👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×
  • entries
    159
  • comments
    345
  • views
    75,737

BHEEGI YADDAIN


 

اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے

وہی گلیاں، وہی کوچے وہی سردی کا موسم ہے

اسی انداز سے اپنا نظام زیست برہم ہے

یہ حسن ـ اتفاق ہے ایسا کہ نکھری چاندنی بھی ھے

وہی ہر سمت ویرانی اداسی تشنگی سی ھے

وہی ھے بھیڑ سوچوں کی وہی تنہائیاں پھر سے

مسافر، اجنبی اور دشت کی پہنائیاں پھر سے

مجھے سب یاد ہے کچھ سال پہلے کا یہ قصہ ہے

وہی لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصہ ہے

میری آنکھوں میں وہ ایک لمحہء موجود اب بھی ہے

وہ زندہ رات میرے ساتھ لاکھوں بار جاگی ھے

کسی نے رات کی تنہائی میں

سرگوشیاں کی تھیں

کسی کی نرم گفتاری نے دل کو لوریاں دی تھیں

میرے شعروں میں وہ الہام کی صورت میں اترا تھا

معانی بن کے جو جو لفظوں میں پہلی بار دھڑکا تھا

کسی نے میری تنہائی کا سارا کرب بانٹا تھا

کسی نے رات کی چنری میں روشن چاند ٹانکا تھا

وہ جس کے ہونے سے زندگی نغمہ سرائی ھے

اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے

15941011_399716143700706_3407299344933285726_n.jpg

2 Comments


Recommended Comments

Waqas Dar

Posted

آئنہ اب جدا نہیں کرتا
قید میں ہوں رہا نہیں کرتا
مستقل صبر میں ہے کوہ گراں
نقش عبرت صدا نہیں کرتا
رنگ محفل بدلتا رہتا ہے
رنگ کوئی وفا نہیں کرتا
عیش دنیا کی جستجو مت کر
یہ دفینہ ملا نہیں کرتا
جی میں آئے جو کر گزرتا ہے
تو کسی کا کہا نہیں کرتا
ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
تخت خالی رہا نہیں کرتا
عہد انصاف آ رہا ہے منیرؔ
 ظلم دائم ہوا نہیں کرتا

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.



×
×
  • Create New...