دو بوند آنسو
دو بوند انسو یا دو قطرے پانی پیاس تو دل کی جو انکھوں سے ٹپک جائے یہ قطرہ قطرہ دل پر گریں تو دامن بھگو دیں کسی کا دامن گیلا خوشیوں سے اور کسی کی زمیں پھر بھی پیاسی صدیوں سے
انسان ہمیشہ اپنے دل کی قیمت ادا کرتا دوسروں کے لیے بہائے گئے آنسو سمندر میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتے اور اپنے لیے تنہائی میں بہائے گئے آنسو اپنی قیمت وصول کرنا جانتے بہت مہنگا سودا کرتا انسان ہر بوند انسان کے دل پر گرتی شاید خسارہ ہی اس کا مقدر انکھیں خالی ہوں یا پانی کی بوندوں سے بھری خالی دل کا پتہ دیتیں ہر در پر دستک دیتی ہوئی یہ آنکھیں ان لمحوں کا پتہ پوچھتیں جو دامن میں آنسو پرو گئے
بوند بوند گرتا ہر آنسو اس بات کا خاموش گواہ کہ ٹوٹا ہے انساں کہیں اندر سے وہ یہ پیغام دے رہا کہ.تو خود کو اپنی غلامی سے نہیں نکال سکا کیوں بیچ رہا خود کو خواہشوں کے بازار میں اپنی خواہشوں کو اپنے انسووں کے حوالے نہ کر اس کی قیمت خود تیرا وجود ادا کر رہا تو یہ جال بنتا ہی کیوں ہے ان لکیروں کے جال میں خود کو تلاش کر مٹی کا بنا ہے مت کھیل پانی سے
یہ آنسو عشق میں سفیر کا کام بھی کرتے ان انسووں کی کوئی زباں نہیں لیکن یہ ہر دل پر دستک دیتے اور آینہ دل کو شفاف کرتے اور دل کا بوجھ ہلکا کرتے یہ بے اختیار بھی یہ بے وفا بھی اپنے ہی ٹھکانے سے وفا نہیں کرتے لمحہ بھر کو بھی انکھوں میں نہیں رکتے فکر نہیں اپنے انجام کی دھول میں مل جائیں یا سیپ میں موتی بن جائیں پر اپنی زات کو پگھلا رہے قطرہ قطرہ بن کر
-
entries
159 -
comments
345 -
views
75,655
0

1 Comment
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now