Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'میں'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 49 results

  1. نہ کسی کی دسترس میں تھا نہ کسی کے خواب و خیال میں مگر ایک شخص سما گیا میری ذات کے در و بام میں نہ کسی بھی نظم کا شعر تھا نہ کسی بھی لفظ کا حرف تھا مگر ایسے لفظوں میں بُن گیا مجھے خاص و خاص بنا گیا نہ کسی کی روح کا سکون تھا نہ کسی کے دل کا قرار تھا مگر ایسا جادو چلا گیا مجھے اپنا عشق چڑھا گیا تھا وہ شخص کتنا عجیب تر تھا وہ شخص کتنا قریب تر مجھے چھوڑ کر تو چلا گیا مگر عشق کرنا سکھا گیا
  2. صحیح مسلم ( 107 ) جلدنمبر 1 حضرت ابوھریرہ رضی اللّٰه عنہ سےروایت ھے کہ 1 شخص اللّٰه کےنبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللّٰه کے نبی ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اللّٰه کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اللّٰه کی بندگی کرو اللّٰه کے ساتھ کسی کو شریک نا کرو نماز قائم کرو جو تم پر فرض کر دی گئی ہیں رمضان المبارک کے روزے رکھو زکاتہ ادا کرو وہ شخص بولا میں اس میں نا کمی کروں گا نا اضافہ کروں گا جب وہ شخص چلا گیا تو اللّٰه کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جنتی دیکھنا اس شخص کو دیکھ لو
  3. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  4. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  5. دیوانی متواری نی میں منت کر کر ہاری نی میں دیوانی متواری نی میں بے کل بے کل کس بن جاؤں خار ہی خار ہیں جس بن جاؤں تیرے پریم کی ماری نی میں دیوانی، متواری نی میں ماتھے پر سو چاند سجایا پاؤں کی نوک سے جگ ٹھکرایا رہی کنیز تہاری نی میں دیوانی، متواری نی میں من آنگن میں سج بن آئے پیا تو مورے جج بن آئے صدقے نی میں واری نی میں دیوانی، متواری نی میں شاہ ہنسیں تو گرما جاؤں پل پل، چھل بل شرما جاؤں الہڑ نار، کنواری نی میں دیوانی، متواری نی میں فرحت عباس شاہ
  6. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  7. نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر میری منزلیں کہیں اور ھیں مجھے اس جہاں کی تلاش ھے جہاں ھجر روح وصال ھے ابھی در وہ مجھ پہ کھلا نہیں ابھی آگ میں ھوں میں جل رھا ابھی اسکا عرفاں ھوا نہیں مجھے رقص رومی ملا نہیں ابھی ساز روح بجا نہیں رہ سرمدی کا خیال ھے میں ازل سے جسکا ھوں منتظر مجھے اس ابد کی تلاش ھے نہ میں گیت ھوں نہ میں خواب ھوں نہ سوال ھوں نہ جواب ھوں نہ عذاب ھوں نہ ثواب ھوں میں مکاں میں ھوں اک لا مکاں میں ھوں بے نشان کا اک نشاں میری اک لگن میری زندگی میری زندگی میری بندگی میرے من میں ایک ھی آگ ھے مجھے رقص رومی کی لاگ ھے میرا مست کتنا یہ راگ ھے کہ بلند میرا یہ بھاگ ھے نہ میں خواب گر، نہ میں کوزہ گر
  8. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  9. شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟ درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟ آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند ! ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائے یہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟ انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہے جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند ان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہا ورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور سونا چاند جگ کے چاروں کوٹ میں گھوما، سیلانی حیران ہوا اس بستی کے اس کوچے کے اس آنگن میں ایسا چاند ؟ آنکھوں میں بھی، چتون میں بھی، چاندہی چاند جھلکتے ہیں چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند ایک یہ چاندنگر کا باسی، جس سے دور رہا سنجوگ ورنہ اس دنیا میں سب نے چاہا چاند اور پایا چاند امبر نے دھرتی پر پھینکی نور کی چھینٹ اداس اداس آج کی شب تو آندھی شب تھی، آج کدھر سے نکلا چاند انشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی رِیت یہی ہے سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند اپنا سینے کے مطلع پر جو بھی چمکا وہ چاند ہوا جس نے مَن کے اندھیارے میں آن کیا اُجیارا چاند چنچل مسکاتی مسکاتی گوری کا مُکھڑا مہتاب پت جھڑ کے پیڑوں میں اٹکا، پیلا سا اِک پتہ چاند دکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اس کے دم سے دیکھ لئے ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبھرا چاند روشنیوں کی پیلی کرنیں، پورب پچھم پھیل گئیں تو نے کس شے کےدھوکے میں پتھر پہ دے ٹپکا چاند ہم نے تو دونوں کو دیکھا، دونوں ہی بےدرد کٹھور دھرتی والا، امبر والا، پہلا چاند اور دوجا چاند چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے ؟ چاند کی خاطر زِد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند ابن انشاٰء
  10. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  11. دیارِ دِل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہُوا ، وہ شکل تو دِکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دُشمناں ہُوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجِشوں کا لُطف بھی چلا گیا جُدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے تجھے بھی نِیند آگئی، مُجھے بھی صبر آگیا پُکارتی ہیں فُرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں؟ زمِیں نِگل گئی اُنہیں، کہ آسمان کھا گیا یہ صُبح کی سفیدِیاں ، یہ دوپہر کی زردِیاں اب آئینے میں دیکھتا ہُوں مَیں کہاں چلا گیا یہ کِس خوشی کی ریت پر ،غموں کو نِیند آگئی وہ لہر کِس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا گئے دِنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الَم کشو ! اُٹھو کہ آفتاب سر پہ آگیا ناصؔر کاظمی
  12. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  13. دل نے تیرے بارے میں پوچھا تو بہت رویا وہ شخص جو پتھر تھا ٹوٹا تو بہت رویا یہ دل کہ جدائی کے عنوان پہ برسوں سے چپ تھا تو بہت چپ تھا رویا تو بہت رویا آسان تو نہیں اپنی ہستی سے گزر جانا اترا جو سمندر میں دریا تو بہت رویا جو شخص نہ رویا تھا تپی ہوئی راہوں میں دیوار کے سائے میں بیٹھا تو بہت رویا اک حرف تسلی کا اک حرف محبت کا خود اپنے لئے اس نے لکھا تو بہت رویا پہلے بھی شکستوں پر کھائی تھی شکست اس نے لیکن وہ تیرے ہاتھوں ہارا تو بہت رویا جو عہد نبھانے کی دی تھی دعا اس نے کل شام مجھے تنہا دیکھا تو بہت رویا
  14. کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوکا کولا انتہائی شوق سے پیتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں؟ صحت کی ایک ویب سائٹ The Renegade Pharmacist نے اس حوالے سے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن سے لوگ آج تک ناواقف تھے- پہلے 10 منٹ: کوکا کولا میں موجود 10 چائے کے چمچ چینی آپ کے جسمانی نظام پر براہ راست اثر انداز ہوگی- تاہم آپ کے فوراً قے نہیں آئے گی کیونکہ اس مشروب میں موجود فاسفورک ایسڈ چینی کے ذائقے میں کمی واقع کردیتا ہے جس سے اتنی بھاری مقدار میں پایا جانے والا میٹھا بھی با آسانی سے آپ کے جسم میں حل ہوجاتا ہے- یہ تمام کام کوکا کولا پینے کے پہلے 10 منٹ میں انجام پا جاتے ہیں- پہلے 20 منٹ: کوکا کولا پینے بعد پہلے 20 منٹ میں آپ کے خون میں موجود شوگر کی سطح میں اس حد تک اضافہ ہوجاتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کے جسم میں موجود انسولین کو خاص مقدار کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور یہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوجاتا ہے- دوسری جانب آپ کا جگر جسم موجود شوگر کو اضافی چربی میں تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے- پہلے 40 منٹ: کوکا کولا میں پایا جانے والا کیفین آپ کے خون میں مکمل طور پر شامل ہوجاتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خون میں اضافی شوگر کی وجہ سے آپ کے جگر کے نظام میں بےقاعدگی پیدا ہوجاتی ہے- اس کے علاوہ دماغ کو موصول ہونے والے سگنلز میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- پہلے 45 منٹ: کوکا کولا پینے کے بعد پہلے 45 منٹ میں آپ کے جسم میں موجود کیمیکل جسے dopamine کہا جاتا ہے٬ کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے- اس کیمیکل کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور اضافی پیداوار دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے- یہ سب سے ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ہیروئن کا نشہ کر رکھا ہو- 60 منٹ میں: کوکا کولا میں موجود فاسفورک ایسڈ آپ کی زیریں آنتوں میں کیلشیم٬ میگنیشم اور زنک کو ایک جگہ اکھٹا کردیتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کا میٹابولزم کو بڑھا دیاتا ہے- اضافی شوگر اور مصنوعی میٹھے کی وجہ سے بننے والا یہ مرکب آپ کے مثانے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے- اور آپ کے پیشاب کے ساتھ اضافی کیلشیم بھی خارج ہوجاتا ہے- 60 منٹ بعد: کوکا کولا پینے کے ایک گھنٹے کے بعد پیشاب کے ذریعے آپ کے جسم سے کیلشیم٬ میگنیشم٬ زنک٬ سوڈیم٬ پانی اور الیکٹرو لائٹ کی وہ مقدار بھی خارج ہوجاتی ہے جس کی آپ کے جسم کو ضرورت ہوتی ہے- مزید نقصانات: کوکا کولا کی وجہ سے شوگر کی سطح میں ہونے والا اضافہ آپ کی طبعیت میں چڑچڑا پن اور اکتاہٹ پیدا کرسکتا ہے - اس کے علاوہ آپ کے دانتوں اور ہڈیوں کو کمزور بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی آپ کے جسم میں پانی کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے-
  15. Jannat malik

    چلتی بس میں نکاح

    چلتی بس میں نکاح لاہور ﺳﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺑﺲ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺟﻮ بہت ﺍﭼﻬﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﻬﮍے ﮨﻮ گئے ،،،،،،،،،،،،،،ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ " ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﮑﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺯﯼ ﻣﺮﺽ ﺳﮯ اللہ کو پیاری ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﭽﻬﮧ ﺩﻥ ﮔﺰﺭے اور ﻣﯿﺮﯼ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ.. ،،،،،،،،،،،،،،ﻣﯿﺮﺍ ﺗﯿﺎﺭ ﺷﺪﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺧﺎﮐﺴﺘﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ پھر ﮐﭽﻬﮧ ﻣﺪﺕ ﮔﺬﺭﯼ ﮐﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍﺍ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ نے ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻨﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﻢ ﮨﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ،،،،،،،،،،،،،،،،،ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﻮ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﯾﮩﯽ ﻏﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻬﺎﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﮨﭽﮑﯽ ﺑﻨﺪﻫﮧ ﮔﺌﯽ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺎﻝ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﻬﯽ ﺗﻬﯽ ﺍٹھی ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ سہارا دے ﮐﺮ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ... ،،،،،،،،،،،،،،ﺑﺲ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺳﯿﭧ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ.. " ﻣﯿﺮﮮ 2 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﮨﻮﺍ ہے، ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ لیے ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮨﮯ . ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ گا.. " لڑکا کھڑا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ.. بس میں موجود ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ " ﯾﮧ ﺳﻔﺮ بہت ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻘﺪﺱ ﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ وہ بھی سفر میں اس سے اچھی بات کیا ہو گی؟؟ اگر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دوں " ﺳﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ .'" ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ . ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ . ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ " ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دیا،،،،،،،،،،،،.. ﺍﯾﮏ اور ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ.. " ﻣﯿﮟ ﭼﻬﭩﯽ ﭘﮧ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ لیے ﻟﮉﻭ لے کر مگر ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ کہ لڈو ادھر ہی تقسیم کر دیں اس نے دولہن کے باپ سے مخاطب ہوتے ہوے کہا.. دولہن کے باپ نے ڈرائیور سے کہا ڈرئیور میاں 5 منٹ کسی جگہ بس روک دینا تاکہ سب مل کر منہ میٹھا کر لیں، ڈرائیور نے کہا ٹھیک ہے بابا جی... ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﻧﺪﻫﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ.. ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ مل کر لڈو کھانے لگے، ﻟﮉﻭ ﮐﻬﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ سے ﺟﺎگے ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ8 ﺑﺠﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻟﮩﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﭖ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﮉﻭ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺲ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﺗﻬﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮔﻬﮍﯼ ﻧﮧ ﭼﯿﻦ ﻧﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ ... ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ 6 ﻣﻤﺒﺮﺯ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻟﻮﭦ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ ..
  16. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
  17. حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں ایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائے ہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالو یہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟ گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیا جی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوں کب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بن تُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرے مر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں
  18. ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﻣِﯿﮟ ﺍﻏﺮﺍﺽ ﮐﮯ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣِﯿﮟ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺣﺎلانکہ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩیں ﺳﺐ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﻧﺎﻃﮯ ﮬﯿﮟ ﺳﺐ ﺩﻝ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﻮﻥ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ھﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺳﺐ ﺍﺻﻠﯽ ﺭﻭﭖ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﻟﻮﮒ ﯾﮩﺎﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮎ ﺑﺎﺭﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺭُﻻﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮬﻢ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﮯ ﺳﻮﺩﺍﮔﺮ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺩﺍ ﺳﭽﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﮔﺎﮨﮏ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮ ﮬﻢ ﺑِﻦ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﺑِﮏ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮬﻢ ﺷﮭﺮِ ﻭَﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻢ ﺣﺎﻝ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ ﮔﮯ ﮬﻢ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ... ﮬﻢ ﺍﺷﮏ ﺑﮭﯽ پی ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ...
  19. سراپا اشک ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
  20. قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانے مانگے زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ سدا آئنہ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔ !!....مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے احمد فرازؔ
  21. ﮨﺮ ﺷَﺨﺺ ﮐﯽ ﻗِﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒٌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﺟﺲ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻗُﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻟُﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮬﻮﺍ ﻣﯿﮟ اس ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻓُﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
  22. راستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو . . . . محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے . . . مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست میرے منتظرِ پردہء شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دِقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی پھولوں کا بکھرنا تو . . . . . مقدر ہی تھا لیکن کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی وہ بھی سرِ مقتل ہے کہ سر جس کا تھا شاہد اور واقفِ احوال . . . . عدالت بھی بہت تھی اس ترکِ رفاقت پہ . . . . پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی خوش آئے تجھے . . . . . . شہرِ منافق کی امیری !!ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی
  23. گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیںجانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں اے مجھے جاگتا پاتی ہوئی رات وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں بھیڑ میں کھویا ہوا بچہ تھا اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں بند کمرے میں کبھی میری طرح شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں میری خود داری برتنے والے تیرا پندار بھی ٹوٹا کہ نہیں الوداع ثبت ہوئی تھی جس پر اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں پروین شاکر
  24. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
  25. ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺤﺮﺍ ﺳُﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺑِﻠﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺾ ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﮕﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﺎﺭ ﺳﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﭼُﮭﻮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍِﺱ ﺣﺼﺎﺭِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﻢ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻟﻤﺤﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺭﻗﻢ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ، ﺑُﮭﻼ ﺩﻭ ﺟﻮ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﺎﮞ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ، ﺑُﺖ ﮐﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺑﺖ ﺷﮑﻦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻢ ﺧﺎﮎ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺭﺱ ﻧﮧ ﺗُﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐُﮩﺮ ﮐﺐ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺁﺧﺮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻠﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺳﺘﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺠﺎﺭﮦ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺍُﺳﮯ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭧ ﮐﺮ ﮨﺎﺭﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟِﺒﺎﺩﮮ ﺯﺭﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺧﺰﺍﮞ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﺌﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩِﯾﮯ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﺘﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ ﺭﮐﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﮯ ﺳﺐ ﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﯽ ﮐﯿﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳُﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﮍ ﺟﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﺫﺍﺕ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺯِﻧﺪﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺎ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺍﮐﺜﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗُﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯَﺩ ﭘﮧ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯿﺴﯽ؟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻣﺪﮬﻢ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻭﻗﻒ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔُﻢ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍُﻧﮕﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﮔِﻦ ﻟﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺷِﺪّﺕ ﺳﮯ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻨﺎﺅ ﺣﺎﻝ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﮐﺎ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﮧ ﺭﻭﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺷﺎﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﯼ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﺍُﺱ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺑﺖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺣَﺪ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﻋﺸﻖ ﺟﯿﺴﮯ ﺭُﻭﺡ ﮐﺎ ﺳﺮﻃﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ؟ ! ﮐﮩﺎ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﻘﺶِ ﭘﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺫﺭّﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣُﺴﻦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﮎ ﮐﻨﻮﻝ ﺭﺥ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺣﺮ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﻞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﭨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺫّﯾﺖ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗُﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﺍﺏ ﺩﺍﺅ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﺱ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺎﺭ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﺐ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭼﭗ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﻑ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﺩَﺭ ﻭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﺎ ﻟﮩﻮ ﺟﮭﻠﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ، ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﻋﺚ ﯾﮧ ﺭَﺗﺠﮕﮯ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺷﺐ ﮐﻮ ﺭﻭﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮐﺘﻨﺎ؟ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﭘﻞ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍِﮎ ﺩُﻋﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩُﻋﺎ ﮐﺎ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﮐﮩﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ، ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮔﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﺪّﺕ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﮐﺎﺗِﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﮨَﻮﺍ ﮐﻮ ﮐﺐ ﺑﻼﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﻣﯿﺪ ﮐﯽ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﺎﮦِ ﻣﻦ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺗﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﺒﮭﯽ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻭﮨﯽ ﻗِﺼّﮧ ﺗﻮ ﺩﻭﮨﺮﺍﺅ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣُﻮﻧﺪ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﮐﺲ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﮧ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻢ ﺯﺩﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺭﻡ ﺟِﮭﻢ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟَﻞ ﺗﺮﻧﮓ ﺩﻝ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﯿﺎ؟ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺲ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﮩﺎ ﺟُﮭﮑﺘﯽ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ، ﺍُﭨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺒﯿﻦ ﻭ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﭼﮑﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭ ﺍﭘﻨﺎ، ﺟﺒﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﻭﮞ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﯾﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺴﺮﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﯾﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺯﺧﻢ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻏﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻮ ﮔﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻧَﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﮞ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﻧَﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮩﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﻮﮞ ﮐﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟُﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﺑﻦ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍِﺗﻨﺎ ﮐﮩﻮ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﻧﭩﻮ ﮔﮯ؟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﺐ ﺑﻮﻻ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﮭﺮ ﺑُﻼﺗﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﻓِﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮑﮫ ﺑﮭﺮﻭﮞ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﮐُﻮﻧﺞ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘَﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺮﻭﮞ؟ ﮐﮩﺎ ﺑﮯ ﺁﺏ ﻣﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺳﺎ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﭘﮩﻦ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧَﺲ ﻧَﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﻮ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﮯ ﮐﮩﺎ ﺍِﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﺗﺮﯾﺎﻕ ﮨﮯ ﺑﺲ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮨﻮﮔﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﻃﮯ ﮨﮯ ﺗُﮩﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳَﺮﺍﺑﯽ ﮨﻢ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﯽ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺗﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭘﯿﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﭘُﮑﺎﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺅﮔﯽ ﺳُﻨﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺣﻠﻘﮧﺀ ﯾﺎﺭﺍﮞ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﻣﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺁﺯﻣﺎﺅﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﮏ، ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺅﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐِﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ
×