Jump to content
  • entries
    159
  • comments
    345
  • views
    75,659

Hai payaray


قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے

کیا محبت گناہ ہے پیارے

دل کو اپنی ہی جلوہ گاہ سمجھ

آ نظر فرش راہ ہے پیارے

پھیر لی تو نے جب سے اپنی نظر

میری دنیا سیاہ ہے پیارے

شک بھی کس پر مری محبت پر

جس کا تو خود گواہ ہے پیارے

تیری معصوم سی نظر کی قسم

یہی وجہ گناہ ہے پیارے

دو نگاہیں جہاں پہ مل جائیں

عشق کی شاہراہ ہے پیارے

منہ جو سی دیتی تھی شکایت کا

اب کدھر وہ نگاہ ہے پیارے

جو بظاہر نہیں مری جانب

وہ نظر بے پناہ ہے پیارے

سچ بتا کچھ خفا ہے تو مجھ سے

یا حیا سد راہ ہے پیارے

اجنبی بن رہی ہے تیری نظر

ختم کیا رسم و راہ ہے پیارے

راہ الفت میں ٹھہرنا کیسا

دم بھی لینا گناہ ہے پیارے

دل سی شے اور ناپسند تجھے

اپنی اپنی نگاہ ہے پیارے

نیک ارادوں کے سنگ ریزوں پر

شاہراہ گناہ ہے پیارے

لب پہ آتی ہے جو ہنسی بن کر

ایک ایسی بھی آہ ہے پیارے

عشق میں وہ بھی ایک وقت ہے جب

بے گناہی گناہ ہے پیارے

اور ملاؔ کو کیا مٹاتے ہو

وہ تو یوں ہی تباہ ہے پیارے

15203235_1345508975495337_2920483984381212312_n.jpg

2 Comments


Recommended Comments

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.