Zarnish Ali 7,894 Posted January 19, 2017 Posted January 19, 2017 گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیںجانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں اے مجھے جاگتا پاتی ہوئی رات وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں بھیڑ میں کھویا ہوا بچہ تھا اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں بند کمرے میں کبھی میری طرح شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں میری خود داری برتنے والے تیرا پندار بھی ٹوٹا کہ نہیں الوداع ثبت ہوئی تھی جس پر اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں پروین شاکر 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.