Khursheed Rizvi
2 topics in this forum
-
- 0 replies
- 1.4k views
سحرِ آئینہ کچھ ایسا ہے کہ ڈر پیدا ہو بول کچھ بول کہ دیوار میں در پیدا ہو پھر وہی سلسلہء نقشِ قدم دکھلا دے چشمکِ برقِ رواں، بارِ دگر پیدا ہو دل وہ پاگل ہے کہ ہو جائے گا غرقاب وہیں جھیل کی تہہ میں اگر عکسِ قمر پیدا ہو حسن ہے حسن وہی جس کے مقابل آ کر دیدہء کور میں بھی تارِ نظر پیدا ہو ہم نمائش کے تو قائل نہیں لیکن خورشید خود کو پنہاں بھی زمانے سے نہ کر، پیدا ہو !!!خورشيد رضوی
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 1.6k views
گھول جا دن بھر کا حاصل اس دلِ بے تاب میں ڈوب جا، اے ڈوبتے سورج مرے اعصاب میں ,, آنکھ میں ہر لحظہ تصویریں رواں رہنے لگیں جم گیا ہے خواب سا اک دیدۂ بے خواب میں ,, دل ہمارا شاخساروں سے، گلوں سے کم نہیں اے صبا کی موجِ لرزاں، کچھ ہمارے باب میں ,, ہاں اسی تدبیر سے شاید بنے تصویرِ دل رنگ ہم نے آج کچھ گھولے تو ہیں سیماب میں ,, دھیان بھی تیرا تری موجودگی سے کم نہ تھا کنجِ خلوت میں بھی ہم جکڑے رہے آداب میں ,, دسترس ہے موج کی ساحل سے ساحل تک فقط تہ کو جا پہنچے اگر اترے کوئی گرداب میں ,, پیشِ دل کچھ اور ہے پیشِ نظر کچھ اور ہے ہم کھلی آنکھوں سے کیا کیا دیکھتے ہیں خواب میں خورشيد رضوی
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
