Jump to content

Recommended Posts

Posted

میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا
وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی

وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے
وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی

وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں
میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی

دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں
وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی

اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی
وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی

اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں
وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی

بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن
وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی

محسن نقوی

 

00000.jpg

  • 1 year later...
Posted

دل یوں دھڑکا کہ پریشان ہوا ہو جیسے.
کوئی بے دھیانی میں نقصان ہوا ہو جیسے.

رخ بدلتا ہوں تو شہ رگ میں چبھن ہوتی ہے
عشق بھی جنگ کا میدان ہوا ہو جیسے.

جسم یوں لمس رفاقت کے اثر سے نکلا
دوسرے دور کا سامان ہوا ہو جیسے.

دل نے یوں پھر میرے سینے میں فقیری رکھ دی
ٹوٹ کر خد ہی پشیمان ہوا ہو جیسے.

تھام کر ہاتھ میرا ایسے وہ رویا محسن
کوئی کافر سے مسلمان ہوا ہو جیسے.

محسن نقوی

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.