Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Tareekhi Waqaiyaat

  • entries
    16
  • comments
    21
  • views
    1,779

Contributors to this blog

Seerat Sahabiat Hazrat Zainab Razi Allah Anha

Sign in to follow this  
waqas dar

911 views

حضور کی بڑی بیٹی ،حضرت زینب رضی اللہ عنہا 


تحریر : حافظ محمد ادریس 

اعلیٰ ایمان ۔ کڑا امتحان :۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ سخت ابتلا و امتحان اللہ کے رسولوں پر آتاہے ۔ ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا کہ آپ کو سب سے زیادہ ستایا گیا ۔ یہ بھی فرمایا کہ انسان کا امتحان اس کے ایمان کے مطابق ہی ہوتاہے ۔ رسول رحمت نے اپنی زندگی میں بے پناہ مشکلات برداشت کیں ۔ انسان اپنی ذات سے زیادہ اپنی اولاد کی تکالیف و مصائب سے متاثر ہوتاہے ۔ آنحضور کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب ہجرت کے لیے نکلیں تو دشمنوں نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں ستایا گیا ۔ بدبختوں نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ انہی کی قوم کی بیٹی اور بہو ہیں۔


حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد :۔

حضرت زینب کے خاوند ابوالعاص نے جو خود ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے ، آنحضور کی ہجرت کے بعد سید ہ زینب کو مدینہ روانہ کرنا چاہا لیکن اس وقت یہ ممکن نہ ہو سکا ۔ جنگ ِ بدر میں ابوالعاص کافروں کی فوجوں میں تھے ، وہ شکست کے بعد جنگی قیدی بنے ۔ حضرت زینب نے ان کی رہائی کے لیے مکہ سے اپنے زیورات بھیجے ۔ ان زیورات میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ نے اپنی بیٹی کو عطا فرمایا تھا ۔ آنحضور اس ہار کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے ۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ بیٹی کے پاس ماں کی یاد گار ہے ۔ اگر تم اجازت دو تو اسے واپس کر دیا جائے ۔ صحابہ نے بخوشی اس تجویز سے اتفاق کیا ۔ آپ نے وہ ہار حضرت زینب کو واپس بھجوا دیا ۔ابوالعاص رہا ہوکر مکے جانے لگے تو آنحضور نے فرمایا کہ زینب کو مدینہ بھیج دو ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں گے ۔ 

رذالت کی آخری حد :۔

ایفائے عہد کے لیے واپس جاتے ہی ابوالعاص نے حضرت زینب کو اپنے بھائی کنانہ بن ربیع کے ساتھ مدینہ روانہ کیا ۔ کافروں کو یہ بات پسند نہ تھی ۔غزوہ بدر میں آنحضور سے شکست کے بعد ان کی آتش انتقام اور بھی بھڑک چکی تھی۔ انہوں نے بنت رسول کا تعاقب کیا اور وادی ذی طوٰی میں انہیں جا لیا ۔یہ رذالت کی آخری حد تھی کہ ایک شخص کی دشمنی کا بدلہ اس کی بے سہارا بیٹی سے لیا جارہاتھا۔ سیدہ زینب اونٹ پر سوار تھیں اور اس وقت وہ حاملہ بھی تھیں ۔ کنانہ بن ربیع نے اپنی خالہ زاد بہن اور بھابی ،سیدہ زینب کا دفاع کیا مگر اس حملے اور ہل چل میں اونٹ بدکا اور بنتِ رسول نیچے گر گئیں ۔ وہ زخمی بھی ہوئیں اور ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا۔ یہی درد ناک واقعہ سیدہ کے لیے جاں لیوا ثابت ہوا۔
اس موقع پر ابو سفیان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور بیچ بچاو کی کوشش کی ۔ظاہر ہے کہ کنانہ اس واقعہ سے مشتعل ہو گئے تھے اور حملہ آوروں سے مرنے مارنے پر تل گئے تھے ۔طے یہ پایا کہ اس وقت تو کنانہ اور زینب مکہ واپس چلے جائیں ۔ پھر کسی وقت خاموشی سے مدینے کی طرف روانہ ہو جائیں ،ان سے کوئی تعارض نہیں کیاجائے گا ۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد حضرت زینب پھر اپنے دیور کنانہ کے ساتھ مکہ سے اس مقدس سفر پر روانہ ہوئیں اور آنحضور کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدبن حارثہ نے طے شدہ مقام پر ان کا استقبال کیا اور انہیں لے کر مدینہ پہنچے۔ آنحضور کواس ظالمانہ حملے کا بڑا دکھ ہوا ۔ بعض روایات کے مطابق حضرت زینب اس کے بعد مسلسل بیمار رہنے لگیں ۔ 

مودب داماد :۔

آنحضور کی دیگر صاحبزادیوں کی طرح یہ بیٹی بھی بڑی عظیم تھیں ۔ ان کے خاوند لقیط بن ربیع المعروف بابی العاص ان کے خالہ زاد بھی تھے ۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ حضرت زینب تو دعوت ِ اسلام سنتے ہی مسلمان ہو گئیں لیکن ان کے خاوند جنگ بدر تک حالت کفر ہی میں رہے ۔ بعض انسانوں میں کچھ خوبیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے ۔ حالت کفر میں ہونے کے باوجود ابو العاص نے آنحضور کی ہمیشہ تعظیم و تکریم اور عزت و احترام کو ملحوظ رکھا ۔ آنحضور سے کبھی اونچی آواز میں بات نہ کی اورآپ کی بیٹی کے ساتھ بھی بہترین سلوک کرتے رہے ۔ آنحضور کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم آپ کے چچا ابو لہب کے دو بیٹوں سے بیاہی گئی تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ اسلام دشمنی میں اپنے باپ کے دباو پر انہوں نے آنحضور کی بیٹیوں کو طلاق دے دی تھی۔ جناب ابوالعاص پر کفار نے بڑا دباو ڈالا کہ وہ بھی یہ حرکت کریں لیکن وہ انتہائی شریف النفس اور صلہ رحمی کرنے والے انسان تھے ۔ انہوں نے یہ جرم کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ 

دوسری اسیری :۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوا، ابو العاص جنگ بدر میں کافروں کے ساتھ آئے تھے لیکن خوش دلی کے ساتھ نہیں ۔ اس دوران وہ گرفتار ہوئے مگر قبول اسلام کا اعلان نہ کیا۔ وہ کسی مناسب موقع پر اعلان کر کے داخل اسلام ہونا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ ابوالعاص کے پاس لوگوں کا بہت سا مال تجارت تھا جسے انھوں نے شام کے علاقے میں تجارت کے ذریعے کافی نفع بخش بنا دیا ۔ اتفاق سے شام سے واپسی پر مسلمانوں کے ایک دستے نے اس تجارتی قافلے کو روکا اور سارا سامان قبضے میں لے کر قریشی تاجروں کو گرفتار کر کے مدینہ لے آئے ۔ ابو العاص کی بطور اسیر مدینہ منورہ میں یہ دوسری حاضری تھی ۔ ان کے حسن سلوک کی وجہ سے آنحضور ان کا بدلہ بھی اتارنا چاہتے تھے اور صلہ رحمی کا حق بھی ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے لیکن آپ نے خود کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ صحابہ سے مشاورت کے بعد ہی ابو العاص کا سامان انہیں واپس کیا ۔ 

قبول اسلام کا اعلان :۔

اس عرصے میں اسلامی احکام کے مطابق ابوالعاص اور حضرت زینب کے درمیان تفریق ہو چکی تھی ۔ ابو العاص اگرچہ دل سے مسلمان ہو چکے تھے مگر اس کا اظہار باقی تھا ۔ اس کا اظہار کیے بغیر انہیں مسلمان شمار نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ ذہناً وہ اب اس کے لیے تیار تھے ۔ وہ مختلف لوگوں کا مال تجارت لےکر مکہ واپس آئے اور سب کی امانتیں اور رقوم مع منافع ان کو واپس کر دیں پھر انہوں نے تمام قریش سے اپنے بارے میں گواہی لی کہ ان کے ذمے کسی کا کوئی لین دین تو نہیں ۔ سب نے گواہی دی کہ نہیں ۔ان سے کسی کو کچھ لینا نہیں ہے ۔ پھر ان کی امانت و دیانت پر سب نے یک زبان شہادت دی۔ کافروں سے یہ گواہی لینے کے بعد انہوں نے مکے میں مجمع عام میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا اور پھر ہجرت کر کے مکے سے مدینہ آ گئے ۔ یہ صلح حدیبیہ کے بعد کی بات ہے جب آنحضور اور قریش کے درمیان معاہدہ ہو چکا تھا ۔ ابو العاص کے مدینہ آنے کے بعد آنحضور نے تجدید نکاح کی اور سابقہ حق مہر پر ہی اپنی بیٹی کو حضرت ابوالعاص کے ہاں بھیج دیا ۔

داغ ِ مفارقت :۔

ہجرت کے وقت زخمی ہونے کی وجہ سے سیدہ زینب مستقل طور پر علیل رہنے لگیں۔ آنحضور اپنی بیٹی کی دل جوئی کی پوری کوششیں کرتے مگر انکی صحت بحال نہ ہو سکی ۔ 8 ھ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنی صاحبزادی کی وفات پر آنحضور کو بڑا صدمہ پہنچا ۔ صحابہ نے اس موقع پر آپ کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے تو وہ بھی بہت مغموم ہوئے ۔ آپ نے فرمایا ” زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی اس نے میری محبت کی وجہ سے اذیتیں برداشت کیں ۔ “آنحضور نے اپنی بیٹی کی وفات پر دو ازواج مطہرات حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ام ایمن کے ساتھ مل کر آپ کی پیاری بیٹی کو غسل دیں ۔ آپ نے انہیں غسل کا طریقہ بھی سمجھایا اور فرمایا جب غسل سے فارغ ہو جاو تو زینب کے جسم پر خوشبو لگاو اور کفن کی چادریں پہنانے سے پہلے میری یہ چادر میری بیٹی کو پہنا دینا ۔ اپنی اس بیٹی کو قبر میں اتارنے کے لیے اپنے داماد ابو العاص کے ہمراہ آنحضور خود بھی قبر میں اترے ۔

نواسوں سے محبت :۔

انسان اپنی اولاد سے زیادہ اولادکی اولاد سے محبت کرتا ہے ۔ پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں دل کا قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں ۔ آنحضور کے بیٹے تو سبھی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے ، البتہ چاروں بیٹیاں جوانی کی عمر کو پہنچیں ۔ یوں اللہ نے آپ کو اگرچہ پوتوں سے محروم رکھا مگر نواسے اور نواسیاں عطا فرمائے ۔ حضرت زینب کے بیٹے علی بن ابی العاص اور بیٹی امامہ بنت ِ ابی العاص سے آنحضور بڑی محبت کرتے تھے ۔ ان کو اکثر اپنے ہاں بلاتے اور خود بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے ۔ فتح مکہ کے وقت ایک منزل کے سفر میں حضرت علی بن ابی العاص آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے

 

hazrat-zainab.jpg.7331872ec206cbd517aef1

 

Sign in to follow this  


0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

×
×
  • Create New...