Zarnish Ali 7,894 Posted February 26, 2017 Posted February 26, 2017 بادباں کھُلنے سے پہلے کا اشارا دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارا دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جب بنامِ دل گواہی ہم سے مانگی جائے گی خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (پروین شاکر) 2 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.