Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'میں'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 64 results

  1. آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
  2. عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدلیں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں جن کو مجبورئ حالات نے رونے نی دیا تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا تنگئ وقتِ حالات نے رونے نہ دیا ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
  3. تمھیں چھونے کی خواہش میں تمھیں چھونے کی خواہش میں نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے میں نے گذارے ہیں مجھے معلوم ہے چھونے سے تم کو یہ نہیں ہو گا مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی جگنو دمک اٹھیں تمہارے لمس کی خوشبو مری رگ رگ میں بس جائے مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے مگر جاناں حقیقت ہے تمھیں میں چھو نہیں سکتا! اگرچہ لفظ یہ میرے تمہاری سوچ میں رہتے، تمہارے خواب چھوتے ہیں تمھیں میں چھو نہیں سکتا مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے میں ڈرتا ہوں کہیں چھونے سے تم پتھر نا ہو جاؤ میں وہ جس نے تمھیں تتلی کے رنگوں سے سجایا ہے میں وہ جس نے تمھیں لکھا ہے جب بھی پھول لکھاہے بھلا کیسے میں اس پیکر کو چھو لوں اور ساری عمر میں اک پتھر کی مورت کو سجا لوں اپنے خوابو ں میں مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے تمھیں پتھر اگر کر لوں تو خود بھی ٹوٹ جاؤ ں گا سنو جاناں! بھلے وہ ضبط کے موسم کڑے ہوں ذات پر میری تمہیں میں چھو نہیں سکتا
  4. کسی راکھ میں ہے دبا ہوا کسی شب وہ آئے جو خواب میں اسے درد سارے ہی سونپ دوں اسے کہہ سکوں وہ شکایتیں جسے لہر ِ موج ِ فراق نے تہہ ِ آب کب سے دبا دیا یہ فصیل ِ جاں پہ سکوت سا مجھے کھا رہا ھے کتر کتر مرے بے خبر تجھے کیا پتا مری سانس سے ترے درد کا جو ہے ایک رشتہ بندھا ہوا یہ چراغ زد میں ہواؤں کی کسی طاق میں ہے دھرا ہوا جو تھا خواب مری حیات کا کسی راکھ میں ہے دبا ہوا کسی شب تو آ مرے خواب میں مرے ہمسفر ذرا دیکھ لے مری شب گزیدہ نگاہ میں تیرے بعد درد ہی رہ گئے مری شاخ ٹوٹی ھے سوکھ کر مرے پھول زرد ہی رہ گئے کسی شب تو آ مرے خواب میں مرے ہمسفر مجھے دیکھنے
  5. گر ترے شعر میں شامل ہی نہیں سوز و گداز ’’ ہجو ‘‘ خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو ! خاک در خاک تری جراءت ِ انکار پہ خاک شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک لحنِ دل تو بھی اسی شور میں شاداں ہے تو پھر خاک در خاک ترے نغمہ و مزمار پہ خاک کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک خاک در خاک ترے لہجہ و تکرار پہ خاک
  6. کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں جھیل پر کچھ دائرے میں چھوڑ دوں بدگمانی رہ گئی ہے درمیاں عمر بھر کے حوصلے میں چھوڑ دوں آنکھ تو دامن بچا کر آ گئی دل تمھارے راستے میں چھوڑ دوں روگ یہ دل کا بدن تک آ گیا سوچتی ہوں اب اسے میں چھوڑ دوں زندگی ہے وہ ،مری عادت نہیں کس طرح سے پھر اسے میں چھوڑ دوں کچھ لکیریں بن رہی ہیں زیست میں کیا اسے بھی حاشیے میں چھوڑ دوں کیا کہا !اب ساتھ مشکل ہو گیا تم کہو تو راستے میں چھوڑ دوں
  7. جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ سورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ کاغذ کی کترنوں کو بھی کہتے ہیں لوگ پھول رنگوں کا اعتبار ہی کیا سونگھ کے بھی دیکھ ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ دشمن ہے رات پھر بھی ہے دن سے ملی ہوئی صبحوں کے درمیان ہیں جو فاصلے بھی دیکھ عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ اس کی شکست ہو نہ کہیں تیری بھی شکست یہ آئنہ جو ٹوٹ گیا ہے اسے بھی دیکھ تو ہی برہنہ پا نہیں اس جلتی ریت پر تلووں میں جو ہوا کے ہیں وہ آبلے بھی دیکھ بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ کیا شاخ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ
  8. عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا ایک پَل کو تیری یاد آئے تو مَیں سوچتا ہوُں خواب کے دشت میں بھٹکا ہوُا آہُو ہو گا تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں کیا خبر تھی کہ تو اِک پیکرِ خوشبو ہو گا اب سمیٹا ہے تو پھر مُجھ کو ادھُورا نہ سمیٹ زیرِ سر سنگ نہ ہو گا، میرا بازُو ہو گا مجھ کو معلوُم نہ تھی ہجر کی یہ رمز، کہ توُ جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سُو ہو گا اِس توقّع پہ مَیں اب حشر کے دن گِنتا ہوُں حشر میں، اور کوئی ہو کہ نہ ہو، تُو ہو گا احمد ندیم قاسمی
  9. یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
  10. ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا یاد ہیں مرحلے محبت کے ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا کتنے مانوس لوگ یاد آئے صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
  11. Urooj Butt

    میں ٹھیک ہاں

    ﻣﯿﮉﯼ ﻣَﺮﺽ ﺩﯼ ﻓِﮑﺮ ﻃﺒِﯿﺐ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺟﻮﮌ ﺩﻭﺍ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﻧﮧ ﺷَﺮﺑﺖ ﻋﺮﻕ ﺍِﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﺩﮮ ﻧﮧ ﺑﻮﺗﻼﮞ ﭼﺎ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﮉﮮ ﮐُﻞ ﻧُﺴﺨﮯ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮔﺌﮯ ﻧﮧ ﺯﮨﻦ ﮐﮭﭙﺎ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﺳﺎﮐُﻮﮞ ﻟﻮﮌ ﻧﺌﯿﮟ ﺗﯿﺮﯾﺎﮞ ﭘَﮭﮑِﯿﺎﮞ ﺩﯼ ﻣﯿﮑُﻮﮞ ﺳَﺠﻦ ﻣِﻼ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ
  12. بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑنا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
  13. Urooj Butt

    میں کہتی تھی

    ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺤﺮﺍ ﺳُﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺑِﻠﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺾ ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﮕﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﺎﺭ ﺳﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﭼُﮭﻮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍِﺱ ﺣﺼﺎﺭِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﻢ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻟﻤﺤﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺭﻗﻢ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ، ﺑُﮭﻼ ﺩﻭ ﺟﻮ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﺎﮞ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ، ﺑُﺖ ﮐﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺑﺖ ﺷﮑﻦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻢ ﺧﺎﮎ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺭﺱ ﻧﮧ ﺗُﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐُﮩﺮ ﮐﺐ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺁﺧﺮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻠﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺳﺘﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺠﺎﺭﮦ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺍُﺳﮯ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭧ ﮐﺮ ﮨﺎﺭﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟِﺒﺎﺩﮮ ﺯﺭﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺧﺰﺍﮞ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﺌﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩِﯾﮯ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﺘﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ ﺭﮐﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﮯ ﺳﺐ ﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﯽ ﮐﯿﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳُﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﮍ ﺟﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﺫﺍﺕ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺯِﻧﺪﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺎ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺍﮐﺜﺮ ہی ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗُﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯَﺩ ﭘﮧ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯿﺴﯽ؟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻣﺪﮬﻢ ﮨیں ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻭﻗﻒ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔُﻢ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍُﻧﮕﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﮔِﻦ ﻟﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺷِﺪّﺕ ﺳﮯ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻨﺎﺅ ﺣﺎﻝ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﮐﺎ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﮧ ﺭﻭﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺷﺎﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﯼ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﺍُﺱ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺑﺖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺣَﺪ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﻋﺸﻖ ﺟﯿﺴﮯ ﺭُﻭﺡ ﮐﺎ ﺳﺮﻃﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ؟ !ﮐﮩﺎ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﻘﺶِ ﭘﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺫﺭّﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣُﺴﻦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﮎ ﮐﻨﻮﻝ ﺭﺥ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺣﺮ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﻞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﭨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺫّﯾﺖ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗُﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﺍﺏ ﺩﺍﺅ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﺱ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺎﺭ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﺐ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭼﭗ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﻑ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﺩَﺭ ﻭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﺎ ﻟﮩﻮ ﺟﮭﻠﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ، ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﻋﺚ ﯾﮧ ﺭَﺗﺠﮕﮯ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺷﺐ ﮐﻮ ﺭﻭﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮐﺘﻨﺎ؟ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﭘﻞ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍِﮎ ﺩُﻋﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩُﻋﺎ ﮐﺎ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﮐﮩﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ، ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮔﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﺪّﺕ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﮐﺎﺗِﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﮨَﻮﺍ ﮐﻮ ﮐﺐ ﺑﻼﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﻣﯿﺪ ﮐﯽ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﺎﮦِ ﻣﻦ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺗﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﺒﮭﯽ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻭﮨﯽ ﻗِﺼّﮧ ﺗﻮ ﺩﻭﮨﺮﺍﺅ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣُﻮﻧﺪ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﮐﺲ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﮧ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻢ ﺯﺩﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺭﻡ ﺟِﮭﻢ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟَﻞ ﺗﺮﻧﮓ ﺩﻝ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﯿﺎ؟ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺲ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﮩﺎ ﺟُﮭﮑﺘﯽ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ، ﺍُﭨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺒﯿﻦ ﻭ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﭼﮑﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭ ﺍﭘﻨﺎ، ﺟﺒﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﻭﮞ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﯾﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺴﺮﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﯾﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺯﺧﻢ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻏﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻮ ﮔﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻧَﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﮞ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﻧَﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮩﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﻮﮞ ﮐﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟُﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﺑﻦ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍِﺗﻨﺎ ﮐﮩﻮ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﻧﭩﻮ ﮔﮯ؟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﺐ ﺑﻮﻻ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﮭﺮ ﺑُﻼﺗﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﻓِﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮑﮫ ﺑﮭﺮﻭﮞ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﮐُﻮﻧﺞ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘَﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺮﻭﮞ؟ ﮐﮩﺎ ﺑﮯ ﺁﺏ ﻣﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺳﺎ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﭘﮩﻦ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧَﺲ ﻧَﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﻮ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﮯ ﮐﮩﺎ ﺍِﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﺗﺮﯾﺎﻕ ﮨﮯ ﺑﺲ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮨﻮﮔﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﻃﮯ ﮨﮯ ﺗُﮩﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳَﺮﺍﺑﯽ ﮨﻢ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﯽ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺗﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭘﯿﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﭘُﮑﺎﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺅﮔﯽ ﺳُﻨﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺣﻠﻘﮧﺀ ﯾﺎﺭﺍﮞ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﻣﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺁﺯﻣﺎﺅﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﮏ، ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺅﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐِﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ
  14. کچھ دن تَو بسو –میری آنکھوں میں پھر خواب اگر ——ھو جاؤ تو کیا کوئی رنگ تو دو —میرے چہرے کو پھر زخم اگر ——مہکاؤ تو کیا؟؟؟ جب ھم ھی نہ مہکے , پھر صاحب تم بادِ صبا ——کہلاؤ تو کیا؟؟؟؟
  15. نہ کسی کی دسترس میں تھا نہ کسی کے خواب و خیال میں مگر ایک شخص سما گیا میری ذات کے در و بام میں نہ کسی بھی نظم کا شعر تھا نہ کسی بھی لفظ کا حرف تھا مگر ایسے لفظوں میں بُن گیا مجھے خاص و خاص بنا گیا نہ کسی کی روح کا سکون تھا نہ کسی کے دل کا قرار تھا مگر ایسا جادو چلا گیا مجھے اپنا عشق چڑھا گیا تھا وہ شخص کتنا عجیب تر تھا وہ شخص کتنا قریب تر مجھے چھوڑ کر تو چلا گیا مگر عشق کرنا سکھا گیا
  16. صحیح مسلم ( 107 ) جلدنمبر 1 حضرت ابوھریرہ رضی اللّٰه عنہ سےروایت ھے کہ 1 شخص اللّٰه کےنبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللّٰه کے نبی ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اللّٰه کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اللّٰه کی بندگی کرو اللّٰه کے ساتھ کسی کو شریک نا کرو نماز قائم کرو جو تم پر فرض کر دی گئی ہیں رمضان المبارک کے روزے رکھو زکاتہ ادا کرو وہ شخص بولا میں اس میں نا کمی کروں گا نا اضافہ کروں گا جب وہ شخص چلا گیا تو اللّٰه کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جنتی دیکھنا اس شخص کو دیکھ لو
  17. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  18. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  19. دیوانی متواری نی میں منت کر کر ہاری نی میں دیوانی متواری نی میں بے کل بے کل کس بن جاؤں خار ہی خار ہیں جس بن جاؤں تیرے پریم کی ماری نی میں دیوانی، متواری نی میں ماتھے پر سو چاند سجایا پاؤں کی نوک سے جگ ٹھکرایا رہی کنیز تہاری نی میں دیوانی، متواری نی میں من آنگن میں سج بن آئے پیا تو مورے جج بن آئے صدقے نی میں واری نی میں دیوانی، متواری نی میں شاہ ہنسیں تو گرما جاؤں پل پل، چھل بل شرما جاؤں الہڑ نار، کنواری نی میں دیوانی، متواری نی میں فرحت عباس شاہ
  20. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  21. نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر میری منزلیں کہیں اور ھیں مجھے اس جہاں کی تلاش ھے جہاں ھجر روح وصال ھے ابھی در وہ مجھ پہ کھلا نہیں ابھی آگ میں ھوں میں جل رھا ابھی اسکا عرفاں ھوا نہیں مجھے رقص رومی ملا نہیں ابھی ساز روح بجا نہیں رہ سرمدی کا خیال ھے میں ازل سے جسکا ھوں منتظر مجھے اس ابد کی تلاش ھے نہ میں گیت ھوں نہ میں خواب ھوں نہ سوال ھوں نہ جواب ھوں نہ عذاب ھوں نہ ثواب ھوں میں مکاں میں ھوں اک لا مکاں میں ھوں بے نشان کا اک نشاں میری اک لگن میری زندگی میری زندگی میری بندگی میرے من میں ایک ھی آگ ھے مجھے رقص رومی کی لاگ ھے میرا مست کتنا یہ راگ ھے کہ بلند میرا یہ بھاگ ھے نہ میں خواب گر، نہ میں کوزہ گر
  22. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  23. شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟ درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟ آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند ! ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائے یہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟ انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہے جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند ان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہا ورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور سونا چاند جگ کے چاروں کوٹ میں گھوما، سیلانی حیران ہوا اس بستی کے اس کوچے کے اس آنگن میں ایسا چاند ؟ آنکھوں میں بھی، چتون میں بھی، چاندہی چاند جھلکتے ہیں چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند ایک یہ چاندنگر کا باسی، جس سے دور رہا سنجوگ ورنہ اس دنیا میں سب نے چاہا چاند اور پایا چاند امبر نے دھرتی پر پھینکی نور کی چھینٹ اداس اداس آج کی شب تو آندھی شب تھی، آج کدھر سے نکلا چاند انشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی رِیت یہی ہے سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند اپنا سینے کے مطلع پر جو بھی چمکا وہ چاند ہوا جس نے مَن کے اندھیارے میں آن کیا اُجیارا چاند چنچل مسکاتی مسکاتی گوری کا مُکھڑا مہتاب پت جھڑ کے پیڑوں میں اٹکا، پیلا سا اِک پتہ چاند دکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اس کے دم سے دیکھ لئے ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبھرا چاند روشنیوں کی پیلی کرنیں، پورب پچھم پھیل گئیں تو نے کس شے کےدھوکے میں پتھر پہ دے ٹپکا چاند ہم نے تو دونوں کو دیکھا، دونوں ہی بےدرد کٹھور دھرتی والا، امبر والا، پہلا چاند اور دوجا چاند چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے ؟ چاند کی خاطر زِد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند ابن انشاٰء
  24. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  25. دیارِ دِل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہُوا ، وہ شکل تو دِکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دُشمناں ہُوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجِشوں کا لُطف بھی چلا گیا جُدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے تجھے بھی نِیند آگئی، مُجھے بھی صبر آگیا پُکارتی ہیں فُرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں؟ زمِیں نِگل گئی اُنہیں، کہ آسمان کھا گیا یہ صُبح کی سفیدِیاں ، یہ دوپہر کی زردِیاں اب آئینے میں دیکھتا ہُوں مَیں کہاں چلا گیا یہ کِس خوشی کی ریت پر ،غموں کو نِیند آگئی وہ لہر کِس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا گئے دِنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الَم کشو ! اُٹھو کہ آفتاب سر پہ آگیا ناصؔر کاظمی
×