Zarnish Ali👑 Posted February 13, 2017 Posted February 13, 2017 اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی 3
Anabiya Haseeb👑 Posted February 13, 2017 Posted February 13, 2017 Hayyy gham o dard se choor hen hum... Wahhhhhhh 4
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now