Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

تم جیتو یاہارو سنو۔۔۔ہمیں تم سے پیار ہے


.......سید عارف مصطفیٰ....... پاکستان سپرلیگ میں خدا سرفراز اور اسکے ساتھیوں کو سرفراز کئے جارہا ہے ، سر جھکا کے عاجزی سے بات کرنے والا یہ بھولا سا بندہ اس وقت پاکستان کے بہت سے لوگوں کی پسند بن گیا ہے، مسلسل و شاندار فتوحات نے اس میں نہ کوئی اکڑ پیدا کی ہے اور نہ ہلکا سا بھی غرور ۔۔۔ بطور کھلاڑی بھی اس کی پرفارمنس عموماً اچھی ہی رہتی ہے بالخصوص اہم اور نازک مواقع پہ تو اکثر بہت ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے جیسا کہ گزشتہ سال کے ورلڈ کپ میں بھی جب ٹیم کی نیا ڈوب رہی تھی اور اسے مسلسل نظرانداز کرنے کے بعد بالکل آخری مراحل میں جب موقع دیا گیا تھا تو اس نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب ہی ناقدین خصوصاً سلیکشن ڈراپ کرنے والے کوچ وقار یونس کی بولتی ہی بند کردی تھی ۔۔۔ اور اسی قابل بھروسہ کارکردگی کی وجہ سے ایک بھارتی فلم کا کسی اور کردار کیلئے کہے گئے اس مشہور ڈائیلاگ ’’سرفراز دھوکا نہیں دے گا‘‘ کو ہر چینل نے کرکٹر سرفراز کےاعتراف ہنر کیلئے استعمال کرکے بار بار دہرایا تھا۔ جہاںتک کپتانی کی بات ہے تو یہ بات ایک مسلمہ حقیقت کا درجہ رکھتی ہے کہ ایک نااہل کپتان کی کوتاہیوں کی وجہ سے بعض اوقات ٹیم بے پناہ محنت اور شاندار صلاحیتیں بعض ضائع ہوجاتی ہیں ،،، یوں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ کپتان کی ذات کی وجہ سے بہت فرق پڑتا ہے اور درحقیقت ایک لائق کپتان اپنے آپ میں خود ہی آدھی ٹیم کے برابرہوتا ہے اور اس شعبے میں بھی سرفراز نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے کرکٹ کے ہر شائق کو بھی بیحد متاثر کیا ہے ،،، اس نے ایک نظرانداز کردہ ٹیم کوئٹہ گلیڈیئٹرز کو مکمل یکجان کردیا ہے اور اب یہ ٹیم کامرانیوں کے نئے سنگ میل عبور کرتی جارہی ہے اور ہمارے پیارے شہر کوئٹہ کو ایک چھوٹے سے شہرکی حیثیت سے اٹھا کر کرکٹ کے ایک بڑے طاقتور سینٹر کے مقام پر پہنچا دیا ہے،،اور بلوچستان کو سارے پاکستان سے مضبوطی سے جوڑ دیا ہے ،،، اور اس ٹیم کی جانب سے محمد نواز اور بسم اللہ خان کی صورت میں دو خوبصورت کنول کرکٹ کے تالاب پہ اس خوبصورتی سے نمودار ہوئے ہیں کہ سبھی کی نظریں ان پہ گڑی ہوئی ہیں- سچ تو یہ ہے کہ جب یہ ٹورنامنٹ شروع ہوا تھا تو کوئٹہ کی ٹیم کو تو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہا تھا،، اس ٹیم کو تو اسپانسرز کے اشتہارات تک نہیں مل رہے تھے، ہر طرف کراچی اور لاہور یا پھر پشاور ہی کے ناموں کے ڈنکے زور و شور سے بج رہے تھے۔ اس نے وہ مرحلہ عبور کرنے میں سبقت حاصل کرلی ہے کہ جو ابھی دیگر ٹیموں کیلئے بہت بڑا خواب ہے، اور یہ مقام یونہی اتفاقات کے نتیجے میں نہیں مل گیا بلکہ اسکے لئے سرفراز نے ٹیم کے ہر کھلاڑی کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور کھلاڑی بھی پورے جوش و جذبے سے اسکا ساتھ دیتے نظر آئے۔ بڑے بڑے ناموں والے کرکٹرز پہ مشتمل طاقتور ٹیموں کی موجودگی میں کوئٹہ گلیڈیئیٹرز کی فائنل تک سب سے پہلے رسائی نے اسےسب شائقین کرکٹ میں بے حد مقبول کردیا ہے کیونکہ اس نے نامساعد حالات میں بھی اپنی فائٹنگ اسپرٹ سےان کے دلوں کو موہ لیا ہے اور بڑے بڑے شہروں کی نہایت مضبوط ٹیموں کے مقابلے میں سب سے پہلے فائنل میں پہنچ جانا کوئی معمولی بات ہرگز نہیں یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کوئٹہ کو مل چکا ہے اور اب اگر خدا نخواستہ یہ ٹیم فائنل میں کامیابی حاصل نہیں بھی کرتی تو کوئی بات نہیں، شائقین کرکٹ کے دلوں میں ان کے جھنڈے گڑ چکے ہیں اور ان دلوں سےی یہی صدائیں ابھر رہی ہیں کہ ’’تم جیتو یا ہارو سنو ۔۔۔ہمیں تم سے پیار ہے‘‘


View the full article

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.