Jump to content
  • entries
    159
  • comments
    345
  • views
    75,655

Do bond Ansoo


دو بوند آنسو
دو بوند انسو یا دو قطرے پانی پیاس تو دل کی جو انکھوں سے ٹپک جائے یہ قطرہ قطرہ دل پر گریں تو دامن بھگو دیں کسی کا دامن گیلا خوشیوں سے اور کسی کی زمیں پھر بھی پیاسی صدیوں سے 
انسان ہمیشہ اپنے دل کی قیمت ادا کرتا دوسروں کے لیے بہائے گئے آنسو سمندر میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتے اور اپنے لیے تنہائی میں بہائے گئے آنسو اپنی قیمت وصول کرنا جانتے بہت مہنگا سودا کرتا انسان ہر بوند انسان کے دل پر گرتی شاید خسارہ ہی اس کا مقدر انکھیں خالی ہوں یا پانی کی بوندوں سے بھری خالی دل کا پتہ دیتیں ہر در پر دستک دیتی ہوئی یہ آنکھیں ان لمحوں کا پتہ پوچھتیں جو دامن میں آنسو پرو گئے 
بوند بوند گرتا ہر آنسو اس بات کا خاموش گواہ کہ ٹوٹا ہے انساں کہیں اندر سے وہ یہ پیغام دے رہا کہ.تو خود کو اپنی غلامی سے نہیں نکال سکا کیوں بیچ رہا خود کو خواہشوں کے بازار میں اپنی خواہشوں کو اپنے انسووں کے حوالے نہ کر اس کی قیمت خود تیرا وجود ادا کر رہا تو یہ جال بنتا ہی کیوں ہے ان لکیروں کے جال میں خود کو تلاش کر مٹی کا بنا ہے مت کھیل پانی سے 
یہ آنسو عشق میں سفیر کا کام بھی کرتے ان انسووں کی کوئی زباں نہیں لیکن یہ ہر دل پر دستک دیتے اور آینہ دل کو شفاف کرتے اور دل کا بوجھ ہلکا کرتے یہ بے اختیار بھی یہ بے وفا بھی اپنے ہی ٹھکانے سے وفا نہیں کرتے لمحہ بھر کو بھی انکھوں میں نہیں رکتے فکر نہیں اپنے انجام کی دھول میں مل جائیں یا سیپ میں موتی بن جائیں پر اپنی زات کو پگھلا رہے قطرہ قطرہ بن کر

Screenshot_20180418_162408.png

1 Comment


Recommended Comments

waqas dar

Posted

nice sharing :)  (up) 

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.