Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'mohsin naqvi'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 20 results

  1. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  2. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  3. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  4. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  5. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  6. .درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
  7. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
  8. Mai Dil Pe jabar Kero Ga, Tuje Bhula Dun Ga میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی میرے گھر کا ہی کیوں‌ مقدر ہو ؟ میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسماں کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، نشانیاں تیری میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا محسن نقوی
  9. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  10. یہ سال بھی اُداس رہا رُوٹھ کر گیا تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا عُمرِ رَواں خزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں صحرا بھی میرے گھر کے دروبام پر گیا دل میں چٹختے چٹختے وہموں کے بوجھ سے وہ خوف تھا کہ رات مَیں سوتے میں ڈر گیا جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا ہم عکسِ خونِ دل ہی لُٹاتے پھرے مگر وہ شخص آنسوؤں کی دھنک میں نکھر گیا محسن یہ رنگ رُوپ یہ رونق بجا مگر میں زندہ کیا رہوں کہ مِرا جی تو بھر گیا محسن نقوی
  11. Bajiz hawa koi jaane na silsile tere ! ! ﺑﺠﺰ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ، ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ؟ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻧﮕﺎﺭِ ﭼﻤﻦ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﮏ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻼ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺗﯿﺮﮮ ! ﺟﺪﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺭﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻼﺅﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻭﮦ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﺗﯿﺮﮮ ، ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺴﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﮐﺮﻭﭨﯿﮟ ﺷﺐِ ﻏﻢ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ محسن نقوی
    Love Waiting Rain Feel
  12. CHAHRA PARHTA, ANKHAIN LIKHTA REHTA HUN چہرے پڑھتا، آنکھيں لکھتا رہتا ہوں ميں بھي کيسي باتيں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جيسے لگتے ہيں اور بانہوں کو شاخيں لکھتا رہتا ہوں مجھ کو خط لکھنے کے تيور بھول گئے آڑي ترچھي سطريں لکھتا رہتا ہوں تيرے ہجر ميں اور مجھے کيا کرنا ہے؟ تيرے نام کتابيں لکھتا رہتا ہوں تيري زلف کے سائے دھيان ميں رہتے ہيں ميں صبحوں کي شاميں لکھتا رہتا ہوں اپنے پيار کي پھول مہکتي راہوں ميں لوگوں کي ديواريں لکھتا رہتا ہوں تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا ہجر کي ساري باتيں لکھتا رہتا ہوں سوکھے پھول، کتابيں، زخم جدائی کے تيري سب سوغاتيں لکھتا رہتا ہوں اس کي بھيگي پلکيں ہستي رہتي ہيں محسن جب تک غزليں لکھتا رہتا ہوں
  13. IK DIYA DIL MAI JALANA BHI, BUJHA BHI DENA اک دیا دل میں جلانا بھی، بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اسے روز، بھلا بھی دینا کیا کہوں میری چاہت ہے یا نفرت اس کی نام لکھنا بھی میرا، لکھ کے مٹا بھی دینا پھر نہ ملنے کو بچھڑتا ہوں تجھ سے لیکن مڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے اس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا صورتِ نقش ِ قدم، دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
  14. Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
  15. محسن نقوی کی ایک منقبت ، حسین کے چاہنے والوں کے نام نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ جہانِ عزمِ وفا کا پیکر خِرد کا مرکز، جنوں کا محور جمالِ زھراسلام اللہ علیہا ، جلالِ حیدر ضمیرِ انساں، نصیرِ داور زمیں کا دل، آسماں کا یاور دیارِ صبر و رضا کا دلبر کمالِ ایثار کا پیمبر شعورِ امن و سکوں کا پیکر جبینِ انسانیت کا جھُومر عرب کا سہرا، عجم کا زیور حسین تصویرِ انبیاء ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اہلِ وفا کی بستی حسین آئینِ حق پرستی حسین صدق و صفا کا ساقی حسین چشمِ اَنا کی مستی حسین پیش از عدم، تصور حسین بعد از قیامِ ہستی حسین نے زندگی بکھیری فضا سے ورنہ قضا برستی عروجِ ہفت آسمانِ عظمت حسین کے نقشِ پا کی مستی حسین کو خُلد میں نہ ڈھونڈو حسین مہنگا ہے خلد سستی حسین مقسومِ دین و ایماں حسین مفہوم "ھَل اَتٰی" ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین دل ہے حسین جاں ہے حسین قرآن کی زباں ہے حسین عرفاں کی سلطنت ہے حسین اسرا ر کا جہاں ہے حسین سجدوں کی سر زمیں ہے حسین ذہنوں کا آسماں ہے حسین زخموں بھری جبیں ہے حسین عظمت کا آستاں ہے ! اُٹھا رہا ہے جو لاشِ اکبر حسین بوڑھا نہیں جواں ہے وہ سر خروئے نشیبِ صحرا وہ سربلندِ سر سناں ہے ! وہ بدرِ افلاک آدمیّت وہ صدرِ اربابِ کربلا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ایماں کی جستجو ہے حسین یزداں کی آبرو ہے حسین تنہا تھا کربلا میں حسین کا ذکر چار سو ہے فرات کی نبض رُک گئی ہے؟ حسین مصروفِ گفتگو ہے جہاں گلابوں سے اٹ گیا ہے حسین شاید لہو لہو ہے حیات کے ارتقا سے پوچھو حسین پیغمبرِ نمو ہے حسین کو حوصلہ نہ پوچھو حسین لُٹ کر بھی سُرخرو ہے وہ دیکھ فوجوں کے درمیاں بھی حسین تنہا ڈٹا ہواہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے حسین نِکھرا ہُوا قلندر حسین بھپرا ہُوا سمندر حسین بستے دلوں سے آگے حسین اُجڑے دلوں کے اندر حسین سلطانِ دین و ایماں حسین افکار کا سکندر ! حسین سے آدمی کا رُتبہ حسین ہے آدمی کا "مَن دَر" خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے حسین کی سلطنت کے اندر حسین داتا، حسین راجہ حسین بھگوان، حسین سُندر حسین آکاش کا رشی ہے حسین دھرتی کی آتما ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ، میدان کا سپاہی حسین دشتِ اَنا کا راہی حسین فرقِ اَجل کا بَل ہے ! حسین انداز، کجکلاہی ! حسین کی گردَ پا، زمانہ حسین کی ٹھوکروں میں‌ شاہی حسین معراجِ فقرِ عالم حسین ، رمزِ جہاں پناہی حسین ایقان کا مُنارہ حسین اوہام کی تباہی ضمیر انصاف کی لغت میں حسین معیارِ بےگناہی بنامِ جبر و غرورِ شاہی حسین غیرت کا فیصلہ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین فقرو اَنا کا غازی حسین جنگاہ میں‌ نمازی حسین حسنِ نیاز مندی حسین اعجازِ بے نیازی حسین آغازِ جاں نثاری حسین انجامِ جاں گدازی حسین توقیر کار بندی حسین تعبیر کار سازی حسین معجز نمائے دوراں حسین حق کی فسوں طرازی حسین ہارا تو یوں کہ جیسے حسین نے جیت لی ہو بازی حسین سارے جہاں کا وارث حسین کہنے کو بے نوا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ ! حسین پیغمبرِ بہاراں حسین تسکین دل فگاراں حسین میر حجاز ہستی حسین سالارِ شہسواراں کہ دیدہ و دل کے دشت وور میں حسین تمثیلِ ابر و باراں حسین تدبیرِ جاں فروشاں حسین تقدیرِ سوگواراں کبھی تو چشمِ ہنر سے دیکھو حسین رشکِ رُخِ نگاراں ! حسین حسنِ مہِ محرّم حسین ہی عید ِ روزہ داراں ! حسین سرمایہ انبیا کا حسین اعجازِ اولیا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اک دلنشیں کہانی حسین دستورِ حق کا بانی حسین عباس کا سراپا حسین اکبر کی نوجوانی حسین کردارِ اہلِ ایماں حسین معیارِ زندگانی حسین قاسم کی کم نمائی حسین اصغر کی بے زبانی حسین سجاد کی خموشی حسین باقر کی نوحہ خوانی حسین دجلہ کا خشک ساحل حسین صحرا کی بیکرانی حسین زینب سلام اللہ علیہا کی کسمپرسی حسین کلثوم سلام اللہ علیہا کی ردا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
  16. تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے Poet: Mohsin Naqvi تجھے اب کس لئے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رہتے
  17. متاعِ شام سفر بستیوں میں چھوڑ آئے بجھے چراغ تو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے ہم اپنی دربدری کے مشاہدے اکثر نصیحتوں کی طرح کمسنوں میں چھوڑ آئے خراج سیل بھلا اس سے بڑھ کر کیا ہو کہ لوگ کھلے مکان بھری بارشوں میں چھوڑ آئے گھرے ہیں لشکر اعدا میں اور سوچتے ہیں ہم اپنے تیر تو اپنی صفوں میں چھوڑ آئے کسے خبر ہے کہ زخمی غزال کس کے لئے نشان لہو کے گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے ہمارے بعد بھی رونق رہے گی مقتل میں ہم اہلِ دل کو بڑے حوصلوں میں چھوڑ آئے اّیں گے کیا وہ پرندے جو اپنے رزق سمیت سفر کا شوق بھی ٹوٹے پروں میں چھوڑ آئے سدا سُکھی رہیں چہرے وہ ہم جنہیں محسن بجھے گھروں کی کھلی کھڑکیوں میں چھوڑ آئے سید محسن نقوی
  18. اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ابر کی زد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا ,, اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے اب تک زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا ,, موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا ,, تیرے چہرے کی تپش تھی کہ پلٹ کر دیکھا ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا ,, آگ کی ضد میں نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے راکھ کی تہہ میںشرارہ نہیں دیکھا جاتا ,, زخم آنکھوں کے بھی ملتے تھے کبھی دل والے اب تو ابرو کا اشارہ نہیں دیکھا جاتا ,, کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا کلامِ محسن نقوی,,,!!
  19. ،رہ وفا کے لیے ساز و رخت جمع کروں کہاں تلک جگر لخت لخت جمع کروں؟ ،کمک ملی ہے تو ادھڑی زمیں پہ سوچتا ہوں ،کہ پھر سے مہر و علم، تاج و تخت جمع کروں ،میں زخم زخم سہی پھر بھی ضد غنیم کی ہے ،کہ دست بستہ سبھی سنگ سخت جمع کروں ،لگاؤں پھر سے"پنیری" جلی زمینوں میں ،میں آندھیوں کے لیے پھر درخت جمع کروں ،زر دعا نہ اڑا لے ہوا تو میں بھی کبھی ،بجھے بجھے ہوئے ہاتھوں پہ بخت جمع کروں ،جلوس اہل "بغاوت" کی دھن ہے گر محسن ،تو ہاتھ کھردرے، چہرے کرخت جمع کروں "محسن نقوی"
  20. اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑھ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں ۔ کیوں تیرے درد کو دیں تہمت ویرانی دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں ۔ موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں ۔ اب کوئی کیا میرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں ۔ شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں ۔ سوچ کا آئینہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں ۔ شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں ۔ وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں ۔
×
×
  • Create New...