Parveen Shakir
Read Parveen Shaker پروین شاکر Biography !
پروین شاکر
یدائش 24 نومبر 1952
کراچی, سندھ, پاکستان
( وفات 26 دسمبر( 1994
عمر 42 سال
اسلام آباد, پاکستان
پیشہ :اردو شاعر
قومیت :پاکستانی
نژادیت :اردو
تعلیم ایم اے انگریزی ادب، بینک ایڈمنسٹریشن; پی ایچ ڈی
صِنف غزل آزاد نظم
نمایاں کام :خوشبو
نمایاں اعزاز(ات) :صدارتی تمغہ حسن کارکردگی
[1] آدم جی اعزاز
زوج: سید نصیر علی
اولاد: سید مراد علی
Spoilerپروین شاکر پروین شاکر کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوپاتی ہے۔
فہرست
1 ابتدائی حالات
2 حالات زندگی
3 ادبی خدمات
4 تخلیقات
5 تاثرات
6 وفات
7 حوالہ جات
ابتدائی حالات
24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔
حالات زندگی
سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔
ادبی خدمات
شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔
تخلیقات
انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
(خوشبو (1976ء،
(صد برگ (1980ء)،
(خود کلامی (1990ء)،
(انکار (1990ء)
(ماہ تمام (1994ء)
تاثرات
پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہے جو درد کائنات بن جاتا ہے اسی لیے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔۔ حالانکہ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں ، لیکن ان کے یہاں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر دوسری شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی ۔ اُن کی شاعری میں قوس قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں ۔ اُن کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے ۔ ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔
وفات
دسمبر26 1994ء
کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ لواحقین میں ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔
23 topics in this forum
-
- 1 follower
- 0 replies
- 244 views
📘 Parveen Shakir Poetry & Biography | Beautiful Urdu Shayari 📝 Famous Poetry وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا Roman: Woh to khushboo hai hawaon mein bikhar jaye ga کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی 📜 Parveen Shakir Biography (Roman Urdu) Parveen Shakir aik mashhoor Urdu shaira thin jo apni narm, jazbati aur khoobsurat shayari ki wajah se duniya bhar mein maqbool hui. Aap 24 November 1952 ko Karachi mein paida hui. Parveen Shakir ne apni taleem Karachi se hasil ki aur baad mein Government service join ki. Aap Civil …
Last reply by Sahrish Dar, -
-
- 5 replies
- 2.7k views
تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خوا…
Last reply by Hareem Naz, -
- 12 replies
- 4.8k views
ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻋﺸﻖ ﮈﮬﻮﻧﮓ ﮨﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ﮨﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭧ ﮨﻨﺴﻨﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﭘﺮ ﻧﻢ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﮮ ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺗﻮ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﻼ ﮐﺮﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺭﺍﺱ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺗﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺟﮭﮍﯼ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﻣﻠﻦ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮑﮭﺮﯾﮟ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺗﻮ ﮐﺮﭼﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﭼﻨﺎ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻧﮕﺮ ﻧﮕﺮ ﭘﮭﺮﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺴﺒﯿﺤﻮﮞ ﭘﮧ ﮔﻨﺎ ﮐﺮﮮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﻋﺸﻖ ﮈﮬﻮﻧﮓ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ﮨﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻮ ﺟﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﭘﺮﻭﯾﻦ ﺷﺎﮐﺮ
Last reply by Waqas Dar, -
پروین شاکر 1 2
by Zarnish Ali- 26 replies
- 9.8k views
ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﮭﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﭘﮩﻼ ﺗﯿﺮ ﮐﻮﻥ ﭘﺮﻭﯾﻦ ﺷﺎﮐﺮ
Last reply by Kainat Khan, -
- 6 replies
- 2.8k views
کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا پروین شاکر شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا سِوا ہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا ملے تو ایسے، رگِ جاں کو جیسے چھُو آئے جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی ن…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 1.7k views
کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر حرف آتا ہے مسیحائی پر اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو پیار آنے لگا رُسوائی پر ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں ! تیری تصویر کی زیبائی پر رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی قامتِ عشق کی رعنائی پر سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا بات ہو گی مرے ہرجائی پر خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں پُھول کی طرز پذیرائی پر پروین شاکر
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 1.8k views
Darwaza Jo Khula Tu Nazar Aye Khare Wo دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ ! راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ پروین شاکر
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.8k views
تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی! آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی" رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا! آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ …
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 1.8k views
بادباں کھُلنے سے پہلے کا اشارا دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارا دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جب بنامِ دل گواہی ہم سے مانگی جائے گی خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (پروین ش…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 1.6k views
ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے پروین شاکر عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے ! ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ ! آپ سوتے رہ جائیں، اور ہات ہوجائے
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 2k views
گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیںجانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں اے مجھے جاگتا پاتی ہوئی رات وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں بھیڑ میں کھویا ہوا بچہ تھا اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں بند کمرے میں کبھی میری طرح شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں میری خود داری برتنے والے تیرا پندار بھی ٹوٹا کہ نہیں الوداع ثبت ہوئی تھی جس پر اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں پروین شاکر
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.6k views
وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا پروین شاکر
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.4k views
Aadat Hi Bana Li Hai Is Sheher Ke Logon Ne Andaaz Badal Lena, Awaaz Badal Lena Duniya Ki Muhabbat Main Atwaar Badal Lena Mosam Jo Naye Aaye Raftaar Badal Lena Aghyaar Wohi Rakhna Aehbaab Badal Lena Aadat Hi Bana Li Hai Es Shehar Ke Logon Ne Rasty Main Agar Milna Nazron Ko Jhuka Lena Awaaz Agar Do To Katra Ke Nikal Jana Har Ek Say Juda Rehna Har Ek Say Khafa Rehna Har Ek Ka Gila Karna Jaty Hoye Raahi Ko Manzil Ka Pata Day Kar Rasty Main Rula Dena Aadat Hi Bana Li Hai Es Sheher Ke Logon Ne........ Parveen Shakir
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 2.6k views
نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقین کامل نہیں لیکن گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کہیں کافر نہ ہو جائوں دل اس کی پوجا پہ بڑا اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شاید میرا دل ہے نشانے پر لبوں سے کچھ نہیں کہتا نظر سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں مجھ سے محبت ہے پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر
Last reply by jannat malik, -
- 1 reply
- 1.4k views
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر
Last reply by Mubashir Aziz Arain, -
- 2 replies
- 1.6k views
کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے، مرنے والا اُس کو بھی ہم تیرے کُوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شاید بات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والا شام ہونے کو ہے اورآنکھ میں اِک خواب نہیں کوئی اِس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے سو بِکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا اِسی اُمّید پہ ہر شام بُجھائے ہیں چراغ ایک تارا ہے سرِ بام اُبھرنے والا
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.6k views
بادباں کھُلنے سے پہلے کا اشارا دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارا دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جب بنامِ دل گواہی ہم سے مانگی جائے گی خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے* ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا
Last reply by Zarnish Ali, -
- 3 replies
- 1.8k views
ہم نے ہی لَوٹنے کا ارادہ نہیں کیا اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود سر زیرِ بارِ ساغر و بادہ نہیں کیا کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا آمد پہ تیری عطر و چراغ و سَبو نہ ہوں اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا (پروین شاکر)
Last reply by Sahrish Dar, -
Irada
by Urooj Butt- 4 replies
- 1.7k views
ہم نے ہی لَوٹنے کا ارادہ نہیں کیا اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود سر زیرِ بارِ ساغر و بادہ نہیں کیا کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا آمد پہ تیری عطر و چراغ و سَبو نہ ہوں اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا (پروین شاکر)
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 1.9k views
ونہی مرجھا سے گئے ہوں گے مہکتے گجرے جانے والا نہ مگر لوٹ کے آیا ہو گا دل کہ.. محروم تمنا ھے مگر خوش پھر بھی حوصلہ وقت نے کیا کیا نہ سکھایا ہو گا جو میرا نام بھی لیتا تھا دعاوں کی طرح سوچتا ہوں مجھے کس طور سے بھولا ہو گا چاند ھر جگہ یہی ھو گا مگر اس کے سبب ھنس پڑا ہو گا کوئی اور کوئی روتا ہو گا یاد کر کے تو میرے پیار کو روتا ہو گا چاند جب جب تیرے آنگن میں اترتا ھو گا پرویں شاکر
Last reply by Waqas Dar, -
- 6 replies
- 2k views
وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے اب یہ دُکھ ، کہ پہن کرکِسے دِکھاناہُوا میں اپنے کانوں میں بیلے کے پُھول کیوں پہنوں زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا پروین شاکر
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.6k views
تو ملا ہے تو اب یہ غم ہے پیار زیادہ ہے زندگی کم ہے (پروین شاکر)
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.7k views
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی ____________________________________ پروین شاکرؔ
Last reply by Ch Wish,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
