Zarnish Ali👑 Posted May 24, 2017 Posted May 24, 2017 کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر حرف آتا ہے مسیحائی پر اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو پیار آنے لگا رُسوائی پر ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں ! تیری تصویر کی زیبائی پر رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی قامتِ عشق کی رعنائی پر سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا بات ہو گی مرے ہرجائی پر خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں پُھول کی طرز پذیرائی پر پروین شاکر 3
waqas dar⚙ Posted May 26, 2017 Posted May 26, 2017 مضموں وہ کیا جو لذت غم سے بھرا نہ ہو شاعر وہ کیا _کلام میں جس کے مزا نہ ہو 2
Zarnish Ali👑 Posted May 26, 2017 Author Posted May 26, 2017 بحر غم سے پار ہونے کے لیے موت کو ساحل بنایا جائے گا 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now