Zarnish Ali👑 Posted January 4, 2017 Posted January 4, 2017 سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی 4
jannat malik👑 Posted January 4, 2017 Posted January 4, 2017 Waaahhhh kmaaallll مغرور ہی سہی، مجھے اچھا بہت لگا وہ اجنبی تو تھا مگر اپنا بہت لگا روٹھا ہوا تھا ہنس تو پڑا مجھ کو دیکھ کر مجھ کو تو اس قدر بھی دلاسا بہت لگا صحرا میں جی رہا تھا جو دریا دلی کے ساتھ دیکھا جو غور سے تو وہ پیاسا بہت لگا وہ جس کے دم قدم سے تھیں بستی کی رونقیں بستی اجڑ گئی تو اکیلا بہت لگا لپٹا ہوا کہر میں ہو جیسے خزاں کا چاند میلے لباس میں بھی وہ پیارا بہت لگا ریشم پہن کے بھی مری قیمت نہ بڑھ سکی کھدر بھی اس کے جسم پہ مہنگا بہت لگا محسن جب آئینے پہ میری سانس جم گئی مجھ کو خود اپنا عکس بھی دھندلا بہت لگا 3
waqas dar⚙ Posted January 5, 2017 Posted January 5, 2017 پھر تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھر میرے دل میں اٹها شور ہواؤں جیسا بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسن اس کی زلف نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now