وہ مِرے دل کی روشنی، وہ میرے داغ لے گئی
ایسی چلی ہوائے شام، سارے چراغ لے گئی
شاخ و گُل و ثمر کی بات کون کرے، کہ ایک رات
بادِ شمال آئی تھی، باغ کا باغ لے گئی
وقت کی موجِ تُند رو آئی تھی، سُوئے مے کدہ
میری شراب پھینک کر میرے ایاغ لے گئی
دل کا حساب کیا کریں، دل تو اُسی کا مال تھا
نکہتِ زُلفِ عنبریں، اب کے دماغ لے گئی
باغ تھا اس میں حوض تھا،
حوض تھا اس میں پھول تھا
غیر کی بے بصیرتی مجھ سے سُراغ لے گئی
سلیم احمد
1


0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.