يه الگ بات
یہ الگ بات ہے ساقی کے مجھے ہوش نہیں
یہ الگ بات ہے ساقی کے مجھے ہوش نہیں
ہوش اتنا ہے کے میں تجھ سے فراموش نہیں
میں تیری مست نگاہوں کا بھرم رکھ لوں گا
ہوش آیا بھی تو کہہ دوں گا مجھے ہوش نہیں
یاد اتنا ہے کے پہنچنا در مہ خانے تک
کیا کہوں گا گا کے آگے کا مجھے ہوش نہیں
کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا ایک جام
آج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیں
0

1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.