jannat malik👑 Posted December 12, 2016 Posted December 12, 2016 یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now