Mohsin Naqvi
49 topics in this forum
-
- 1 reply
- 2.4k views
میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 48 replies
- 14k views
ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺴﻦ ” ﺟﻮ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 2.9k views
درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے ن…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 2.1k views
Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 7.2k views
بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 2.1k views
Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے …
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.8k views
.درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
Last reply by Zarnish Ali, -
- 4 replies
- 2.2k views
اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
Last reply by Kainat Khan, -
- 4 replies
- 4.9k views
Us ka mila ik khuwab lagta hai اس کا ملنا اک خواب لگتا ہے میرے ہر سوال کا وہ جواب لگتا ہے اس کہ چہرے پہ نظر نہیں ٹھہرتی جب اسے دیکھوں وہ مہتاب لگتاہے وہ مجھے اپنے پاس آنے نہیں دیتا اس سے دور رہنامجھے عذاب لگتا ہے جس کہ ہر باب کاعنوان محبت ہے وہ مجھے ایسی کوئی کتاب لگتا ہے آہینہ بھی اسےدیکھ کر شرماتاہوگا کسی پری جیسا اس کا شباب لگتا ہے
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.7k views
Mai Dil Pe jabar Kero Ga, Tuje Bhula Dun Ga میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی میرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو ؟ میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسماں کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، نشانیاں تیری میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 2k views
Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.2k views
یہ سال بھی اُداس رہا رُوٹھ کر گیا تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا عُمرِ رَواں خزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں صحرا بھی میرے گھر کے دروبام پر گیا دل میں چٹختے چٹختے وہموں کے بوجھ سے وہ خوف تھا کہ رات مَیں سوتے میں ڈر گیا جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا ہم عکسِ خونِ دل ہی لُٹاتے پھرے مگر وہ شخص آنسوؤں کی دھنک میں نکھر گیا محسن یہ رنگ رُوپ یہ رونق بجا مگر میں زندہ کیا رہوں کہ مِرا جی تو بھر گیا محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.2k views
ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ہے زندگی اب کہاں گزرتی ہے درد کی شام، دشتِ ہجراں سے صُورتِ کارواں گزرتی ہے شب گراتی ہے بجلیاں دل پر صبح آتش بجاں گزرتی ہے زخم پہلے مہکنے لگتے تھے اب ہوا بے نشاں گزرتی ہے تُو خفا ہے تو دل سے یاد تری کس لیے مہرباں گزرتی ہے اپنی گلیوں سے امن کی خواہش تن پہ اوڑھے دھواں گزرتی ہے مسکرایا نہ کر کہ محسن پر یہ سخاوت گراں گزرتی ہے (محسن نقوی)
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.8k views
Bajiz hawa koi jaane na silsile tere ! ! ﺑﺠﺰ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ، ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ؟ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻧﮕﺎﺭِ ﭼﻤﻦ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﮏ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻼ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺗﯿﺮﮮ ! ﺟﺪﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺭﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻼﺅﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻭﮦ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﺗﯿﺮﮮ ، ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﻓ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.8k views
CHAHRA PARHTA, ANKHAIN LIKHTA REHTA HUN چہرے پڑھتا، آنکھيں لکھتا رہتا ہوں ميں بھي کيسي باتيں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جيسے لگتے ہيں اور بانہوں کو شاخيں لکھتا رہتا ہوں مجھ کو خط لکھنے کے تيور بھول گئے آڑي ترچھي سطريں لکھتا رہتا ہوں تيرے ہجر ميں اور مجھے کيا کرنا ہے؟ تيرے نام کتابيں لکھتا رہتا ہوں تيري زلف کے سائے دھيان ميں رہتے ہيں ميں صبحوں کي شاميں لکھتا رہتا ہوں اپنے پيار کي پھول مہکتي راہوں ميں لوگوں کي ديواريں لکھتا رہتا ہوں تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا ہجر کي ساري باتيں لکھتا رہتا ہوں سوکھے پھول، کتابيں، زخم جدائی کے تيري سب سوغاتيں لکھتا رہتا ہوں اس کي بھيگي پلکيں ہستي رہتي ہيں محسن ج…
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.8k views
ﻋﺠﺐ ﺧﻮﻑ ﻣﺴﻠﻂ ﺗﮭﺎ ﮐﻞ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻼﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺳﻨﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ﻣﮕﺮ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻧﭗ ﺯﮨﺮ ﭼﮭﮍﮐﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﭼﻨﺒﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﻭﺍﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﺎ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺍﺱ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺟﻼ ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﺳﺘﻢ ﻧﺎ ﮐﺮ ﯾﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ! ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.7k views
IK DIYA DIL MAI JALANA BHI, BUJHA BHI DENA اک دیا دل میں جلانا بھی، بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اسے روز، بھلا بھی دینا کیا کہوں میری چاہت ہے یا نفرت اس کی نام لکھنا بھی میرا، لکھ کے مٹا بھی دینا پھر نہ ملنے کو بچھڑتا ہوں تجھ سے لیکن مڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے اس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا صورتِ نقش ِ قدم، دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 3.4k views
HER IK ZAKHM KA CHAHRA GILLA JESA HAI ہر ايک زخم کا چہرہ گلا جيسا ہے مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جييسا ہے يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 2k views
Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2k views
کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2k views
Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Kisi Ke Door Jane Se, Taluq Toot Jane Se, Kisi Ke Maan Jane Se, Kisi Ke Rooth Jane Se, Mujhe Ab Dar Nahi Lagta! Kisi Ko Aazmane Se, Kisi Ke Aazmane Se. Kisi Ko Yaad Karne Se. Kisi Ko Bhool Jane Se, Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Kisi Ko Chor Dene Se, Kisi Ke Chor Jane Se. Na Samaa Jalane Se, Na Sama Bujhane Se, Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Akele Muskurane Se Kabhi Aansu Bahane Se Na Is Sare Zamane Se Haqeeqat Se Fasane Se Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Kisi Ki Naa_Rasai Se Kisi Ke Paa_Rsai Se Kisi Ki Bewafai Se Kisi Dukh Intehai Se Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Na To Is Paar Rehne Se Na To Us Paar …
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.3k views
یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو ک…
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.3k views
ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﻔﺮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﻮ ﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ! ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮑﻮﺕ ِ ﺷﺐ ِ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ِ ﺟﺎﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻣﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.9k views
یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا صِرف ایک تلخ بات سُنانے سے پیشتر کانوں میں پُھول پُھول کا رس گھولنا پڑا اپنے خطوں کے لفظ، جلانے پڑے مجھے شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم پُھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا سُنتے تھے اُ س کی بزمِ سُخن نا شناس ہے محسنؔ ہمیں وہاں بھی سُخن تولنا پڑا
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 4.9k views
میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.4k views
مل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا دل کو کچھ دیر تو مصروفِ دُعا رکھنا تھا میں نا کہتا تھا کے سانپوں سے اَٹے ہیں راستے گھر سے نکلے تھے تو ہاتھوں میں عصا رکھنا تھا بات جب ترکِ تعلق پہ ہی ٹھہری تھی تو پھر دل میں احساسِ غمِ یار بھی کیا رکھنا تھا دامن موجِ ہوا یوں تو نا خالی جاتا گھر کی دہلیز پہ کوئی تو دِیا رکھنا تھا کوئی جگنو تہہِ داماں بھی چھپا سکتے تھے کوئی آنسو پسِ مژگاں ہی بچا رکھنا تھا کیا خبر اُس کے تعاقب میں ہوں کتنی سوچیں ¿ اپنا انداز تو اوروں سے جدا رکھنا تھا چاندنی بند کواڑوں میں کہاں اُترے گی ¿ اِک دریچہ تو بھرے گھر میں کھلا رکھنا تھا اُس کی خوشبو سے سجانا تھا جو دل کو محسؔن اُس کی سانسوں کا لقب موجِ صبا رکھنا تھا (محسن نقو…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.4k views
Chahat ka rang th na wafa ki lakeer thi چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي قاتل کے ہاتھ ميں تو حنا کي لکير تھي خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا ميرے لبوں پہ حرف دعا کي لکير تھي ميں کارواں کي راہ سمجھتا رہا جسے صحرا کي ريت پر وہ ہوا کي لکير تھي سورج کو جس نے شب کے اندھيروں ميں گم کيا موج شفق نہ تھي وہ قضا کي لکير تھي گزرا ہے سب کو دشت سے شايد وہ پردہ دار ہر نقش پا کے ساتھ ردا کي لکير تھي کل اس کا خط ملا کہ صحيفہ وفا کا تھا محسن ہر ايک سطر حيا کي لکير تھي
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 2.4k views
ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری ر…
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.9k views
سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.4k views
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮔُﻼﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﭼﮭﻨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻟﮩﺠﮧ ﺷﺮﺍﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﮭﭩﺎ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﺪﻭﺧﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺯﺑﺎﮞ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ ﻟﻮﮒ ﺳُﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔﮭﻞ ﻣﻞ ﮐﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﻤﺎ ﺳﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺻﻮﺭﺕِ ﺳﺎﯾﮧ ﻭ ﺳﺤﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﺬﺭ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟ…
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
