Jump to content

Recommended Posts

Posted

سفر تنہا نہیں کرتے
سنو ایسا نہیں کرتے
جسے شفاف رکھنا ہو
اُسے میلا نہیں کرتے
تیری آنکھیں اجازت دیں
تو ہم کیا نہیں کرتے
بہت اُجڑے ہوئے گھر پر
بہت سوچا نہیں کرتے
سفر جس کا مقدر ہو
اُسے روکا نہیں کرتے
جو مل کر خود سے کھو جائے
اسے رسوا نہیں کرتے
یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں
کہیں سایہ نہیں کرتے
کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں
کبھی رویا نہیں کرتے
تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں
تجھے دیکھا نہیں کرتے
چلو تم راز ہو اپنا
تمہیں افشا نہیں کرتے
سحر سے پوچھ لو محسن
ہم سویا نہیں کرتے
محسن نقوی

03.jpg

Posted

Waaahhhh kmaaallll

 


مغرور ہی سہی، مجھے اچھا بہت لگا
وہ اجنبی تو تھا مگر اپنا بہت لگا
روٹھا ہوا تھا ہنس تو پڑا مجھ کو دیکھ کر
مجھ کو تو اس قدر بھی دلاسا بہت لگا
صحرا میں جی رہا تھا جو دریا دلی کے ساتھ
دیکھا جو غور سے تو وہ پیاسا بہت لگا
وہ جس کے دم قدم سے تھیں بستی کی رونقیں
بستی اجڑ گئی تو اکیلا بہت لگا
لپٹا ہوا کہر میں ہو جیسے خزاں کا چاند
میلے لباس میں بھی وہ پیارا بہت لگا
ریشم پہن کے بھی مری قیمت نہ بڑھ سکی
کھدر بھی اس کے جسم پہ مہنگا بہت لگا
محسن جب آئینے پہ میری سانس جم گئی
مجھ کو خود اپنا عکس بھی دھندلا بہت لگا

Posted

 

پھر تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر میرے دل میں اٹها شور ہواؤں جیسا
بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسن
اس کی زلف نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.