👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Uzee Khan

🌟 LEGACY MEMBER
  • Posts

    190
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    6

Blog Entries posted by Uzee Khan

  1. Uzee Khan
    ...سُپر ہیروز
    .آپ نے اکثر ہالی ووڈ موویز میں دیکھا ہو گا کے
     super hero 
    .... جیسے سپائیڈر مین اور سُپر مین
    .... شہر کی اُنچی اُنچی عمارتوں کے چھتوں پر بیٹھے ہوتے ہیں. اور ان کی نظر پورے شہر پر ہوتی ہے
     ..... جیسے ہی کہیں جرم ہوتا ہے یاں ہونے لگتا ہے وہاں فوراً پہنچ جاتے ہیں
    بلکل اسی طرح
     facebook 
    کے شہر میں بہت سے 
      super heros  
      ....بڑے بڑے گروپس کے چھتو ں پر بیٹھے ہوتے ہیں اور تگڑی نظر رکھتے ہیں
    بس جہاں کسی محترمہ نے 
     post 
      ...کی اور وہاں محترم پہنچ گئے 
     

  2. Uzee Khan
    آج پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ دیکهنے بیٹهی ، حسب ِ سابق آغاز دعاوں سے هوا ..اور انجام بتدریج صلواتوں اور کوسنوں پر....... غصے کے گراف کے مطابق چند ایک غیر پارلیمانی " شبد وں " سے بهی نوازا ٹیم کو ..... هماری ٹیم بڑے اطمینان سے اپنی گهٹیا پرفارمنس دکها کر بلے لہراتی واپس آچکی تهی .... هاتهہ میں پکڑے ریموٹ کنٹرول کو دیکهہ کر حسرت سے سوچا " کاش یه " ڈورن کنٹرول " هوتا " 
    ابهی ٹیم کی شان میں ایک هلکا پهلکا مغلظاتی قصیده جاری تها که خاله رشیده کی آمد هوئی ، آج بڑے دنوں بعد انکی تشریف آوری هوئی مگر میچ کی ذلالت کے باعث خاله کا استقبال روایتی گرمجوشی سے نه کر سکی .....
    خاله نے ایک نظر ٹی وی سکرین پر ڈالی اور دوسری میرے لٹکے هوئے چہرے پر اور سارا معامله سمجهہ گئیں اور پهر گویا هوئیں .....اے لڑکی ! کیوں اپنا " وخت " برباد کرتی هے ان موئے گیند کے پیچهے دوڑنے والوں پر.....ان سے کچهہ نہیں هونے والا اب .....نکمے هو چکے سب کے سب ! 
    "وه تو هم سب کو پتا چل گیا هے که نکمے هیں سب مگر اس کا کوئی حل بهی تو هونا چاهیے نا خاله ! آخر هم لوگ کسی زمانے میں کرکٹ کے چیمپئین رهے هیں اب اپنی کرکٹ کی یه حالت دیکهہ کر شرمندگی هوتی هے "میں نے گویا خاله کو اس قومی مسئلے پر اظہار خیال کی دعوت دی !
    خاله نے اپنے گول شیشوں والی عینک کو ناک پر سلائیڈنگ کرنے سے روک کر آنکهوں کے قریب فکس کیا اور کرکٹ کے درخشاں مستقبل کے لیے اپنے حکیمانه مشوروں کی پٹاری کهولنے کا عندیه دینے سے پہلے چائے میں بسکٹ ڈبو کر حلق برد کیا اور پهر گویا هوئیں ...
    اس پوری کرکٹ ٹیم پر پیسه اور محنت ضایع کرنے کے بجائے " عبقری " پڑهنے پر لگایا جائے ! دنیا کا کونسا مسئله هے جو عبقری نے حل نہیں کیا ؟ .....اے میں کہتی هوں اس میں لکهے هوئے نسخوں اور وظیفوں پر عمل کر تو دیکهو .... ٹیم کے لڑکوں کو پویلین میں جانے سے پہلے ناف پر سرسوں کا تیل لگایا جائے ایسی کمال کی فٹنس حاصل هوگی که دنیا عش عش کر اٹهے گی ..... پچ پر کلونجی ملے پانی کو دم کر کے چهڑک دو ....مخالف ٹیم کے کهلاڑی ایسے آوٹ هو کر واپس جائیں گے جیسے لوگ کهانے کے بعد بارات سے ...... اپنی باری پر، گیند پر کیلے کے چهلکے کا لیپ کر کے آگ پر سکها لو پهر دیکهو کیسے پهسل پهسل کر باونڈری کے پار جاتی هے .... چهکے لگانے کا شوق هو تو گیند میں سہاگے کا ایک توله سفوف چپکے سے بهر دو گیند سونے په سہاگے کا کام کرنے لگے گی ..... کیچ پکڑنے میں ان کم بختوں کے هاتهوں کو جو رعشے کی بیماری لاحق هو جاتی هے اس کے لیے ایلو ویرا کی لئی میں لسوڑهے اور بهنڈی کی لیس ملا کر انکے هاتهوں پر مَل دو گیند هاتهوں سے چهڑانی مشکل هو جائے گی .... اور یه آفریدی هے نا ! اگر اس کو نیلا تهوتها اور مرده سنگ هموزن لیکر کسی گهٹیا سے سیرپ میں ملا کر پلادو تو اس کلموہے کو " آئی تهنک ، آئی تهنک " کہنے کی بیماری سے نجات مل جائے گی ....
    خاله کا " حکمت نامه "جاری تها مگر میرے پندره طبق روشن هو چکے تهے .... خاله کو مچهلی کا سوپ آفر کر کے میں نے وهاں سے کهسکنے میں هی عافیت سمجهی !
    تو صاحبو ! صلاح ِ عام هے یاران ِ کرکٹ داں کے لیے 
    خاله کے بتائے هوئے نسخوں پر ٹیم کو عمل کرنا چاهیے که نہیں ؟ 
    !
    تحریر سیما جی
  3. Uzee Khan
    گدھا ایک مُفید جانور ہے! بڑا صابر شاکر اور وفادار۔ لیکن حالیہ دنوں میں اس قدیمی جانور کی ایک اضافی خوبی سامنے آئی ہے کہ یہ مشقت طلب کام کے علاوہ لذّتِ کام و دہن فراہم کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان دنوں گدھے نے سواری اور باربرداری کی ازلی ذمہ داریوں سے ترقی کرتے ہوئے جس طرح ہمارے دستر خوانوں تک رسائی حاصل کی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ Beast of burden سے Feast of urban تک رسائی قابل تعریف ہونے کے علاوہ اس قبیل کے دیگر جانوروں کے لئے قابلِ تقلید بھی ہے۔گدھے کی زندگی میں یہ ’’ عُروج ‘‘ پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے۔ورنہ اس سے پہلے اسے ہمارے معاشرے میں جو ’ پزیرائی ‘ حاصل تھی اُسے کوئی گدھا ہی برداشت کر سکتا تھا۔رپورٹ کے مطابق ہمارے شہر میں کئی جگہوں پر گدھے کا گوشت پکڑا گیا ہے جومارکیٹ اور ہوٹلوں کو سپلائی کیا جاتا تھا۔چنانچہ وہ خوش خوراک چٹخورے جو جگہ جگہ سے نہاریاں ، سری پائے اور کوفتے کباب کھانے کے شوقین ہیں ، گمانِ غالب رکھیں کہ کسی نہ کسی دستر خوان پر اُنہیں اس شریف جانور سے ضرور واسطہ پڑا ہو گا۔ذاتی طور پر ہمیں خود تو ایسی گوشت خوری کا کوئی First hand تجربہ نہیں ہے ( اور یہ یقیناًہماری خوش فہمی بھی ہو سکتی ہے ) لیکن بیرونِ ملک کئی ایسے دوستوں سے ہمارا قریبی واسطہ رہا جن کی مرغوب غذاؤں میں سے ایک متذکرہ گوشت بھی تھا۔وہ اس کی لذت کے گُن گایا کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیں اس کے مختلف حصوں کے ذائقے اور فائدے بتائے ۔ان کے مطابق گدھے کے بعض حِصے ایسے ہیں جن کا ذائقہ زمین پر چلنے والے کسی بھی جانور سے زیادہ مذیدار ہوتا ہے۔ البتہ ، ان حِصوں کا نام نہیں بتایا گیا ! ہم جب اُن سے کہتے کہ اُنہیں گھِن نہیں آتی ؟ تو وہ یوں مسکراتے جیسے کہہ رہے ہوں، ’’ ہائے کم بخت ! تو نے پی ہی نہیں ‘‘۔یہیں سے ہمیں اندازہ ہوا کہ’ غوتا خوری ‘ ہو یا ’’کھوتا خوری ‘‘ ، مُشکل صرف آغاز میں ہی ہوتی ہے۔
    اک زمانہ تھا کہ گدھے صرف کُمہاروں کے ہاں پائے جاتے تھے ، اب تو خیر! یہ کسی بھی جگہ مل سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں گدھوں کی تعداد چار سے پانچ کروڑ تک ہے۔سب سے زیادہ ان کی تعداد چین میں ہے اور اس لحاظ سے پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔گدھوں کی مختلف اقسام ہیں ! ہمارے ہاں جو گدھے پائے جاتے ہیں عمومی لحاظ سے اُن کی دو اقسام ہیں۔ایک وہ جنہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ گدھے ہیں اور دوسری وہ قسم ہے جنہیں بتانا پڑتاہے کہ تُم بھی گدھے ہی ہو۔ اس دوسری قسم کی تعداد کے لحاظ سے ہم دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں۔ گدھے سوچ بچار کے شوقین بھی ہوتے ہیں!! اکثر اوقات آپ نے کسی گدھے کو سڑک کنارے ، سر نیہوڑائے، عالمِ آب و گِل سے بے خبر گہرے غورو خوض میں مشغول دیکھا ہو گا۔ ہمارے لئے ان کی یہ کیفیت ہمیشہ حیرت و عبرت کا باعث ہی رہی !! یعنی اس قدر محویت ، استغراق اور گیان دھیان کے بعدبھی آپ گدھے ہی رہیں توایسی مشق سے کنارا ہی بھلا !!
    بارے گدھوں کا ذکر ہو رہا ہے تو ہمیں سکول وقت کے ایک کلاس فیلو بے طرح یاد آ رہے ہیں۔آپ حلیتاً، خصلتاً ، کلیتاً گدھے واقع ہوئے تھے۔ موصوف کا اصلی نام تو ،بخدا ، ہمیں تب معلوم تھا نہ اب یاد ہے بس انہیں ہمیشہ اسی جانور کے نام سے لکھا اور پُکارا گیا جس کا تذکرہ آج یہاں ہو رہا ہے ۔ گھر سے لے کر سکول تک، ہر جگہ یہی نِک نیم ہی اُن کی اصل پہچان تھی، یہاں تک کہ جب بھی کبھی کسی نے اُن کو اصلی نام سے پُکارا تو اُسے مایوسی ہوئی کہ وہ سُن کر نہیں دیتے تھے۔ اس جانور کی جُملہ خوبیاں و خصائص بدرجہء کمال آپ میں موجود تھیں۔ایسے اعلیٰ ’’ گدھائی اوصاف ‘‘ تو شاید کسی ایک گدھے میں بھی مجتمع نا ہوں! خصائص جو کسی بھی اعلیٰ ذوق کے حامل گدھے کے لئے قابلِ رشک ہو سکتے تھے ۔بس ’’ ڈھینچو۔ ڈھینچو کی کمی تھی جو اُن کے قدرے اونچا بولنے سے پوری ہو جاتی۔۔ایک روز ایک بالکل نئے اُستاد کلاس میں آئے تو ہم نے سوچا کہ چلو اب موصوف کا اصل نام سننے کو ملے گا۔لیکن ابھی تعارف ہی چل رہا تھا کہ آپ کی حماری خوبیاں یوں منکشف ہوئیں کہ نئے اُستاد کی زبان پر بھی خود بخود اُن کا نِک نیم جاری ہو گیا۔ ہم عملِ تناسخ کے قائل نہیں ورنہ ان کے پہلے جنم کے بارے میں وہی گُمان کرتے جو اس وقت آپ کر رہے ہیں۔
    گدھے بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن شاید اُن کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اُٹھایا گیا۔۔بلکہ کئی دفعہ ہم نے انہیں بیچ چوراہے میں کھڑے پورے زعم کے ساتھ بھر پور احتجاج کرتے پایا جیسے کہہ رہے ہوں کہ اُن کی صلاحیتوں سے کما حقہُ استفادہ نہیں کیا جا رہا۔ایسے میں اُن کا جوش و ولولہ اُن کے اس دعوے کی واقعی تائید کرتا بھی نظر آتا ہے۔۔ہمارے نزدیک گدھے کی سب سے بڑی خوبی اُس کا گدھا ہونا ہے۔اکثر گدھے بالکل ہی گدھے ہوتے ہیں۔ ہم نے گدھوں سے بڑھ کر اسمِ بامسمیٰ کسی کو نہیں پایا۔بس ! ایک دم گدھے۔۔کاش ایسی خوبی ہم انسانوں میں بھی ہوتی! یعنی اسمِ با مسمیٰ ہونا۔۔کاش ہم انسان ہوتے۔بس ایک دم انسان !!
    اب تو فرشتے بستے ہیں اس دیس میں ۔۔۔۔۔۔کبھی یہاں انساں ہوا کرتے تھے !
    -------------------
    ناصر محمود ملک
     
     

  4. Uzee Khan
    یہ ایک عجیب بات ہے کہ نیکی میں جتنی اکتاہٹ ہے ،بدی میں اتنی ہی رغبت ہے- عالم،عالم کو دیکھ کر،شاعر ،شاعر کو دیکھ کر ،سادھو، سادھو کو دیکھ کر جلتا ہے- ایک دوسرے کی صورت نہیں دیکھنا چاہتا- مگر جواری ،جواری کو دیکھ کر ،شرابی ،شرابی کو دیکھ کر ، چور ،چور کو دیکھ کر ہمدردی جتاتا ہے-اور مدد کرتا ہے- ایک پنڈت جی اگر اندھیرے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑیں تو دوسرے پنڈت جی انہیں اٹھانے کے بجائے دو ٹھوکریں اور لگائیں گے تا کہ وہ پھر اٹھ ہی نہ سکیں - مگر ایک چور کو آفت میں دیکھ کر دوسرا چور اس کی آڑ لیتا ہے- بدی سے سب نفرت کرتے ہیں اس لئے بدوں کی باہمی محبت ہوتی ہے- نیکی کی ساری دنیا تعریف کرتی ہے اس لئے نیکوں میں مخالفت ہوتی ہے-
    (پریم چند کے افسانے سے اقتباس)
  5. Uzee Khan
    کہتے ہیں کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ  اور اگر رنگ پہ لگ گیا زنگ تو پھر کسی کام نہ آے گا ڈھنگ بچے کریں گے تنگ اور زندگی میں نہ ہوگا ترنگ  جی ہاں کچھ یہی کہنا ہے آپکی ہماری بلکہ پورے پاکستان کی زبیدہ آپا کا – اب آپ کہیں گے عمر کے اس حصے میں زبیدہ آپا کو رنگ کا کیوں خیال آیا تو میرے عزیز آپ نے وہ ضرب المثل بڈھی گھوڑی لال لگام تو سنی ہی ہوگی ارے ارے یہ آپ کیا سوچ رہے ہیں زبیدہ آپا کو گورے رنگ کی کیا ضرورت وہ تو ماشا الله گلاب رنگت کی مالک ہیں اور آپا اپنے لئے نہیں بلکہ دیس میں بسنے والی شادی شدہ اور غیر شادی شدہ تمام صنف نازک کی فلاح و بہبود کا بیڑا اٹھاے صابن بیچ رہی ہیں اور حیران کن طور پر اس میں عمر کی کوئی قید نہیں اور ویسے بھی بنت حوا عمر کے معاملے میں انتہائی حساس طبیعت کی مالک ہے-
  6. Uzee Khan
    ایک ٹی وی صحافی ایک کسان کا انٹرویو لے رہا تھا ...
    صحافی: آپ بکرے کو کیا کھلاتے ہیں ... ؟؟
    کسان: سیاہ یا سفید کو ... ؟؟
    صحافی: سفید کو ..
    کسان: گھاس ..
    صحافی: اور سیاہ کو ... ؟؟
    کسان: اس بھی گھاس ..
    صحافی: آپ ان بکروں کو باندھتے کہاں ہو ... ؟؟
    کسان: سیاہ یا سفید کو ... ؟؟
    صحافی: سفید کو ..
    کسان: باہر کے کمرے میں ..
    صحافی: اور سیاہ کو ... ؟؟
    کسان: اس بھی باہر کے کمرے میں ...
    صحافی: اور انہیں نهلاتے کس طرح ہو ... ؟؟
    کسان: کسے سیاہ یا سفید کو ... ؟؟
    صحافی: سیاہ کو ..
    کسان: جی پانی سے ..
    صحافی: اور سفید کو ... ؟؟
    کسان: جی اس بھی پانی سے ..
    صحافی کا غصہ ساتویں آسمان پر، بولا: کمینے! جب دونوں کے ساتھ سب کچھ ایک جیسا کرتا ہے تو مجھے بار بار کیوں پوچھتا ہے .. سیاہ یا سفید ... ؟؟؟؟
    کسان: کیونکہ سیاہ بکرا میرا ہے ...
    صحافی: اور سفید بکرا ... ؟؟
    کسان: وہ بھی میرا ہے ...
    صحافی بے ہوش ...
    ہوش آنے پہ کسان بولا اب پتہ چلا کمینے جب تم ایک ہی news کو سارا دن گھما پھرا کے دکھاتے ہو ہم بھی ایسے ہی
    دکھی ہوتے ہیں
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...