلبگاروں کی نظریں ایسے اٹھتی تھیں کہ لاکھوں انگلیاں تھیں اور ہزاروں ہاتھ تھے میرے میں اک پتھر کا گرد آلود بت تھا ان کے مندر میں نہ دل تھا میرے سینے میں نہ کچھ جذبات تھے میرے کسی سے اور کیا تائید کی امید میں رکھتا وہی خاموش تھے جو محرم حالات تھے میرے میں جن شعلوں میں جلتا تھا تم بھی نہیں سمجھے مرا دل مختلف تھا ، مختلف صدمات تھے میرے مجھے مجرم بنا کر رکھ دیا جھوٹے گواہوں نے سبھی رد ہوگئے جتنے بھی الزامات تھے میرے تصور بن گیا تصویر آخر ایک دن اسی کا خوف تھا مجھ کو یہی خدشات تھے میرے
  8. وہ مِرے دل کی روشنی، وہ میرے داغ لے گئی ایسی چلی ہوائے شام، سارے چراغ لے گئی شاخ و گُل و ثمر کی بات کون کرے، کہ ایک رات بادِ شمال آئی تھی، باغ کا باغ لے گئی وقت کی موجِ تُند رو آئی تھی، سُوئے مے کدہ میری شراب پھینک کر میرے ایاغ لے گئی دل کا حساب کیا کریں، دل تو اُسی کا مال تھا نکہتِ زُلفِ عنبریں، اب کے دماغ لے گئی باغ تھا اس میں حوض تھا، حوض تھا اس میں پھول تھا غیر کی بے بصیرتی مجھ سے سُراغ لے گئی سلیم احمد
  9. ٹھہرے میرے اشکوں کا کچھ مول تو سہی کچھ تلخ ہی صحیح مگر تو بول تو سہی کیسے لگاؤ گے تم شب ہجر کا حساب بھاری ہے اک اک لمحہ تول تو سہی اچھا ہے وقت رخصت ساتھ رہو گے تم میں پیتا ہوں زہر ابھی تو گھول تو سہی خوب ہے یہ عادت سخن یار کی کھلیں گے اسطرح کچھ پول تو سہی بنا بیٹھا ہے گداگر تیرے در پہ کب سے خواہش ہے کہ جانے کو بول تو سہی بنا لیتا ہے دیوانہ اسے اپنا تکیہ کلام سن لے محبوب کا اک قول تو سہی ہوا کو بنا لے زخم دل کا رازداں عیاز دامن کو تو اپنے کبھی کھول تو سہی
  10. جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو تو ایک بھی شب نہ سو سکو گے کہ لاکھ چاہو نہ ہنس سکو گے ہزار چاہو نہ رو سکو گے کہ خواب کیا ہیں عذاب ہیں یہ مرے دکھوں کی کتاب ہیں یہ رفاقتیں ان میں چھوٹتی ہیں محبتیں ان میں روٹھتی ہیں پنپتی ہیں ان میں وحشتیں سی اذیتیں ان میں پھوٹتی ہیں انہی کے ڈر سے خزاں ہیں جذبے انہی سے شاخیں سی ٹوٹتی ہیں غموں کی بندش ہیں خواب میرے دکھوں کی بارش ہیں خواب میر ے ابل رہا ہے دکھوں کا لاوا رہین آتش ہیں خواب میرے خیال سارے جھلس گئے ہیں سلگتی خواہش ہیں خواب میرے اکھڑتی سانسیں ہیں زندگی کی لہو کی سازش ہیں خواب میرے جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو ....تو ایک شب بھی نہ سو سکو گے (وصی شاہ )
  11. میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشاں سی تھی اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے کبھی اپنی سی، کبھی غیر نظر آئی ہے کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں ان تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں تیرے ہاتھوں کی حرارت، ترے سانسوں کی مہک تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں ڈھونڈھتی رہتی ہیں تخیل کی بانہیں تجھ کو سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ہے مگر یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ہے قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے مضمحل خواب کی تعبیر بتادے مجھ کو تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی میرا حاصل مری تقدیر بتا دے مجھ کو
  12. ٹھہرے میرے اشکوں کا کچھ مول تو سہی کچھ تلخ ہی صحیح مگر تو بول تو سہی کیسے لگاؤ گے تم شب ہجر کا حساب بھاری ہے اک اک لمحہ تول تو سہی اچھا ہے وقت رخصت ساتھ رہو گے تم میں پیتا ہوں زہر ابھی تو گھول تو سہی خوب ہے یہ عادت سخن یار کی کھلیں گے اسطرح کچھ پول تو سہی بنا بیٹھا ہے گداگر تیرے در پہ کب سے خواہش ہے کہ جانے کو بول تو سہی بنا لیتا ہے دیوانہ اسے اپنا تکیہ کلام سن لے محبوب کا اک قول تو سہی ہوا کو بنا لے زخم دل کا رازداں عیاز دامن کو تو اپنے کبھی کھول تو سہی
  13. ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮩﺮﯼ ﭼﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮨﯽ ﻓﻀﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮑﺴﺖ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺟﻮ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮕﻨﺆﮞ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﺟﻮ ﺷﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﺐ ﭘﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻭﻩ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﻋﮩﺪ ﻧﺸﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ ﻭﻩ ﺟﻮ ﻓﺎﺗﺤﺎﻧﮧ ﺧﻤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮩﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺳﺖ ﻟﺸﮑﺮ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺳﺮﺧﺮﻭ ﻣﮧ ﻭ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ .........ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﻗﺼﮧﺀ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ .........ﺟﻮ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﮯ .........ﺟﻮ ..........ﮔﺌﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻼﻝ ﮨﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ
  14. کرے دریا نہ پُل مسمار میرے ابھی کچھ لوگ ہیں اُس پار میرے بہت دن گزرے اب دیکھ آؤں گھر کو کہیں گے کیا در و دیوار میرے وہیں سورج کی نظریں تھیں زیادہ جہاں تھے پیڑ سایہ دار میرے وہی یہ شہر ہے، تو اے شہر والو کہاں ہیں کوچہ و بازار میرے تم اپنا حالِ مہجوری سناؤ مجھے تو کھا گئے آزار میرے جنہیں سمجھا تھا جاں پرور میں اب تک وہ سب نکلے کفن بردار میرے گزرتے جا رہے ہیں دن ہوا سے رہیں زندہ سلامت یار میرے دبا جس میں، اُسی پتھر میں ڈھل کر بِکے چہرے سرِ بازار میرے دریچہ کیا کھُلا میری غزل کا ہوائیں لے اُڑیں اشعار میرے
  15. چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن پھر ہاتھ کو خیرات ملے بندِ قبا کی پھر لطفِ شب وصل کو دھراؤ کسی دن گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے اس طرح میری رات کو چمکاؤ کسی دن میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں سر رکھ کے میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
×
×
  • Create New...