Zarnish Ali👑 Posted February 26, 2017 Posted February 26, 2017 میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی 4
waqas dar⚙ Posted April 23, 2018 Posted April 23, 2018 دل یوں دھڑکا کہ پریشان ہوا ہو جیسے. کوئی بے دھیانی میں نقصان ہوا ہو جیسے. رخ بدلتا ہوں تو شہ رگ میں چبھن ہوتی ہے عشق بھی جنگ کا میدان ہوا ہو جیسے. جسم یوں لمس رفاقت کے اثر سے نکلا دوسرے دور کا سامان ہوا ہو جیسے. دل نے یوں پھر میرے سینے میں فقیری رکھ دی ٹوٹ کر خد ہی پشیمان ہوا ہو جیسے. تھام کر ہاتھ میرا ایسے وہ رویا محسن کوئی کافر سے مسلمان ہوا ہو جیسے. محسن نقوی
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now