Zarnish Ali 7,894 Posted March 11, 2017 Posted March 11, 2017 تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی! آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی" رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا! آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد رنگِ اُمید کھِلے گا کہ بکھر جائے گا! وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا! جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا! "پروین شاکر" 2 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.