۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ اس ملک کے بڑے عہدے شاید بڑے اس لیئے کہے جاتے ہیں کہ انہیں بروقت چھوڑنے کیلیئے بڑے دل اور بڑے ظرف کی ضرورت ہوتی ہے اور جنرل شریف اس لحاظ سے اپنے بڑے عہدے سے بھی بڑے ثابت ہوئے کہ انہوں نے تقریباً ایک برس قبل ہی یہ واضح بیان دیدیا ہے کہ وہ اس برس 29نومبر کو اپنے منصب کی تین سالہ آئینی مدت پوری ہونے پہ ریٹائر ہوجائینگے اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ اپنے عہدے کی مدت میں توسیع بھی قبول نہیں کرینگے اور باضابطہ طور پہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اس بیان سے ان تمام قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے کہ جو انکے منصب میں توسیع کے حوالے سے ہر طرف گردش میں تھیں ،،، پاکستانی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک معمولی بات نہیں ،، گو اس سے قبل جنرل اسلم بیگ اور وحید کاکڑ بھی اپنے اپنے وقت پہ سبکدوش ہوگئے تھے اور جہانگیر کرامت نے تو وزیراعظم نواز شریف سے ایک ممکنہ تنازع سے بچنے کیلیئے وقت سے تین ماہ پہلے ہی گھر چلے جانے کو از خود ترجیح دیکر سب کو حیران کردیا تھا ،،، لیکن پھر بھی یہ بہت بڑا فیصلہ ہے کیونکہ بدقسمتی سے یہ روایت ہمارے وطن میں مستحکم نہیں ہے اور 4 آرمی چیفس نے تو وقت پہ ریٹائرمنٹ تو دور ، آئینی حکومتوں کا بستر بوریا گول کرکے اور راج پاٹ سنبھال کر اپنی مدت ملازمت کا ٹنٹا ہی ختم کردیا تھا اوپر بیان کردہ پاکستانی تاریخ کے حقائق کی روشنی میں آرمی کے سربراہ کا منصب اس لیئے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی مدت ملازمت کو بڑھانے یا نہ بڑھانے کے معاملے کی جانب سارے ملک کی نظریں لگی رہتی ہیں جبکہ چند چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر دنیا بھر میں یہ بڑی عام سی بات ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں تو بالخصوص اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں کہ کسی آئینی عہدیدار کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے جبکہ وہاں فوجی سربراہان کو تو حالت جنگ میں بھی سبکدوش اور تبدیل کیئے جانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔۔۔ حتیٰ کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہ چلن مطلق نہیں ہے - تاہم ایک بات یہ بھی ہوئی ہے کہ چند لوگوں کو جنرل راحیل کے اس بیان سے بہت طمانیت نصیب ہوئی جن میں سابق صدر آصف زرداری کا نام سب سے نمایاں ہے کیونکہ فوج کی جانب سے رینجرز کے جاری آپریشن میں کرپشن کے معاملات کی چھان بین پہ وہ شدید برہم بتائے جاتے تھے اور اس ضمن انکی گھبراہٹ اور پریشانی کا عالم یہ تھا کہ 4 اپریل کو بھٹو کی برسی کے موقع پہ انہوں نے گڑھی خدا بخش میں اپنے خطاب میں ایک انتہائی جارحانہ تقریر کی تھی جس میں کھل کھلا کر فوج کے سربراہ کو موضوع سخن بناتے ہوئے بہت سے طنزیہ و تنقیدی کلمات کہ ڈالے تھے اور یہ بالالتزام یہ بھی فرمایا تھا کہ ہمیں تو ہمیشہ رہنا ہے اور آپکو چلے جانا ہے ،،، اس پہ فوج کی جانب سے بہت نپا تلا ردعمل دیکھنے میں آیا لیکن زرداری صاحب ممکنہ شدید خطرات کو بھانپ کر دبئی میں جابیٹھے اور پارٹی رہنماؤں کے اجلاس بھی وہیں منعقد کررہے ہیں جس سے اب انکی اخلاقی جرآت اور سیاسی بصیرت پہ متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں جہانتک دیگر سیاسی رہنماؤں کا تعلق ہے تو تقریباً سبھی نے راحیل شریف کے اس بیان کا خیرمقدم کیا اور اسے بہت خوش آئند فیصلہ قرار دیا ہے اور بظاہر یہ اطمینان اصول و قانون کے پہلو سے کم اور ایک ممکنہ مارشل لا کے وسوسوں کے معدوم ہوجانے کے لحاظ سے زیادہ نسبت رکھتا ہے ،،، جنرل صاحب کے اس بیان سے درحقیقت اندر خانے وزیراعظم کو بھی بہت سکون ملا ہے کیونکہ ملک کے اندر اور باہر ہر طرف جنرل صاحب کے اچھے اقدامات کی جے جے کار اور اسکے ممکنہ نتائج سے وابستہ خدشات نے انہیں یقینی طور پہ حد درجہ مضطرب کررکھا تھا اور اب اس فیصلے سے انکے سر پہ مبینہ طور پہ خطرے کی لٹکتی ہوئی تلوار کا نیام میں جانا خاصی حد تک یقینی ہوگیا ہے - تاہم چند محب وطن افراد کے نزدیک یہاًں اس معاملے سے جڑا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ ایک تشویش پہ مبنی ہے جو کہ خاصی غور طلب ہے اور وہ یہ ہے کہ جنرل صاحب نے قریباً ایک سال قبل ہی اپنی سبکدوشی کا جوواضح عندیہ دیدیا ہے تو کہیں اس سے دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں کمزوری نہ آجائے کیونکہ بدقسمتی سے یہ اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آپریشن سے جڑے ارباب اختیار تاخیری حربوں کی راہ نہ اختیار کرلیں اور نئے آرمی چیف کی تقرری تک ، مبادا معاملات کو لٹکا کر وقت گزاری کی طرف مائل نہ ہوجائیں - پاکستان میں روایتی طور پہ بیوروکریسی کا طرزعمل ڈھلتے سورج کی طرف پشت کرنے اور چڑھتے سورج کی پوجا کا ہی چلا آرہا ہے اور یہی طبقہ پاکستان کے حقیقی حکمرانوں کا طبقہ ہے -ان برسر زمین حقائق کی روشنی میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی سے ملازمت میں توسیع نہ لینے کا یہ فیصلہ خاصا قبل از وقت ہے ۔۔۔ لیکن بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہوگیا ،،،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نشاندہی کیئے گئے خدشات کی جانب بھی بھرپور توجہ دی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ جنرل راحیل کے اس اعلان کے بعد دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن میں کسی طرح کی کمزوری آنے کے امکان کو یکسر ختم کردیا جائے اور میڈیا و سول سوسائٹی اب سے حکومت اور بیوروکریسی پہ سخت احتسابی و تادیبی نظر رکھیں ورنہ جنرل صاحب کا یہ احسن فیصلہ خدانخواستہ اچھے برگ و بار لانے کا سبب نہیں بن سکے گا-
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.