یہ صاحب فوراً سندھ روانہ ہوگئے اور جیسے ہی اس گاؤں کے باہر پہنچے تو دور سے ایک آگ کا دہکتاالاؤ لگا ہوا دکھائی دیا۔ انہوں نے بزرگوں کی بتائی ہوئی نشانی دیکھ کر اس کی طرف بڑھنا شروع کیا‘ دور سے دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی آگ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور اردگرد اس کے ماننے والوں کا جمگٹھا ہے۔ ابھی ایک ایکڑ دور تھے کہ وہ شخص اچھل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے چلانے لگا کہ وہ دیکھو آگیا‘ جادو کا ڈسا… وہ آگیا قرآن پڑھانے والا… یہ اس کے پاس پہنچے اور اپنا مقصد بتایا۔ اب خبیث العین خوشی سے پاگلوں کی طرح ناچنے لگا اور بولا جاؤ فلاں کے پاس… جاؤ فلاں کے پاس… یہ گرہ جولگی ہے کھلواؤ اپنے مولویوں سے… غرض اس نے مولوی صاحبان کے ساتھ ساتھ ان صاحب کو بھی برا بھلا کہا اور بڑے بڑے خدائی کے دعوے بھی کیے اور جادو توڑنے سے انکار کردیا۔
یہ صاحب واپس آئے اور اپنے رب کو پکارا کہ یااللہ! یہ بھی مخلوق ہے تو چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا‘ یہ ظالم مجھ پر غالب آگئے ہیں اور ظلم کرنے سے باز نہیں آرہے اور رو رو کے اللہ کے حضور التجائیں کیں۔ دفعتاً دل میں القا ہوا کہ جادو کا توڑ تو آقا ﷺ نے معوذتین سے کیا تھا اور جادو بھی انتہائی سخت بلکہ آخری درجے کا تھا جب آقاﷺ نے معوذتین سے یہ جادو توڑا تو میں بھی معوذتین ہی پڑھتا ہوں۔
اب انہوں نے اللہ کا نام لیا اور اسی رات سے باوضو ہوکر مسجد میں جاکر معوذتین اس جادو کی توڑ کی نیت سے پڑھنی شروع کی۔ یہ پوری رات پڑھتے رہے اور وقتاً فوقتاً دن کو بھی ورد چلتا رہتا ہر وقت باوضو رہنے لگے‘ غالباً چھٹے دن رات کو اونگھ آگئی اور اچانک خون کی پوری بالٹی ان کے اوپر جیسے کسی نے گرا دی ہو۔ یہ بہت پریشان ہوئے اٹھے مسجد کے ساتھ ہی کنواں تھا وہاں نہائے دھوئے اور کپڑے بھی پاک کیے‘ مسجد دھوئی۔ اب سوچا بی بی کی بھی خبر لوں‘ گھر پہنچے تو وہاں بھی یہی حال تھا اور بیوی انتہائی پریشان تھی۔ بیوی کو دلاسہ دیا اور فرمانے لگے کہ بھلی مانس اب کچھ ہلچل ہوگئی ہے‘ انشاء اللہ اب کام بن جائے گا۔
ایک نئے ولولے سے اسی رات سے پھر دوبارہ مسجد میں عمل شروع کردیا نویں دن پھر وہی ہوا اونگھ آئی اور دونوں میاں بیوی پر خون کی بالٹی گرادی گئی۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پڑھنا جاری رکھا۔ تیرہویں دن صبح کے وقت وہی سندھ والا خبیث العین مسجد میں داخل ہوا اور آتے ہی پیروں میں گر کے معافیاں مانگنے لگا۔ ان صاحب نے اسے بولا کہ تو مجھ سے کیوں معافیاں مانگ رہا ہے؟ کہنے لگا کہ اللہ کے واسطے مجھے معاف کردیجئے‘ پھر بتاؤں گا۔ انہوں نے معاف کردیا اور وجہ پوچھی۔ کہنے لگا کہ آپ میاں بیوی پر جادو میں نے کیا تھا جب آپ مسجد میں عمل کرنے بیٹھے تومیں بھی آپ کے مقابلے پر بیٹھ گیا اور روزانہ میرا کیا ہوا جادو مجھ پر ہی الٹا چلنے لگا اور میرے مؤکل میرے دشمن ہوگئے۔ یہ صاحب فرمانے لگے کہ اگر یہ بات تو نے مجھے پہلے بتا دی ہوتی تو تجھے میں کبھی معاف نہ کرتا۔ بہرحال یہ جادوگر معافی مانگ کر اپنی جان بچا کر واپس سندھ لوٹ گیا۔ کیونکہ اگر وہ معافی نہ مانگتا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا مگر جادوگر کی صلح کا اعتبار بھی نہ کیا اور اکتالیس دن مسلسل عمل کرتے رہے اس کے بعد اللہ نے ان کو نرینہ صحت مند اولاد سے نوازا اور دو سے زائد بیٹے عطا فرمائے اور بندش ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گئی۔
جادو کا حتمی علاج
قرآن پاک کی آخری دو سورتیں جنہیں معوز تین کہا جاتا ہے
سحر کے علاج میں مغز کی حثیت رکھتی ہیں -
یعنی سورہ فلق اور سورہ والناس -
انہیں گیارہ گیارہ مرتبہ صبح و شام پڑھنا چاہئے اور بچوں پر پڑھ کر دم کرنا چاہئے - یہ بے نظیر و بے مثال عمل ہے -
انہیں آیات کے پڑھنے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سحر سے شفاء ملی -
- Read more...
- 2 comments
- 1,993 views
