Zarnish Ali👑 Posted February 26, 2017 Posted February 26, 2017 بادباں کھُلنے سے پہلے کا اشارا دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارا دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جب بنامِ دل گواہی ہم سے مانگی جائے گی خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (پروین شاکر) 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now