تسلسل ٹوٹ جائے گا
نہ چھیڑو کھِلتی کلیوں، ہنستے پھُولوں کو
اِن اُڑتی تتِلیوں ، آوارہ بھونروں کو
تسلسل ٹُوٹ جائے گا
فضا محوِ سماعت ہے
حسیں ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو
نگاہیں نیچی رکھو اور مجّسم گوش بن جاؤ
اگر جُنبش لبوں کو دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا
وہ خوابیدہ ہے، خوابیدہ ہی رہنے دو
نہ جانے خواب میں کِن وادیوں کی سیر کرتی ہو
بلندی سے پھسلتے آبشاروں میں کہیں گم ہو
فلک آثار چوٹی پر کہیں محوِ ترنم ہو
اگر آواز دی تم نے
تسلسل ٹوٹ جائے گا
میں شاعر ہوں
مری فکرِ رسا، احساس کی اُس سطح پر ہے
جس میں خُوشبو رنگ بنتی ہے
صدا کو شکل ملتی ہے
تصّور بول اٹھتا ہے
خموشی گنگناتی ہے
یہ وہ وقفہ ہے۔۔۔ ۔۔ ایسے میں
اگر دادِ سخن بھی دی
تسلسل ٹوٹ جائے گا
-
entries
18 -
comments
28 -
views
3,454
3
1 Comment
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now