Aurat
اگر بزمِ ہستی میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی
ستاروں کے دلکش فسانے نہ ہوتے
بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی
جبینوں پہ نورِ مسرت نہ کھلتا
نگاہوں میں شانِ مروّت نہ ہوتی
گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے
فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی
فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ہوتا
عطا زاہدوں کو عبادت نہ ہوتی
مسافر سدا منزلوں پر بھٹکتے
سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی
ہر اِک پھول کا رنگ پھیکا سا رہتا
نسمِ بہاراں میں نکہت نہ ہوتی
خدائی

2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.