۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ تیل پیدا کرنے والے ملک لرز اٹھے ہیں انکی معیشتیں کانپ رہی ہیں کیونکہ انکا سیال سونا یعنی تیل تیزی سے اپنی قدرو قیمت کھوتا جا رہا ہے کبھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بِکنے والا تیل اب 30 ڈالر میں دستیاب ہے جو کہ گزشتہ 12 برس کی سب سے کمترین قیمتوں کی بازگشت ہے ،،، یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ یہی رجحان جاری رہا تو چند ہی ہفتوں میں ایک بیرل تیل 20 ڈالر میں دستیاب ہوگا ۔۔۔ کیونکہ تیل سستا ہونے کی وجہ سے مال بردار جہازوں کے کرائے بھی کم ہوتے چلے جارہے ہیں اسلیئے شپنگ انڈسٹری بھی شدید دباؤ میں آچکی ہے اور ابتک تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مال برداری کے کرایوں میں 40 فیصد سے زائد کمی آچکی ہے اور اس وجہ سے ان دنوں دنیا بھر میں سستے درآمدی اجناس اشیاء اور خام مال کی بہاریں لگی ہوئی ہیں اور اسی سبب درآمدی خام مال اور ان سے بننے والی اشیاء کی قیمتوں میں گراوٹ بھی مسلسل جاری ہے - یہ تو سب مگر دنیا کے دیگر ممالک میں ہورہا ہے لیکن جہانتک پاکستان کا معاملہ ہے تو یہاں ایسا کچھ بھی نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہماری درآمدات ہماری برآمدات کی نسبت بہت زیادہ ہیں اب یہی مثال لے لیجیئے کہ خوردنی تیل کی سب سے زیادہ پیداوار ملائیشیا میں ہے اور وہاں سے جو بھی ممالک خوردنی تیل منگواتےہیں وہاں کرائے کم ہونے کے باعث خوردنی تیل کی قیمتیں کافی نیچے آچکی ہیں لیکن پاکستان میں خوردنی تیل کا نرخنامہ اب بھی جوں کا توں ہے اور اس کام سے منسلک صنعتکار عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہیں اور ایسا ہی دیگر برآمدات سے جڑی صنعتوں کا معاملہ ہے اور ایسا صرف اسلیئے ہے کیونکہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے گو کہنے کو یہاں پرائس کمیشن بھی ہے کنزیومر کونسل بھی ہے ہر صوبے کے وزیراعلیٰ کے زیرانتظام ایک نام نہاد شکایتی مرکز یا کمپلینٹ سیل بھی قائم ہے لیکن یہ محض نمائشی معاملات ہیں عملی طور پہ عوام کے درد کا مداوا کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور وہ بدحال سے بدحال تر اور صنعتکار خوشحال سے خوشحال تر ہوتے چلے جارہے ہیں لیکن اس گرانی کی سرگرانی کے عالم میں بھی ہمارے محترم وزیراعظم کی غفلت اور عام آدمی کے حالات سے بیخبری کا یہ عالم ہے کہ ایک بیان میں انہوں نے آلو کی قیمت پانچ روپے فی کلو بتا ڈالی ،،، لیکن وہ جگہ نہ بتائی کہ جہاں اس ارزاں ترین قیمت پہ آلو دستیاب ہے ،،، یہ ٹھیک ہے کہ ان دنوں آلو کی قیمتیں کم ہوکر 20 سے 30 روپے کلو کے آس پاس ہیں لیکن 5 روپے تو کہیں بھی نہیں ہیں - یہاں یہ بھی واضح کردیا جانا ضروری ہے کہ غذائی اجناس میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ تو معمول کی بات ہے کیونکہ نئی فصل آتے ہی رسد اور طلب کا تناسب بدل جاتا ہے اور چونکہ یہ اشیاء زیادہ دیر محفوظ بھی نہیں کی جاسکتیں لہٰذا انکی قیمتوں پر اسٹاک کی صورتحال کا فوری اور براہ راست اثر پڑتا ہے لیکن کسی ملک میں قیمتوں پہ حکومتی کنٹرول کو ان اشیاء کے حوالے سے جانچا جاتا ہے کہ جنہیں طویل عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے کہ انکی ذخیرہ اندوزی کو حکومت کیسے روکتی ہے اور ناجائز منافع خوری کے امکانات کا انسداد کیسے کرتی ہے اور اس حوالے سے ہماری مرکزی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی نہایت مایوس کن ہے بلکہ مطلق مفقود ہے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو ملنے کے بجائے برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور حکومت کو مل رہا ہے اور مہنگائی میں کوئی خاص کمی ابتک دیکھنے میں نہیں آئی اور اب بھی عوام کی اکثریت کو حسب سابق مہنگائی کی عفریت نے اپنے دیوہیکل شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ بدستور مفلسی و بدحالی کی مہیب آگ میں جل رہے ہیں لیکن انکا پرسان حال کوئی نہیں ،،، اس معاملے میں تو لگتا ہے کہ اپوزیشن نے بھی حکومت اور سرمایہ داروں سے مک مکا کرلیا ہے کیونکہ وہ بھی زبانی جمع خرچ سے آگے کچھ کرنے پہ آمادہ دکھائی نہیں دیتی ،،، یقین کامل ہے کہ نیلی چھتری والا اپنی مخلوق کو بے آسرا نہیں چھوڑے گا اور ان لوگوں پہ زمین تنگ کردی جائیگی کہ جو اسکی بہترین تخلیق یعنی انسان کا جینا دوبھر کررہے ہیں اور انکی کی زندگیوں سے دن رات آسائشیں اور راحتیں چھین چھین کر اپنے گھروں اور زندگیوں میں بھررہے ہیں
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now