Sahir Ludhianvi
Ahmed Faraz احمد فراز Biography !

Sahir Ludhianvi Poetry – Urdu Poetry’s true gem Sahir Ludhianvi who was popular for his huge contributions in Urdu poetry and Hindi cinema industry always remember in a good memory. Some of his famous Hindi films include Naya Daur, Pyaasa, Barsaat Ki Raat and
Kabhi Kabhi. He is also famous for his contribution in Indian cinema industry. He extensively worked for Hindi films like Taj Mahal and Sadhna. Abdul Hayee is a real name of Sahir Ludhianvi. He used Sahir name as a pseudonym in his poetry. He won the Film-Fare Award twice for the films Taj Mahal and Sadhna, in 1964 and 1977. He was awarded by Padma-Shri, a highest civilian award of India in 1971. Sahir Ludhianvi Poetry is way different from other well-famous poet’s contemporaries. He was not as the other poets, who mainly valued Khuda (God), Husun (Beauty), and Jaam (Wine) in their poetries, instead of this he wrote bitter but sensitive verses over the declining values of the society, senseless war and politics, and the supremacy of consumerism over love. Sahir Ludhianvi Poetry gave Urdu poetry an intellectual element that holds the vision of the youth of 40s, 50s and 60s to discover their projections of life. He will always be conned as a poet who made his creation a message for all ages of Urdu poet and poetry to come in future. His renowned published Urdu poetry work includes Talkhiyan, Parchhaiyan and many others.
Read the latest and best collection of Sahir Ludhianvi Shayari in Urdu and English available on HamariWeb.com. We serve you the best collection of Sahir Ludhianvi Poetry to retrieve memories from some finest collection of Sahir Ludhianvi Poetry, Shayari & Ghazal. “Main Sahir Hun” is a masterpiece autobiography of Sahir Ludhianvi comprehensive work for Urdu poetry. You can access the latest collection of Sahir Ludhianvi Poetry, Shayari and Ghazals
from HamariWeb.com online. Read, submit and share your favorite Sahir verses and shayari online to your friends, family and loved ones.
8 topics in this forum
-
- 0 replies
- 1.1k views
خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے…
Last reply by ROHAAN, -
-
- 2 replies
- 2.5k views
تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟ میری محبوب ! پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جزبے ان کے لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں سینہ ء دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جزب ہے ان میں ترے اور مرے…
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.3k views
میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشاں سی تھی اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے کبھی اپنی سی، کبھی غیر نظر آئی ہے کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں ان تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن میری راتیں تری…
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 1.2k views
اے شریف انسانو ! خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جن…
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.4k views
سوچتا ہوں کےمحبت سے کنارا کر لَوں دل کو بیگانہء ترغیبِ تمنا کر لوں سوچتا ہوں کہ محبتہے جنونِ رسوا چند بے کار سے بیہودہ خیالوں کا ہجوم ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس ایک بیگانے کو اپنانے کی سعیِ موہوم سوچتا ہوں کہ محبت ہے سرور و مستی اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کے محبت سے ہے تابندہ حیات اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی درگاہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اِک کارِ زبوں سوچتا ہوں کہ محب…
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 3k views
تاج محل ( ساحر لدھیانوی کی ایک شاہکار نظم) تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟ میری محبوب ! پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جزبے ان کے لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں سی…
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.5k views
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں تعارف روگ بن جائے تو ا س کا بھولنا بہتر تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ناممکن ہو اسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں ساحر لدھیانوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.3k views
سوچتا ہوں کہ محبتہے جنونِ رسوا چند بے کار سے بیہودہ خیالوں کا ہجوم ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس ایک بیگانے کو اپنانے کی سعیِ موہوم سوچتا ہوں کہ محبت ہے سرور و مستی اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کے محبت سے ہے تابندہ حیات اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی درگاہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اِک کارِ زبوں سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ پیش از وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش یہی بہتر ہے کہ بیگانہء اَلفت ہو کر اپنے سینے میں…
Last reply by Sahrish Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
