تم کو ہم دل میں بسا لیں گے تم آؤ تو سہی
ساری دنیا سے چھپا لیں گے تم آؤ تو سہی
ایک وعدہ کرو اب ہم سے نہ بچھڑو گے کبھی
ناز ہم سارے اٹھا لیں گے تم آؤ تو سہی
بے وفا بھی ہو ، ستم گر بھی، جفا پیشہ بھی
ہم خُدا تُم کو بنا لیں گے، تم آؤ تو سہی
یوں تو جس سمت نظر اٹھی ہے تاریکی ہے
پیار کے دیپ جلالیں گے تم آؤ تو سہی
اختلافات بھی مٹ جائیں گے رفتہ رفتہ
جس طرح ہو گا نبھا لیں گے تم آؤ تو سہی
دل کی ویرانی سے گھبرا کے نہ منہ کو موڑو
بزم یہ پھر سے سجا لیں گے تم آؤ تو سہی
راہ تاریک ہے اور دور ہے منزل لیکن
درد کی شمعیں جلا لیں گے تم آؤ تو س
1


0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.