ROHAAN Posted October 31, 2019 Report Posted October 31, 2019 (edited) ہے عجیب و غریب رعنائی ہے عجیب و غریب رعنائی خود تماشا ہوں، خود تماشائی ایک ہی موج کا تسلسل ہیں تیری گیرائی، میری گہرائی دوستا عشق سے بنا کے رکھ کام آئے گی یہ شناسائی میں تو ہنستا ہوں اس خرابے پر تجھے کس بات پر ہنسی آئی تم نہیں جانتے خدا کا حال تم پہ بیتی نہیں ہے یکتائی خود مجھے بھی قبول کرتی نہیں میری خلوت پسند تنہائی خود کو عورت کی آنکھ سے دیکھا اور اک رمز کی سمجھ آئی کتنی صوفی سرشت تھی وہ آگ جو مجھے جسم سے اٹھا لائی جانے کن منظروں کو روتی ہے یہ غریب الدیار بینائی صاحبو ایک تھا علی زریون ویسا کافر نہ پھر ہوا بھائی Edited October 31, 2019 by ROHAAN
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now